اردو ادب اور سر سید احمد خان

Sir Syed Ahmad Khan

Sir Syed Ahmad Khan

تحریر : عدیلہ نورین

اپنے اسلاف کو یاد کرنا کسی اکسیر اعظم سے کم نہیں ہوتا کیوں کے ہمارے اسلاف کی زندگی میں کامیابی کے راز مضمر ہوتے ہیں۔ سر سید احمد خان کی زندگی بھی کچھ اسی طرح کی زندگی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سیاسی، مذہبی، علمی، قومی، سیاسی، ادبی اور تحقیقی مشاغل میں حصہ لیا اور نہ صرف علمی میدان میں اپنا لوہا منوایا بلکہ ہر میدان میں گیرے اثرات چھوڑے۔ جہاں تک اردو ادب کا سوال ہے تو وہ اردو کے اولین معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں اردو ادب کا پہلا مضمون نگار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور جدید نثر کے بانی ہونے کا بھی۔ انہوں نے ادب برائے ادب کو ادب برائے زندگی قرار دیا اور ادب کو مقصدیت کا ذریعہ بنایا۔ اردو ادب کے پہلے نقاد اور ادیب ہونے کا سہرا بھی سر سید احمد خان کے سر ہے۔

انہوں نے نہ صرف اردو زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے ترقی دے کر اردو ادب کے ارتقا میں نمایاں حصہ لیا۔ انہوں نے اردو نثر کو اجتماعی مقاصد سے روشناس کرایا اور اسے عام فہم، آسان اور سلیس بنا کر عام زندگی کا ترجمان بنایا۔غرض اردو ادب جا بجا سر سید احمد خان کے احسانوں تلے دبا ہے۔

سر سید احمد خاں پہلے ادیب ہے جس نے اردو نثر کی خوبصورتی پر توجہ دینے کے بجائے مطلب نویسی پر زور دیا۔ اپنے اسلوب کے بارے میں خود سرسید احمد خان کا قول ہے: ”ہم نے انشائیہ کا ایسا طرز نکالا ہے جس میں ہر بات کو صاف صاف، جیسی کہ دل میں موجود ہو، منشیانہ تکلفات سے بچ کر، راست پیرایہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو بھی تلقین کی ہے“ سر سید احمد خان کی بہت سی تصانیف اردو ادب کے قیمتی سرمائے کے طور پر موجود ہیں۔ جام جم ان کی پہلی تصنیف ہے اس میں امیر تیمور سے بہادر شاہ ظفر تک کا تعارف موجود ہے۔

ان کی دیگر اہم تصانیف میں آثارالصنادید، اسبابِ بغاوت ہند، خطبات احمدیہ، تفسیرالقران، تاریخ سر کشی بجنور شامل ہیں۔ آثارالصنادید میں دہلی کی عمارتوں اور وہاں کے لوگوں کا حال ہے۔ خطبات احمدیہ سر ولیم میور کی اس کتاب کا جواب ہے جس میں اس نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلا تھا یہ سر سید کا عظیم الشان علمی کارنامہ ہے۔

اسباب بغاوت ہند میں 1857 ءکی وجوہات بیان کی اور انگریزوں کی بد گمانی دور کرنے کی کوشش کی۔ اردو ادب کی خدمات میں سر سید کے ماہنامہ ”تہذیب الاخلاق“ کو بھی بڑا دخل ہے۔ جی کی نثر نے اردو کو علمی، ادبی، معاشرتی اور تہذیبی اقدار سے مالامال کیا۔ تہذیب الاخلاق نے ہمارے ادب کا رخ بدل دیا۔ یہ اپنی طرز کا واحد علمی و ادبی رسالہ تھا جو اردو زبان میں شائع ہوتا تھا۔

Urdu Literature

Urdu Literature

اس کے اجرا سے ادب کی نشاتہ ثانیہ کو اردو میں سمونے کی ابتدا ہوئی۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر علمی و ادبی مضامین ہیں جو مضامین سر سید اور مقالات سر سید کے نام سے مختلف جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ سر سید احمد خان کی مجموعی ادبی کاوشوں کا جائزہ لیں تو وہ خود اپنی ذات میں ایک دبستان نظر آتے ہیں۔ یہ عہد ساز ہستی 27 مارچ 1898ءکو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جامع مسجد کے احاطے میں مدفون ہوئی۔

تحریر : عدیلہ نورین