ترکی کی دھمکیوں سے خطرناک جنگ بھڑکنے کا اندیشہ ہے: سیرین ڈیموکریٹک

War

War

شام (اصل میڈیا ڈیسک) شامی ڈیموکریٹک کونسل کے ایک سینیر رہ نما نے دریائے فرات کے مشرق میں شام کے علاقوں پر بڑے زمینی حملہ کرنے کی حالیہ ترکی کی دھمکیوں کو “خطرناک” قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ترکی کے صدر نے مشرقی فرات کے علاقوں میں کرد عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں اور اس آپریشن کے لیے بری فوج اور فضائیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

شام کے ڈیموکریٹک فورسز کے سیاسی شعبے کے ایک رہ نما اور تنظیم کے چیف ایگزیکٹو الہام احمد نے کہا کہ “انقرہ کے عزائم خطرات اورسنگین ہیں اور وہ ایسی جنگ کو ہوا دینا چاہتے ہیں جس کے ساتھ سرحد کے دونوں طرف خاص طور پر ترکی کے اندر بڑے پیمانے پر انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی حکمراں جماعت ‘آق’ کی حکومت کی طرف سے اس مبینہ حملے کو جواز پیش کرنے کے لیے جو دلائل پیش کرتی ہے وہ ناقابل قبول ہیں۔ ترک صدر کے بیان نے واضح کر دیا ہے ترکی کی حکمران جماعت صرف جنگ چاہتی ہے اور امن پر یقین نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں طرف سے سرحد کے استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ترکی کے ساتھ بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انقرہ جنگ کے لیے پر مُصِر ہے۔ اس غیر قانونی جنگ سےبڑے پیمانے پر خون خرابی ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ لاکھوں لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرنے کے منصوبے پرعمل پیرا ہے۔

الھام احمد نے کہا کہ کرد قیادت نے حال ہی میں امریکا کا دورہ کیا۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ خطے کو ترک فوج کے لیے کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ شام کے شرفاء اور اس قوم کے بیٹے ترک فوج کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

کُرد لیڈر نے بتایا کہ ترکی کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں پر امریکا کا موقف دوٹوک اور واضح ہے۔ تُرکی کی طرف سے کی گئی فوجی مداخلت سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے توجہ ہٹانے کا موجب بنے گی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی تُرک یلغار سے خطےمیں لڑائیوں کا میدان کھلے گا۔ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تمام بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے شمالی شام میں فرات کے مشرق میں “دہشت گردوں” کے خلاف ایک فوری فوجی آپریشن شروع کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

یہ بات ہفتہ کے روز ترکی کے دارالحکومت “انقرہ” میں حکمراں جماعت “انصاف اور ترقی” کے 29 ویں سالانہ مشاورتی کنونشن اور جائزہ اجلاس سے خطاب میں کی۔

طیب ایردوآن ے کہا کہ “ہم نے فرات کے مشرق میں اپنی فوج کو ایک بڑے آپریشن کے لیے تیار کیا ہے۔ آپریشن کا منصوبہ مکمل کرلیا ہے اور اس پر ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔ آپریشن شروع ہونے کی تاریخ پر انہوں نے کہا کہ آج یا کل یہ آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ کہ ہم کہتے ہیں کہ بات ختم ہو گئی ہے۔ جو لوگ ہمارے چہرے پر مسکراہٹیں ڈالتے ہیں اور ہمارے ملک کو دہشت گرد تنظیم سے دور رکھنے کے لئے سفارتی مذاکرات کی باتیں کرتے ہیں۔