میرے نبی کی شان میں گستاخی کرنے ولوں کا انجام

Protest

Protest

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

فرمانِ ربِ کائنات ہے ’’وما ارسلناک اِلارحمت اللعالمین‘‘(اے محمدﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کوئی میرے نبی کی شان میں گستاخی کرے اور مسلمان خاموش رہیں۔مگر ہم مسلمانوں کا اپنے نبی سے محبت کا تقاضہ ہے کہ کوئی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرے گا تو ہم اس گستاخ کی زبان گدی سے کھینچ لیں گے۔وہ چاہے کسی ملک کا ذلیلاور عقل سے عاری صدر ہو یا عام عیسائی ہویا کوئی اور ہو۔جو بھی ہمارے نبی کا گستاخ ہوگا وہ آئین اسلامی کے تحت قابلِ گردن زدنی ہوگا۔ ہم ان لوگوں کی طرح نیہں ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام، جیسے اپنے نبی کی تذلیل کریں اور خاموش بھی رہیں۔اہلِ کفر کا ہر فرد سُن لے ،ہم اپنے نبی کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کو قبول نہیں کریں گے اس کے لئے ہمیں چاہے جو قربانی دینی پڑ جائے۔

فرانس میں ایک بد معاش گندی فطرت کے اسکول ماسٹر نے میرے نبی کی شان میں گستاخانہ خاکے بنا کر اسکول میں لا کر دکھائے جس پر ایک مسلمان مجاہد طالبعلم نے اس گستاخِ نبی کی گردن ایک تیز دھار خنجر کے ایک ہی وار میں تن سے جدا کرکے اسے ہمیشہ کےلئے جہنم واصل کر دیا۔جس کے بعد عیسائی متعصب پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے بجائے فائر کر کے شہید کر دیا۔فرانس کے بے ضمیر صدر ایمانول میکرون نے اسلامو فوبیہ کے نشے میں اپنی سرکاری عمارتوں پر گستاخاںہ خاکے آویزان کرا دیئے۔جو سیکولرزم کا نعرہ لگا کر مذہبِ اسلام کی مسلسل توہین کا مرتکب ہو رہا ہے۔یہ بد معاژ میرے نبی کے شہر کے کتے کے پیر کی خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔کہ جب اس کتے کے دماغی توازن کے علاج کا طیب اردوان نے کہا تو اس کو اتنی تکلیف ہوئی کہ اس نے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ہمارامطالبہ یہ ہے کہ اس بے ہودگی پر تمام مسلمان ممالک اور اوآئی سی تنظیم کے ممالک اس کتادیش فرانس سے اپنے سفرائ کو واپس بلا کر اور فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ساری دنیاکو مسلمانوں کے جذبات کا واضح پیغام دیں۔

ساری دنیا کے مسلمان اپنے نبی کی حرمت پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حرمت رسول پر آمادہ سات سو حفاظ اور ان سے کہیں زیادہ عام لوگو کی شہادت ابتدائے اسلام میں ہی پیش کر دی تھی۔ناموس رسالت پر ہندو پاکستان میں شہید ہونے والےغازی علم دین شہید نے لاہور کے ایک ملعون ناشر ’’راج پال‘‘جس نے رسولِ کریم ﷺ کی توہین کی غرض سے ’’رنگیلا رسول‘‘ نامی کتاب شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات کی شدید توہین کی تھی21سالہ غازی علم دین نے اس شاتم رسول کو جہنم رسید کرکے وہ کارنامہ انجام دیدیا تھ۔ا۔جس کو تاریخ عالم کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔غازی علم دین نے 29اپرل 1929کواس ملعون راج پال شاتمِ رسول کوقتل کر کے واصلِ جہنم کر دیا۔جس کے نتیجے میں 22مئی 1929کوعدالت نے سزائے موت کا فوری حکم سُنا دیا۔اورسیشن کورٹ نے بھی غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی تو آئمہِ ملت نے لندن کی پریوی کونسل میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ذریعے اپیل داخل کی تو عیسائی متعصب عدالت نے یہاں بھی رحم کی اپیل کو مستردکرکے31،اکتوبر 1929،کو غازی علم دین کو تختہِ دار پر چڑھا کرنا موس رسالت کے جرم میں ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ شہید کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے شہید کو لہحد میں اتارا جس پر مولانا طٖر علی خان کا کہنا تھا کہ ’’کاش یہ مقام مجھے نصیب ہوا ہوتا‘‘

ایسے ہی ایک واقع پر کراچی میں ناتھو لال نامی بد معاش کو کراچی میں واصلِ جہنم کر دیا گیا تھا۔شاتم رسول سلمان تاثیر کا قتل بھی ممتاز قادری کے ہاتھوں ایسی ہی کیفیت میں ہواتھا۔اگر قانون پر عمل کیا جاتا تو ممتاز قادری کو اس ملعون کو واصلِ جہنم کرنے کی نوبت نہ آتی۔ایسا ہی ایک سورج 4،مئی 2006کوعامر چیمہ کی شکل میں ڈینمارک میں طلوع ہوا۔تین بہنوں کا اکلوتا بھائی جو جرمنی میں ٹیکسٹائل انجنئرنگ کا طالبعم تھا۔اس کی تعلیم کی تکمیل میں صرف دو ماہ باقی تھے۔غازی عامر عبدالرحمان چیمہ نے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ڈینمارک کے اخبار کے ایڈیٹر جس نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے،پر قاتلانہ حملہ کرکے اپنے نبی سے عقیدت کے اظہار کی کوشش کی توعیسائیوں کی پولیس نے اس کو پکڑ کر اس قدر بہیمان تشدد کیا کی وہ شہید ہوگئے۔جنہیں قوم نے غازی علم دین ثانی کے خطاب سے نوازا ۔

ہم اہلِ اسلام محمد ﷺ کے پیروکار اہلِ کفر کو یہ بتانے میں حق بجانب ہیں کہ جو کوئی بھی ہمارے بنی کی توہیں کریگا،ہم کوشش کریں گے کہ اس کو جہنم واصل کر دیاجائے۔میرے نبی کی توہین کرنے والوں کا انجام دنیا میں ہی جہنم واصل کرنے کی سزا آئینِ اسلامی کے مطابق ہے۔ہم ہر مذہب کے بڑوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں اور غیر مسلم کمیونیٹیز سے بھی یہ ہی توقع رکھتے ہیں۔کفر کی قوتیں نوٹ کر لیں ہم کسی کو بھی اپنے نبی کی توہیں کی اجازت نہیں دے سکتے۔۔

Shabbir Ahmed

Shabbir Ahmed

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

shabbirahmedkarachi@gmail.com