fbpx

طالبان کے ’گڑھ‘ قندھار میں طالبان کے خلاف مظاہرہ

Protest

Protest

قندھار (اصل میڈیا ڈیسک) افغانستان میں طالبان کو غلبہ حاصل کیے قریب ایک ماہ ہو گیا ہے۔ مختلف شہروں سے طالبان اقدامات کے خلاف مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے قندھار میں بھی ہزاروں افراد ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے۔

جنوبی افغان شہر قندھار میں ہزاروں افراد ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اس مظاہرے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے کیے جانے والے اس احتجاج میں کمسن بچے بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس موقع پر تین ہزار خاندان احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔

ایک سابق حکومتی اہلکار کے مطابق اس مظاہرے میں وہ افراد شریک تھے، جنہیں طالبان نے ایک علاقے سے بیدخل کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

طالبان نے ایک سابقہ فوجی کالونی کے مکینوں کو اسے فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے تحت تمام رہائشی خاندانوں کو تین دن کے اندر اندر اپنے مکانات خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس حکم میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سابقہ فوجی کالونی کو خالی کروا کر طالبان اسے کس مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس سابقہ فوجی کالونی میں قریب تین ہزار خاندان ہی ہیں اور وہ برسوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ اس مظاہرے کے وقت ارد گرد کئی سابقہ حکومتی اہلکار اور دوسرے لوگ بھی جمع ہو گئے، جس سے یہ مجمع اور بڑھا دکھائی دینے لگا تھا۔ مقامی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کے سامنے سے گزرنے والی اہم سڑک کو بلاک کر دیا تھا۔

قندھار شہر کی اس کالونی میں زیادہ تر خاندانوں کا تعلق سابقہ فوجی افسران سے ہے۔ ان میں کئی ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہیں، جو برسوں سے اس علاقے میں مقیم ہیں۔ بقیہ خاندانوں کا تعلق بھی سابقہ افغان سکیورٹی اداروں کے ملازمین سے بتایا گیا ہے۔ کئی خاندان اس علاقے میں گزشتہ تیس برسوں سے رہائش رکھتے ہیں۔ طالبان نے اس صورت حال پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

افغانستان میں سے امریکی فوج کے انخلا اور سابق صدر اشرف غنی کے فرار کے بعد زوال پذیر ہونے والی حکومت نے طالبان کو سارے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی راہ کو ہموار کیا تھا۔ اب سخت گیر مذہبی عقیدے کے حامل طالبان کو سارے ملک پر کنٹرول حاصل کیے قریب ایک ماہ ہو گیا ہے۔

اس دوران مختلف مقامات پر مظاہروں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایسا بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سخت کارروائی بھی کی گئی اور ان میں کئی جگہوں پر ہلاکتیں بھی ہوئیں تھیں لیکن اس بابت مصدقہ اطلاعات دستیاب نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بتدریج پرامن مظاہروں کو منتشر کرتے وقت طالبان کا ردعمل متشددانہ ہوتا جا رہا ہے۔