fbpx

ژوب بلوچستان سے اسمگل ہونے والے شہاب ثاقب کی کہانی

Shahab Saqib

Shahab Saqib

پاکستانی صوبہ بلوچستان ميں اس سال فروری ميں چند چھوٹے شہاب ثاقب گرے، جنہيں مبينہ طور پر افغانستان کے راستے بيرون ملک اسمگل کر ديا گيا۔ اب يہ شہاب ثاقب ايريزونا اسٹيٹ يونيورسٹی ميں ہيں اور ان پر تحقيق جاری ہے۔

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے بہت سے علاقوں کا شمار فلکیاتی مشاہدات کے ليے بہترین مقامات میں ہوتا ہے کیونکہ آبادی کم ہونے کی وجہ سے ان علاقوں ميں آلودگی بھی مقابلتاً کم ہے۔ قدرتی معدنیات کی دولت سے مالا مال ان علاقوں میں بہت سے نایاب اور قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں۔ ليکن چند با اثر مقامی افراد کی لالچ اور ملی بھگت کے باعث ان وسائل کو بلوچستان کی ترقی اور لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے ليے استعمال کرنے کے بجائے غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک اسمگل کر دیا جاتا ہے، جس کے ليے عموماً افغانستان کا روٹ استعمال کیا جاتا ہے۔

ژوب کی تحصیل قمر الدین کاریز سے تعلق رکھنے والے سردار نور محمد کے مطابق ژوب اور گرد و نواح کے علاقوں میں اسمگلنگ اب عام ہو رہی ہے کیونکہ یہ علاقے افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں اور یہاں قیمتی پتھر اور معدنیات وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جنہیں مقامی با اثر افراد اونے پونے داموں اسمگل کر دیتے ہیں۔
شہاب ثاقب کب اور کيسے گرا؟

سردار نور محمد کے مطابق رواں سال نو جنوری کی شام کوئٹہ سے تقريباً 315 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ژوب ڈویژن کی یونین کونسل حسن زئی ميں چند مزدور گھروں کو لوٹ رہے تھے کہ ان سے کچھ فاصلے پر شہابِ ثاقب آ گرے۔ ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن تقریباً 18.9 کلوگرام تھا۔ اس کے گرد و نواح میں گرنے والے چھوٹے پتھروں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ مزدوروں نے انہيں جمع کر لیا۔ کچھ دن بعد کوئٹہ سے کچھ افراد نے مبينہ طور پر اس علاقے کا دورہ کیا اور بڑے پتھر سمیت تمام پتھر یہ کہہ کر لے گئے کہ انہیں اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے میں تجزیے کے ليے بھیجا جائے گا۔ مگر انہیں متصل افغانی سرحد کے راستے تقریباً چار لاکھ روپوں میں سمگل کر دیا گیا۔ اس پيش رفت سے ذرائع ابلاغ لا علم رہا۔ چونکہ اس علاقے کے لوگ زیادہ خواندہ نہیں ہیں لہذا وہ اس پتھر کی اہمیت سے واقف ہی نہیں تھے۔

یہ واقعہ اس وقت انٹرنیشنل میڈیا میں آیا جب امریکا کی ايريزونا اسٹیٹ یونیورسٹی نے اس پتھر پر تحقیق کر کے اس سے متعلق اہم معلومات جاری کیں، جہاں اسے ‘ژوب میٹیورائٹ‘ کا نام دیا گیا۔

پاکستان میں سائنسی لکھاری شاہ زیب صدیقی کے مطابق انہیں انٹرنیشنل میڈیا ہی کے ذریعے اس شہابِ ثاقب کے بارے میں معلوم ہوا، تو انہیں شدید حیرت ہوئی کہ اتنا وزنی پتھر گرا اور میڈیا اس سے بے خبر رہا۔ ”میں نے اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پتھر کی افغانستان کے راستے اسمگلنگ کے بعد اسے مائیکل فارمر نامی ایک بین الاقوامی جیمز ایکسپرٹ نے خرید کر ٹکسن جیمز اینڈ منرل شو میں پیش کیا، جہاں سے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی امریکا نے اسے تحقیقی مقاصد کے ليے خریدا اور تب ہی یہ شہاب ثاقب دنیا کی نظروں میں آ سکا۔

نوجوان سائنسدان شہیر نیازی، جنہیں سن 2019 میں فوربس میگزین نے دنیا بھر کے انڈر 30 متاثر کن نوجوانوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، ان شہاب ثاقب کی پاکستان واپسی کے ليے مہم چلا رہے ہیں۔ شہیر کے مطابق انہوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ژوب میٹیورائٹ کی پاکستان سے غیر قانو نی اسمگلنگ کو ہائی لائٹ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی توجہ بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی طرف مبذو ل کرائی جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ بلوچستان کی حکومت سے اس پر معلومات لیں گے۔

شہیر نیازی نے بتايا، ”ہماری معلومات کے مطابق ژوب میٹیورائٹ کے ساتھ جو چھوٹے پتھر گرے تھے ان میں سے کچھ اب تک فروخت نہیں ہوئے۔ میری کوشش ہے کہ انہیں وطن واپس لايا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایک اور شپمنٹ بھی ان علاقوں سے جانے والی تھی جسے افغانستان کے بارڈر پر حکومتِ بلوچستان نے سیز کیا۔ ہم پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو کہاں روکا گیا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے ابھی تک کل 17 شہاب ثاقب ملے ہیں، جو انٹرنیشنل یونیورسٹیوں اور سائنس کمیونٹی کے ليے فلکیاتی حیاتیات اور جیو لوجی میں تحقیق کے ليے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔لیکن کم از کم ان کے سیمپل پاکستان میں کسی میوزیم میں تو موجود ہونے چاہیيں۔‘‘

جرمنی میں مقیم پلینٹری سائنٹسٹ اور ماہر فلکیاتی حیاتیات ڈاکٹر نذیر خواجہ کے مطابق زمین پر زندگی کی ابتدا سےمتعلق ایک اہم ترین تھیوری، جس پر سائنسی حلقوں میں اکثر مباحثہ ہو تا رہتا ہے، یہ ہے کہ زندگی کی ابتدا یہاں براہ راست نہیں ہوئی بلکہ زمین سے باہر کسی اور سیارے سے خورد بینی حیات یا زندگی کے ليے لازمی اجزاء جیسے امائنو ایسڈ، پروٹین یا شوگر وغیرہ زمین پر منتقل ہوئے۔ سائنسدان یہ یقین رکھتے ہیں کہ منتقلی کا ذریعہ یقیناً شہاب ثاقب رہے ہوں گے۔ کیونکہ یہ شہابیے مائیکرو میٹر سائز سے لے کر بڑے سائز کے چٹانی پتھروں جتنے ہوتے ہیں۔ عام فہم انداز میں اسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ شہابِ ثاقب دھاتوں، نمکیات اور معدنیات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی یا اس سے باہر کسی اور سیارے پر اگر خورد بینی حیات یا ایسے اجزاء موجود ہوں تو ایک لمحے کے ليے تصور کریں کہ اربوں کھربوں سال پہلے اگر یہ عمل کسی سیارچے (اسیٹی رائڈ) یا کسی دم دار ستارے میں ہوا ہو ، جو ہمارے نظام شمسی کی حدود سے باہر سے سفر کرتے ہوئے زمین تک آتے ہیں۔ تو عین ممکن ہے کہ ان اجسام کے ذریعے زندگی کے لازمی اجزاء زمین پر منتقل ہوئے ہوں، جن سے بتدریج کیمیائی عمل سے خوردبینی حیات اور پھر پیچیدہ اجسام اور انسان تخلیق ہوا۔ لہذا یہ فلکیاتی حیاتیات میں تحقیق کے ليے بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔

جہاں تک پاکستان میں میٹیو رائٹ پر تحقیق کا سوال ہے، تو اس کے ليے جو جدید آلات اور لیبارٹری کی ضرورت ہوتی ہے، وہ یہاں ابھی تک کہیں دستیاب نہیں۔ میری معلومات کے مطابق پاکستانی یونیورسٹیوں یا ریسرچ سینٹرز میں ان پر ہائر لیول کی تحقیق نہیں ہو رہی۔ مثال کے طور پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں بہت چھوٹے پیمانے پر اس کی تجزیاتی تحقیق کی جاتی ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر پاکستا ن کا کوئی ایک ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جو سیارچوں یا شہاب ثاقب پر تحقیق کی وجہ سے جانا جاتا ہو۔ اگرچہ کراچی یونیورسٹی میں سپیشیئل پلاننگ سائنس ڈیپارٹمنٹ ضرور موجود ہے، مگر ان کی ویب سائٹ پر کوئی خاص تحقیقی مواد موجود نہیں۔ حالانکہ موجودہ دور میں یہ بہت اہمیت کی حامل ریسرچ فیلڈ ہے۔

ژوب میٹیو رائٹ پر ایريزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں خاصی تحقیق ہوئی ہے اور ان کے سورسز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس سے متعلق تمام تر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ منرل، جیمز یا میٹیو را ئٹ وغیرہ کو بین الاقوامی تحقیقی ادارے ایکسچینج کرتے ہیں اور اوپن مارکیٹ سے بھی انہیں خریدا جاتا ہے اور متعلقہ افراد یا ممالک کو مکمل کریڈٹ دیا جاتا ہے، جو ایریزونا یونیورسٹی نے دیا۔ چونکہ پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو میٹیورائٹ کا باقاعدہ ڈیٹا جمع کرتا ہو تو کوشش ہے ہیں کہ ایسٹرو بایولوجی نیٹ ورک آف پاکستان کو اس حوالے سے فعال کیا جائے۔