fbpx

اسلحہ پر پابندی کا خاتمہ، کیا ایران اب آزادی کے ساتھ اسلحہ کی خرید و فروخت کر سکے گا؟

Iran Weapons

Iran Weapons

ایران (اصل میڈیا ڈیسک) آج 18 اکتوبر اتوار کے روز ایران پر عاید کی جانے والی اسلحہ کی خرید و فروخت سے متعلق پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ پابندیاں ختم ہوتے ہی دوسرے ملکوں سے اسلحہ کے حصول کے بڑے بڑے معاہدے کرے گا۔

تاہم ایران کے لیے یہ سب کہنا تو آسان ہوگا مگر اس پرعمل کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ امریکا نے ایران پر اقوام متحدہ کی تمام سابقہ پابندیاں بحال کر کے ایران کو کافی مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ ایران سے اسلحہ کی خرید و فروخت کافی مشکل ہو گی یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے ایران کے ساتھ کسی دفاعی ڈیل کے منطقی انجام تک پہنچنے کے حوالے سے تشکیک کا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ بدھ کو ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر اسلحہ کے حصول اور فروخت پرپابندی ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد ایران کسی بھی ملک سے کسی بھی وقت اسلحہ خرید بھی سکتا ہے اور اپنے ہاں تیار کردہ جنگی ہتھیار فروخت بھی کرسکتا ہے۔

ایرانی صدر کی طرف سے اسلحہ کی خرید و فروخت سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کی معیشت بد ترین دور سے گذر رہی ہے۔ ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نچلی ترین سطح‌پر ہے۔ افراط زر نے معیشت کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ معاشی پابندیوں سے وہ دنیا کےدوسرے ملکوں سے تجارت کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان پابندیوں‌کے نتیجے میں ہم ادویات تک آزادی کے ساتھ حاصل نہیں کر پاتے حالانکہ ادویات او ربنیادی انسانی ضروریات کی اشیا کے حصول پر پابندی عاید نہیں ہے۔

حال ہی میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے سابق وزیر دفاع اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر حسین دھقان کا ایک بیان نقل کیا تھا۔ دھقان نے بیان میں کہا تھا کہ انہوں‌نے ایران کو درکار ہتھیاروں کی ایک فہرست ماسکو کے دورے کے دوران روسی حکام کے سامنے پیش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں آبدوز شکن میزائل، خشکی اور پانی پر چلنے والے جہاز، ‘سوخوی 35’ طرز کے لڑاکا طیارے اور T-90 ماڈل کے ٹینک شامل ہیں۔

مگر دوسری طرف امریکا نے ایران پر شدید دباو ڈالنے کی پالیسی کے تحت تہران کے لیے بیرون ملک سے اسلحہ کا حصول بہت مشکل بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی انتظامیہ نے عہد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ایرانی رجیم اور ولایت فقیہ کے نظام کے پیروکاروں کو اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یورپ میں قائم ایک تھینک ٹینک یورپی کونسل برائے تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے بیرون ملک سے اسلحہ خریدنا اور اسے ملک میں لانا بہت شکل ہے کیونکہ ایران بہ حفاظت ایسا نہیں‌کرسکےگا۔ ایران کو دوسرے ملکوں سے اسلحہ حاصل کرنے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی کونسل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ‌ میں یورپی ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران پر اسلحہ کی پابندی کے خاتمے اور اس کے بعد کے حالات کا باریکی سے جائزہ لیں۔