ٹرمپ منگل کی شام کو امن منصوبے کا اعلان کریں گے

Donald Trump

Donald Trump

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے ‘صدی کی ڈیل’ کا اعلان کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ ٹرمپ کل منگل 28 جنوری 2020ء کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے اعلان کریں گے۔

ادھر آج سوموار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریف بینی گینٹزکے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ٹرمپ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

ٹرمپ پہلے نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے اور پھر ان کے اہم سیاسی حریف سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ بینی گینٹز سے ملاقات کریں گے۔ ہوسکتا ہے یہ بات چیت آج سوموار اور کل منگل کو بھی امن منصوبے کے اعلان تک جاری رہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے اس منصوبے کی تفصیلات کے بارے میں سخت رازداری برقرار رکھی ہے۔ لیکن اسرائیلی اخبارات اور کچھ تجزیہ کاروں کے ذریعہ شائع ہونے والے لیکس اس منصوبے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ شام کے مقبوضہ علاقے وادی گولان پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرچکی ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں امریکی امن منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور صہیونی ریاست کا نام نہاد امن منصوبے آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اسکیم فلسطینی تحریک آزادی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرے گی مگر ہم امریکا کے مجوزہ امن پلان کو کامیاب نہیں ہونےدیں گے۔

اسماعیل ھنیہ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ حماس امریکی امن پلان کو “سازش” قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکی ہے۔ ہم اسے ایک جنگ سمجھتے ہیں اور اس سے پیچھے ہٹنا ہمارے لیے حرام ہے۔

ھنیہ کے اس اعلان کے بعد غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں۔

ادھر اتوار کی شام اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر بم باری کی ہے۔ یہ بمباری غزہ سے میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے جس میں حماس اور دوسرے فلسطینی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔