طالبان کے’غیر معمولی تشدد‘ کا سلسلہ جاری رہے گا، رپورٹ

Taliban

Taliban

افغانستان (اصل میڈیا ڈیسک) اقوام متحدہ کے ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور امن مذاکرات میں بالادستی کے لیے طالبان ‘غیر معمولی‘ تشدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

طالبان کے خلاف عائد پابندیو ں پر نگاہ رکھنے والی اقوام متحدہ کے ماہرین کی کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے طالبان کی طرف سے افغانستان میں تشدد کی سطح میں کمی کی کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی۔

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بالادستی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سن 2020 میں ہونے والے ‘تشدد کے غیر معمولی واقعات‘ کا سلسلہ سن 2021 میں بھی جاری رہے گا۔

جمعے کے روز جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ طالبان گزشتہ برس امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی، تکنیکی طور پر، ابھی تک تعمیل کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اختیارات پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔

طالبان ملک کی نصف سے زیادہ ضلعی انتظامیہ کو براہ راست کنٹرول کر رہے ہیں اور شہری علاقوں سے باہر 70 فیصد علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے، ”طالبان کے بیانات اور موسم گرما میں جنگ کے لیے ان کی زبردست تیاریوں کی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس گروپ نے سن 2021 کے لیے اپنی فوجی تیاریاں غالباً تیز کردی ہیں، بھلے ہی وہ ان حملوں کا اعلان کریں یا نہیں۔‘‘

ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قتل کے بیشتر واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔ حکومتی عہدیداروں، خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں وغیرہ کوتشدد کا نشانہ بنانا اب معمول کی بات ہوگئی ہے۔ یہ حملے ‘حکومت کو کمزور کرنے اور سول سوسائٹی کو ڈرانے دھمکانے کے مقصد‘ سے کیے جاتے ہیں۔

بائیس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال گیارہ ستمبر تک امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد، ”افغان سکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج بڑھ جائے گا، ان کی فضائی کارروائیاں محدود ہوجائیں گی کیونکہ ان کے پاس ڈرونز اور رڈار نیز سرویلنس کی صلاحیت بہت کم ہو گی۔ ان کی لاجیسٹک امداد بھی کم ہو جائے گی اور ان کی تربیت میں خلل پڑے گا۔‘‘

ماہرین نے سوال کیا ہے کہ اتحادی فورسز کے تعاون کے بغیر افغان فورسیز کس طرح مقابلہ کر سکیں گی۔

رپورٹ کے مطابق، ”افغان فورسز نے بین الاقوامی فورسز کی مدد سے طالبان کی بہت سی کامیابیوں کو ناکامی میں تبدیل کر دیا حالانکہ اس میں ان کا جانی نقصان بھی کافی ہوا۔ لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ بین الاقوامی فورسز کے تعاون کے بغیر افغان سکیورٹی فورسز کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔‘‘

امریکا کے ساتھ طالبان نے جو معاہدہ کیا تھا اس میں طالبان کو نہ صرف تشدد کو کم کرنا ہے بلکہ القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنا بھی معاہدے میں شامل ہے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں کم ہی ثبوت ہیں جو ظاہر کرتے ہوں کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہوں۔

سلامتی کونسل کو پیش کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا، ”اس کے برعکس، خفیہ معلومات یہ ظاہر کرتی ہی کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات ذاتی مراسم، آپس میں شادیوں اور مشترکہ مزاحمت کے سبب مزید گہرے ہو گئے ہیں اور اب یہ تعلقات دوسری نسل تک منتقل ہو چکے ہیں۔‘‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے یہ رپورٹ دشمن کی ایجنسیوں کی اطلاعات پر مرتب کی گئی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان کے مطابق اس طرح کی یک طرفہ رپورٹیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہیں اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ‘اسلامی امارات‘ کے نمائندے بین الافغان مذاکرات کی میز پر جانے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ہو اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد ہو سکے۔