‘سوچتی تھی وہیں مر جاؤں گی’: 18 گھنٹے بعد برفانی تودے سے لڑکی کو زندہ نکال لیا گیا

Samina

Samina

مظفر آباد (اصل میڈیا ڈیسک) آزاد کشمیر کے علاقے مظفر آباد میں برفانی تودے میں 18 گھنٹے تک پھنسی رہنے والی 12 سالہ لڑکی کو زندہ نکال لیا گیا۔

آزاد کشمیر میں دو روز قبل برفانی تودہ گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 76 ہو چکی ہے جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

12 سالہ ثمینہ کا شمار ان خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے جو برف کے ملبے تلے 18 گھنٹے تک پھنسی رہنے کے بعد بھی زندہ رہیں۔

ثمینہ مظفرآباد کے ایک اسپتال میں اس وقت زیر علاج ہیں جہاں انہوں نے بتایا کہ میں سوچتی تھی کہ میں وہیں مر جاؤں گی کیونکہ ریسکیو ہونے کا انتظار کرتے ہوئے میں سو نہیں سکی تھی، میری ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور منہ سے خون بھی نکل رہا تھا۔

ثمینہ کی والدہ شہناز بی بی نے اپنی بیٹی کے زندہ لوٹنے کی امید ہی چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کو کھو چکی ہیں تاہم ثمینہ کا زندہ بچ جانا ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔

والدہ نے بتایا کہ برفانی تودہ گرنے سے تین منزلہ عمارت تباہ ہوئی اور یہ سب پلک جھپکتے ہی ہو گیا، پورا گھر برفانی تودے کی لپیٹ میں آگیا لیکن حادثے سے قبل کوئی چینخ و پکار نہیں سنی گئی۔ اس حادثے میں عمارت کے تقریباً 18 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ادھر پاکستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا بتانا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو روز کے دوران برف سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ جمعے سے مزید برف باری کا امکان ہے۔