ٹویٹر کا نیا قانون: رضامندی کے بغیر تصویر شیئر کرنے پر پابندی

Twitter

Twitter

امریکا : ٹویٹر نے صارفین پر رضامندی کے بغیر کسی کی تصویر یا ویڈیو شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ نیا قانون بھارتی نژاد پرَاگ اگروال کے سی ای او کاعہدہ سنبھالنے کے ایک دن بعد نافذ کیا گیا ہے۔

دنیا کی معروف مائیکرو بلاگنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ سروس ٹویٹر نے اپنے صارفین کے لیے نئے ضابطوں کا اعلان کیا۔ اس کے تحت عوامی شخصیات کو چھوڑ کر صارفین کو کسی کی تصویریا ویڈیو اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اپنے نیٹ ورک پالیسیوں کو سخت کرتے ہوئے ٹوئٹر نے یہ قدم بھارتی نژاد نئے سی ای او کی تقرری کے ایک روز بعد اٹھایا ہے۔ نئے ضابطوں کے مطابق کوئی شخص ٹویٹر کو ایسی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتا ہے جو اس کی مرضی کے بغیر پوسٹ کی گئی ہوں۔

ٹویٹر نے ایک بلا گ پوسٹ میں کہا،” جب بھی ہمیں کسی فرد یا اس کے مقررہ نمائندے کی طرف سے یہ اطلاع دی جائے گی کہ اس کی ذاتی تصویر یا ویڈیو کو اس کی اجازت کے بغیر شیئر کیا گیا ہے تو ہم اسے ہٹا دیں گے۔‘‘

کمپنی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تصویروں کو شیئر کرنے کے حوالے سے ٹو یٹر کی اس پالیسی کا اطلاق ”عوامی شخصیات یا ان افراد پر نہیں ہوگا جنہیں عوامی مفاد میں ٹوئٹ کے متن کے ساتھ شیئر کیا گیا ہو یا جس سے پبلک ڈسکورس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہو۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی اس پس منظر کا تجزیہ کرنے کی ہمیشہ کوشش کرے گی جس میں مواد کو شیئر کیا گیا ہے اور اس طرح کے کیسز میں ہم ” اپنی سروس میں تصاویر یا ویڈیوز کو رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔‘‘

کسی فرد کی تصویر یا اس کے متعلق اعدادو شمار کی کسی تیسرے فریق کی طرف سے بالخصوص بدنیتی سے سوشل میڈیا پر اشاعت برسوں سے موضوع بحث رہاہے۔ ٹویٹر نے پرائیویسی پالیسی کے تحت پہلے سے ہی دوسرے افراد کے ذاتی معلومات مثلاً فون نمبر، پتے یا شناختی نمبر وغیرہ شیئر کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

ٹویٹر کا تاہم کہنا ہے کہ افراد کی شناخت عام کرنے، انہیں ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لیے مواد کے استعمال کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی نے ” اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ خواتین، کارکنوں، ناقدین اور اقلیتی فرقوں کے افراد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘

دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیم اسٹریمنگ سائیٹ’ ٹوئچ’ پر بڑے پیمانے پر نسلی، جنسی اور ہم جنس پرستی کے نام پر استحصال جیسے آن لائن ہراسانی کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ تاہم اس طرح کے ہراسانی کے علاوہ متاثرین کو توہین آمیز رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور آن لائن پلیٹ فارموں پر غیر قانونی طریقے سے شائع کی گئی تصویروں کو ہٹوانے کے لیے انہیں طویل قانونی چارہ جوئی کرنا پڑتی ہے۔

ٹویٹر کے بعض صارفین نے تاہم کمپنی سے کہا کہ وہ یہ واضح کرے کہ اس کی یہ سخت پالیسی کس طرح کام کرے گی۔

سٹی یونیورسٹی آف نیویارک میں صحافت کے پروفیسر جیف جارویز نے ایک ٹویٹ میں پوچھا ہے،” کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی تصویر اتارتا ہوں، مثلاً سینٹرل پارک میں کسی کنسرٹ کی تصویر، تو کیا مجھے اس میں نظر آنے والے ہر شخص سے اجازت لینا ہو گی؟ ‘‘

خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے کمپنی چھوڑنے اور سی ای او کی ذمہ داریاں بھارتی نژاد پراگ اگروال کے سپرد کرنے کا اعلان کیا تھا۔