یمن کی جنوبی عبوری کونسل کا عدن میں قبضے میں لی گئی تنصیبات اور عمارتوں سے انخلا

Yemen War

Yemen War

عدن (جیوڈیسک) یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) نے ہفتے کی صبح عدن میں گذشتہ ہفتے قبضے میں لی گئی سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کو خالی کر دیا ہے۔

عرب اتحاد کے ذرائع نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے عدن اسپتال، مرکزی بنک اور دوسری متعدد سرکاری عمارتوں کو خالی کر دیا ہے اور ان کا کنٹرول یمن کے صدارتی بریگیڈز کے حوالے کردیا ہے۔ عرب اتحاد ہی نے حکومت اور ایس ٹی سی کی فورسز سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

اتحاد نے ایک بیان میں ایس ٹی سی کی فورسز اور حکومت کے جنگ بندی کی اپیل پر عمل درآمد کو سراہا ہے۔ اس نے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کر دیں۔

اس نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’(اتحاد) مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اپیل پر عبوری کونسل کے ردعمل کو سراہتا ہے۔ اس نے یہ اقدام کرکے یمنی عوام کے مفادات کو ترجیح دی ہے تاکہ انھیں یا نجی اور سرکاری املاک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے فوجیوں اور جنگجو عناصر نے آج سے انخلا کا آغاز کیا ہے۔ وہ حالیہ واقعات سے قبل کی پوزیشنوں پر چلے جائیں گے اور یمنی حکومت کے صدر دفاتر کو عرب اتحاد کی نگرانی میں دے دیں گے۔‘‘

اس نے یمنی حکومت کے اتحاد کی بحران کے دوران میں ضبط و تحمل سے کام لینے کی اپیل پر ردعمل کو بھی سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس نے یمنی عوام کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ اس نے یمن میں قانونی حکومت کی عمل داری کے قیام اور ریاستی اداروں کی بحالی کے لیے حوثی باغیوں کے خلاف بر سرپیکار اتحاد کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے یمنی حکومت کے ردعمل کو بھی سراہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے دوسرے بڑے شہر اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن میں حکومت نواز فورسز اور علاحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔یمنی حکومت نے ایس ٹی سی کےساتھ اس کے سرکاری عمارتوں سے انخلا تک بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔