fbpx

جڑوں کی تلاش (آخری قسط )

دوسری شام جولیا آفس سے گھر آکر لیٹ ہی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کو ذہنی اضمحلال سے کیسے چھٹکارا ملے گا۔ آج وہ دن بھر اداس رہی تھی۔ اس کا کسی کام میں بھی دل نہیں لگا تھا۔

عمران۔۔۔۔۔۔۔! ان ذہنی الجھنوں کی جڑ عمران ہی تھا، اس کے متعلق کسی ذہنی کشمکش میں پڑ کر وہ اپنی ساری زندہ دلی اور مسرور رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی۔

یہ عمران اس کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت تھا، اس کی عدم موجودگی میں وہ اس کے لئے بے چین رہتی تھی لیکن جہاں سامنا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص لہجے میں گفتگو شروع کرتا تو اس کا یہی جی چاہتا کہ اس وقت جو چیز بھی ہاتھ میں ہو کھینچ مارے، ایسا ہی تاؤ اس کی خاموشی پر بھی آتا تھا کیونکہ خاموشی حماقت انگیز ہوتی تھی۔

telephone

telephone

جولیا نے کراہ کر کروٹ بدلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کہ فون چیخ پڑا۔۔ وہ اٹھی اور ریسیور اٹھا لیا، دوسری طرف تنویر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اوہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم گھر ہی پر ہو؟ اس نے کہا۔ کیا آج سرسوکھے واقعی سوکھتا ہی رہے گا؟”
“کیا مطلب؟ جولیا غرائی!”
“سنا ہے آج کل وہ تمہیں بڑی موٹی موٹی رنگینیاں عطا کر رہا ہے۔۔!”
“خاموش رہو بدتمیز۔۔” جولیا بپھر گئی۔

“ارے بس۔۔ تھوکو غصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تو محض عمران کے جملے دہرائے ہیں، ابھی ابھی اس نے فون پر کہا تھا کہ تم تو خیر پہلے ہی ہاتھ دھو چکے تھے اب میں نے بھی دھولئے ہیں اور اس وقت انہیں تولیئے سے خشک کررہا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا بکتے ہو کہنے لگا سوکھ رہا ہوں۔ میں جھنجھلا کر سلسلہ منقطع کرنے ہی والا تھا کہ بولا۔
جولیا آج کل ہمالیاتی عشق کا شکار ہو گئی ہے سرسوکھے اسے عشق کے موٹے موٹے نغمے سناتا ہے اور ایک موٹی سی مسکراہٹ جولیا کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگتی ہے اور اسے چاند ستارے، دریا کے کنارے حتی کہ ساون کے نظارے بھی موٹے نظر آنے لگتے ہیں۔۔

“شٹ اپ!” جولیا حلق پھاڑ کر چیخی اور سلسلہ منقطع کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانپ رہی تھی، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے رگوں میں خون کی بجائے چنگاریاں دوڑ رہی ہوں۔

“سور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وحشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درندہ” وہ دانت پیس کر بولی اور منہ کے بل تکیئے پر گر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تھوڑی دیر تک بے حس وحرکت پڑی رہی، پھر اٹھی اور سرسوکھے کے نمبر ڈائیل کئے! وہ بھی اتفاق سے مل ہی گیا فون پر۔
“کون ہے۔۔؟”
“فٹز واٹر۔۔”
“اوہ۔۔ کہیئے کہیئے۔۔!”
“آپ سے نہیں ملتی تو دل گھبراتا رہتا ہے۔۔” جولیا ٹھنک کر بولی اور پھر بڑا برا سا منہ بنایا۔
“اوہو۔۔ تو میں آجاؤں۔۔ یا آپ آرہی ہیں!”
“کسی اچھی جگہ ملیے۔۔!”
“اچھا۔۔ جاگیردار کلب کیسا رہے گا؟”
“اوہو۔۔ بہت شاندار۔۔ پھر آپ کہاں ملیں گے۔۔؟”
“میں آپ کے گھر ہی پر آرہا ہوں!”۔۔ سرسوکھے کا لہجہ بیحد پرمسرت تھا۔ بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی بچے سے مٹھائی کا وعدہ کیا گیا ہو۔

سلسلہ منقطع کرکے جولیا لباس کا انتخاب کرنے لگی۔۔ یہ عمران آخر خود کو سمجھتا کیا ہے۔ وہ سوچ رہی تھی، بیہودہ کہیں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا تو آتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر دیکھوں گی، تم بھی کیا یاد کرو گے۔ اب سرسوکھے ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرسوکھے آدھے گھنٹے کے اندر ہی اندر وہاں پہنچ گیا۔ جولیا بیحد دلکش نظر آرہی تھی۔ اس نے بڑی احتیاط اور توجہ سے میک اپ کیا تھا اور لباس کا تذکرہ ہی فضول ہے کیونکہ گھٹیا سے گھٹیا لباس بھی اس کے جسم پر آنے کے بعد شاندار ہوجاتا تھا۔ وہ ایسی ہی جامہ زیب تھی۔۔

جاگیردار کلب پہنچنے میں دیر تو نہ لگتی لیکن واقعہ ہی ایسا پیش آیا جو دیر کا سبب تو بن گیا تھا لیکن جولیا کی سمجھ میں نہیں آسکا تھا۔
جاگیردار کلب پہنچنے کے لئے ایک ایسی سڑک سے گذرنا پڑتا تھا جو زیادہ کشادہ نہیں تھی اور عموما سرشام ہی اپنی رونق کھو بیٹھتی تھی۔ وہ اس سڑک ہی پر تھے کہ جولیا نے محسوس کیا جیسے ان کا تعاقب کیا جارہا ہو۔ دیر سے ایک کار پیچھے لگی ہوئی تھی۔

car driving

car driving

“شاید یہ آگے جانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف ہوجائیے!” جولیا نے کہا۔
سرسوکھے نے بھی پلٹ کر دیکھا۔ پچھلی کار اب زیادہ فاصلے پر نہیں تھی۔
اس کے اندر بھی روشنی تھی اور ایک بڑا شاندار آدمی اسٹیرنگ کر رہا تھا۔
جولیا کو تو وہ شاندار ہی لگا تھا۔

سرسوکھے کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی اور پھر جولیا نے محسوس کیا جیسے اس نے اپنے ہونٹ سختی سے بند کرلیئے ہوں۔ اس نے اپنی گاڑی بائیں کنارے کرلی اور پچھلی کار فراٹے بھرتی ہوئی آگے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جولیا نے چونک کر کہا۔ “ارے جاگیردار کلب تو شاید پیچھے ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جی ہاں۔۔ بس ابھی واپس ہوتے ہیں۔ یہ کام اچانک نکل آیا ہے”۔
“میں نہیں سمجھی؟”
“ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس آدمی کو بارہا دیکھا ہو، یہ جو اگلی کار میں ہے”
“جی نہیں، میں نے تو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔” جولیا بولی۔
“تعجب ہے آپ فارورڈنگ کلیرنگ کا کام کرتی ہیں لیکن اسے نہیں جانتیں میرا خیال تھا کہ یہ بھی آپ کے کاروباری حریفوں میں سے ہوگا۔ اس کا بھی تو فارورڈنگ کلیرنگ کا بزنس ہے شاید۔۔!”

“پتہ نہیں! میں نہیں جانتی!”
“کسی زمانے میں میرے یہاں اسسٹنٹ منیجر تھا”۔ سرسوکھے نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا۔ “لیکن بے ایمان آدمی ہے اس لئے میں نے اسے الگ کردیا تھا”
“تو کیا آپ اس کا تعاقب کر رہے ہیں”
“یقینا کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ میری فرم کے موجودہ جنرل منیجر سے گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے۔ مقصد کیا ہے؟ میں نہیں جانتا”
“گٹھ جوڑ کا شبہ کیسے ہوا آپ کو؟”
“جب یہ میرے یہاں تھا تو دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے”
“تو آپ کس بات کا شبہ کر رہے ہیں؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ ایک پرانا اسمگلر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی معلوم ہوجانے پر میں نے اسے اپنی فرم سے الگ کیا تھا۔۔”

“تب تو پھر اتنے گھما پھرا کی بات ہی نہیں تھی، آپ نے پہلے ہی اس کا نام بتایا ہوتا، ہم اسے چیک کرلیتے”۔
“نام تو درجنوں بتائے جاسکتے ہیں مگر یہ اس وقت میرا تعاقب کیوں کر رہا تھا، مجھے تو یہ دیکھنا ہے۔۔”
” تو اب آپ اس کا تعاقب کریں گے؟”
قطعی۔۔ قطعی!” وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا! “اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اب وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟” کیا اس لئے میرا تعاقب کیا جا رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں سے مدد طلب کی ہے!”

“خیر ایسے لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث صرف عمران ہوسکتا ہے” جولیا نے کہا۔ “کیونکہ بعض بڑے جرائم پیشہ اس کی ساکھ سے واقف ہیں”
“میں یہی کہنا چاہتا تھا مس جولیانا۔۔ آپ کو وہ شام تو یاد ہی ہوگی جب آپ میرے آفس میں میری کہانی سن رہی تھیں۔۔!”
“جی ہاں! میں نے میز پر پائے جانے والے پیر کے نشان کا چربہ عمران کے حوالے کردیا ہے!”
“اوہ۔۔ دیکھیئے وہ کار بائیں جانب مڑرہی ہے۔۔ کیا میں ہیڈلائٹس بجھا دوں”۔
“اگر تعاقب جاری رکھنا ہے تو یہی مناسب ہوگا!” جولیا نے کہا!

سرسوکھے نے اگلی روشنی گل کردی اور پھر وہ بھی بائیں جانب مڑ گیا، تھوڑی دیر بعد وہ پھر شہر کے ایک بھرے پڑے حصے میں داخل ہوئے۔

“اوہ وہ اپنی گاڑی گرینڈ ہوٹل کی کمپاؤنڈ میں موڑ رہا ہے!” سرسوکھے بڑبڑایا۔۔!
اگلی کار گرینڈ ہوٹل کے پھاٹک میں داخل ہو رہی تھی۔ سرسوکھے نے اپنی گاڑی کی رفتار رینگنے کی حد تک کم کردی۔۔ اگلی کار پارک ہوچکی تھی اس سے وہی آدمی اترا اور بڑے پروقار انداز میں چلتا ہوا گرینڈ ہوٹل کے صدر دروازے میں داخل ہوگیا۔۔!
ادھر سرسوکھے نے اپنی گاڑی روک دی تھی۔۔!

escaping the car

escaping the car

“اوہ۔۔ میں کیا کروں!” وہ مضطربانہ انداز میں بولا! “آپ ہی بتایئے!”
“کاش میں یہ معلوم کرسکتی کہ آپ کیا چاہتے ہیں”۔
“ہمیشہ کے لئے ان بدبختوں کا خاتمہ جن کی وجہ سے نیندیں حرام ہوگئی ہیں مجھ پر۔۔! اس وقت تو میں صرف اپنی جان بچانا چاہتا ہوں، آپ کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے مس جولیا!”
“آپ جو کچھ کہیں۔۔ میں کروں!”
“اوہ دیکھیئے! میں بھی اپنی گاڑی کمپاؤنڈ ہی میں پارک کروں گا اور آپ اسی میں بیٹھ کر میرا انتظار کریں گی!”
“کتنی دیر؟۔۔!”
“ہوسکتا ہے۔۔ جلد ہی لوٹ آؤں! ہوسکتا ہے دیر ہوجائے”۔

“آپ جائیں گے کہاں۔۔؟”
“اندر۔۔! میں دیکھوں گا کہ وہ کس چکر میں ہے ۔ آپ خود سوچیئے کہ وہ میرا تعاقب کر رہا تھا پھر آگے نکل آیا۔۔ اب یہاں آرکا ہے۔ کیاوہ میرے گرد کسی قسم کا جال پھیلا رہا ہے!”
جولیا کچھ نہ بولی، سرسوکھے نے گاڑی پھاٹک میں گھمائی اور اسے ایک گوشے میں روکتا ہوا بولا۔
“بس آپ اس کی کار پر نظر رکھیئے گا!”

سرسوکھے گاڑی سے اترا اور صدر دروازے کی طرف چل پڑا، اس کی چال میں معمول سے زیادہ تیزی تھی، جولیا کار میں بیٹھی رہی، تقریبا پانچ منٹ گذر گئے! وہ اس آدمی کے متعلق سوچ رہی تھی جسے کار میں دیکھا تھا۔۔ یکایک وہ چونک پڑی ایک نیا سوال اس کے ذہن کے تاریک گوشوں سے ابھرا تھا!۔۔ اگر وہ سرسوکھے کا تعاقب ہی کر رہا تھا تو گاڑی کے اندر روشنی رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
جولیا اس پر غور کرتی رہی اور اس کا ذہن الجھتا چلا گیا۔ اب تو ایک نہیں درجنوں سوالات تھے۔۔!

کیا سرسوکھے اسے خطرے میں چھوڑ کر خود کھسک گیا تھا؟ خصوصیت سے اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا لہذا وہ چپ چاپ سرسوکھے کی گاڑی سے اتر آئی۔

flower pots

flower pots

قریب ہی بڑے بڑے گملوں کی ایک قطار دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان میں گنجان اور قدآور پودے تھے جن کی پشت پر تاریکی ہی تھی، جولیا نے سوچا کہ وہ باآسانی ان کی آڑ لے سکے گی۔

شاید آدھا گھنٹہ گذر چکا تھا لیکن ابھی تک ان دونوں میں سے کسی کی بھی واپسی نہیں ہوئی تھی۔۔

جولیا سوچنے لگی کہ وہ خواہ مخواہ اپنے پیر تھکا رہی ہے اور اسے ایک بار پھر عمران پر غصہ آگیا۔۔ محض عمران کی وجہ سے وہ اس وقت گھر سے نکل آئی تھی ورنہ دل تو یہی چاہا تھا کہ آفس سے واپسی پر گھنٹوں مسہری پر پڑی رہے گی۔ تنویر نے فون پر عمران کی گفتگو دہرا کر اسے تاؤ دلا دیا تھا اور وہ سرسوکھے کے ساتھ باہر نکل آئی تھی اور تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ شامیں بھی اسی کے ساتھ گذارے گی۔

لیکن اب اسے اپنی جلد بازی کھل رہی تھی۔ ویسے اس کی ذمہ داری تو عمران ہی پر تھی لہذا وہ سلگتی رہی۔۔!

دفعتا اسے سرسوکھے نظر آیا جو بڑی تیزی سے اسی کار کی طرف جارہا تھا جس پر تعاقب کرنے والا آیا تھا۔ پھر جولیا نے اسے کار کے انجن میں کچھ کرتے دیکھا اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں! آخر وہ کیا کرتا پھر رہا ہے۔

اس کے بعد وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی کار کی طرف مڑا اور داہنا ہاتھ اٹھا کر اسے دو تین بار جنبش دی۔

غالبا یہ اشارہ جولیا کے لئے تھا کہ وہ ابھی انتظار کرے۔۔ جولیا نے ایک طویل سانس لی۔۔
سرسوکھے بڑی تیزی سے پھاٹک کی طرف سے چلا جارہا تھا پھر وہ اس سے گذر کر سڑک پر نکل گیا۔

جولیا وہیں کھڑی رہی پھر اس نے سوچا کہ وہ خواہ مخواہ اپنی ٹانگیں توڑ رہی ہے، جہنم میں گئے سرسوکھے کے معاملات، وہ خود ہی نپٹتا پھرے گا اسے کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ اپنا وقت برباد کرے، اپنی انرجی ضائع کرے۔۔ اچانک وہ ایک بار پھر چونک پڑی!
اب وہ آدمی اپنی کار کی طرف جا رہا تھا جو سرسوکھے کی موجودہ بھاگ دوڑ کی وجہ بنا تھا۔۔!

پھر جولیا نے دیکھا کہ وہ کار میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے! تھوڑی ہی دیر بعد وہ انجن کھولے اس پر جھکا ہوا نظر آیا۔۔ اور پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہو ا تو اس کے ہاتھوں کی مایوسانہ جنبشیں اس کی بے بسی کا اعلان کر رہی تھیں۔۔!

دفعتا ایک ٹیکسی ڈرائیور اس کی طرف آیا! دونوں میں گفتگو ہوتی رہی پھر ٹیکسی ڈرائیور نے بھی انجن دیکھا اور کار اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی جولیا محسوس کر رہی تھی کہ وہ آدمی بہت زیادہ پریشان ہے۔

پھر ذرا سی دیر بعد اس نے اسے ٹیکسی میں بیٹھتے دیکھا کہ وہ اپنی کار وہیں چھوڑے جا رہا تھا۔۔!

جولیا نے سوچا کہ اب اسے ہر قیمت پر اس کا تعاقب کرنا چاہیئے۔ ہوسکتا ہے سرسوکھے نے اسے وہاں کچھ دیر روکے رکھنے ہی کے لئے اس کے کار کے انجن میں کوئی خرابی پیدا کی ہو۔

اس نے تعاقب کا فیصلہ بہت جلدی میں کیا تھا کیونکہ ٹیکسی نکلی جارہی تھی ورنہ وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مناسب حد تک غور کرنے کی عادی تھی۔ وہ جھپٹ کر سرسوکھے کی کار میں آ بیٹھی اور پھر دس منٹ بعد دونوں کاروں کے درمیان صرف سو گز کا فاصلہ رہ گیا! وہ اس فاصلہ کو اس سے بھی زیادہ رکھنا چاہتی تھی لیکن اس بھری پڑی سڑک پر اس کے امکانات نہیں تھے۔

جوں توں کرکے اس نے تعاقب جاری رکھا کچھ دیر بعد وہ ٹیکسی شہر کے ایک کم آباد حصے میں داخل ہوئی لیکن یہاں بھی ٹریفک کم نہیں تھا۔

دفعتا وہ ٹیکسی ایک عمارت کی کمپاؤنڈ میں مڑ گئی، پھاٹک کھلا ہی ہوا تھا! جولیا نے اپنی کار کی رفتار کم کرکے اسے سڑک کے نیچے اتار دیا۔

دوسری عمارت کی کمپاؤنڈ تاریک پڑی تھی اورچہار دیواری اتنی اونچی تھی کہ اندر کا حال نظر نہیں آسکتا تھا۔

پتہ نہیں اس کے سر میں کیا سمائی کہ وہ بھی کار سے اتر کر کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئی! چاروں طرف اندھیرا تھا۔ عمارت کی کوئی کھڑکی بھی روشن نہیں تھی۔

وہ مہندی کی باڑھ سے لگی ہوئی آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک کوئی سخت سی چیز اس کے بائیں شانے سے کچھ نیچے چھبنے لگی اور ایک تیز قسم کی سرگوشی سنائی دی! “چپ چاپ چلتی رہو۔ یہ پستول بے آواز ہے!”

جولیا کا سرچکرا گیا۔۔ یہ کس مصیبت میں آ پھنسی لیکن وہ چلتی ہی رہی۔
اسے ہوش نہیں تھا کہ اندھیرے میں اسے کتنے دروازے طے کرنے پڑے تھے پھر جب وہ ایک بڑے کمرے میں پہنچی تو اس کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں۔ یہاں متعدد بلب روشن تھے اور ان کی برقی قوت بھی زیادہ تھی۔
یہاں اسے وہ آدمی جو ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا تھا تین نقاب پوشو ں میں گھرا ہوا نظر آیا جن کے ہاتھوں میں ریوالور تھے۔۔!

جولیا نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو اسے یہاں تک لایا تھا۔۔! دوسرے ہی لمحے اس کے حلق سے ایک تحیر زدہ سی چیخ نکلی۔۔! یہ سرسوکھے تھا۔۔!
اس کے ہونٹوں پر ایک خونخوار سی مسکراہٹ تھی۔۔! اس نے کہا۔
“میں جانتا تھا کہ تم یہی کرو گی۔۔!”
“مم۔۔ مگر۔۔ میں نہیں سمجھی”۔ جولیا ہکلائی۔
“ابھی سمجھ جاؤ گئی”۔ سرسوکھے نے خشک لہجے میں کہا! “چپ چاپ یہیں کھڑی رہو! اوہ۔۔ تمہارے ہینڈ بیگ میں ننھا سا پستول ضرور ہوگا! مجھے یقین ہے”۔
اس نے اس کے ہاتھ سے بیگ چھین لیا!

جولیا دم بخود کھڑی رہی! اب وہ پھر اس آدمی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ان مشکلات میں پڑی تھی۔۔ سرسوکھے کا مرکز نگاہ بھی وہیں تھا۔
“کیوں۔۔؟ خفیہ معاہدہ کے کاغذات کہاں ہیں؟” اس نے گرج کر اس آدمی سے پوچھا۔
“کیسا خفیہ معاہدہ۔۔ اور کیسے کاغذات؟” وہ آدمی مسکرا کر بولا۔ “میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو!”

“اوہ تو کیا تم اسے بھی جھٹلا سکو گے کہ تم رانا تہور علی ہو!”
“اسے جھٹلانے کی ضرورت ہی کیا ہے!”
“کیا لیفٹننٹ واجد والے کاغذات تمہارے پاس نہیں ہیں؟”
” میں جب کسی لیفٹننٹ واجد ہی کو نہیں جانتا تو کاغذات کے متعلق کیا بتاؤں۔۔؟”
“تب تو عمران بھی تمہارے لئے اجنبی ہی ہوگا”۔ سرسوکھے کی مسکراہٹ زہریلی تھی!
“یہ کیا چیز ہے۔۔؟”
“خاموش رہو!” سرسوکھے آنکھیں نکال کر چیخا!
“چلو اب خاموش ہی رہوں گا! یقین نہ ہو تو کچھ پوچھ کر آزمالو۔۔!”
“رانا۔۔”
“اب اپنا نام بھی بتا دو۔۔” وہ آدمی مسکرایا! ت”تاکہ میں بھی تمہیں اتنی ہی بے تکلفی سے مخاطب کرسکوں!”

“رانا تمہارے جسم کا بند بند الگ کردیا جائے گا!”
“ضرور کوشش کرو! میں بھی آدمی کی ٹوٹ پھوٹ کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں میری نظروں سے آج تک کوئی ایسا آدمی نہیں گذرا جس کا بند بند الگ کردیا گیا ہو؟”
“ستون سے باندھ کر کوڑے برساؤ”۔ سرسوکھے نے نقاب پوشوں سے کہا۔

نقاب پوشوں نے اپنے ریوالور جیبوں میں ڈال لئے لیکن اس وقت جولیا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ اس آدمی کی بجائے خود سرسوکھے ہی پر ٹوٹ پڑے۔۔!
“ارے۔۔ ارے! دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!” سرسوکھے بوکھلا کر پیچھے ہٹا۔
“ہاں۔۔ دیکھو! دفعتا وہ آدمی بولا۔ “ہم اسے زندہ چاہتے ہیں تاکہ اس پر ہودہ کسوا کر سواری کے کام میں لاسکیں۔۔ رانا تہور علی صندوقی کا ہاتھی بھی عام ہاتھیوں سے الگ تھلگ ہونا چاہیئے۔۔!”

جولیا کو تو ابھی بھانت بھانت کی حیرتوں سے دوچار ہونا تھا۔ سرسوکھے ان تینوں کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا۔۔!
سارے کمرے میں وہ انہیں نچاتا پھر رہا تھا۔۔ اتنے بھاری جسم والا اتنا پھرتیلا بھی ہوسکتا ہے حیرت! حیرت!! جولیا کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بھوت خانے میں آ پھنسی ہو! سرسوکھے آدمی تو نہیں معلوم ہو رہا تھا۔۔!

بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی ہاتھی نے چیتے کی طرح چھلانگیں لگانی شروع کردی ہوں۔۔!

سب سے لمبا نقاب پوش حلق سے طرح طرح کی آوازیں نکالتا ہوا اسے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔!

رانا تہور علی ریوالور سنبھالے دروازوں کی روک بنتا پھر رہا تھا کہ کہیں سرسوکھے کسی دروازے سے نکل کر فرار نہ ہوجائے! ویسے اس کی آنکھوں میں کچھ اس قسم کے تاثرات پائے جاتے رہے تھے جیسے اچھی فیلڈنگ کرنے والے کسی چست وچالاک بچے کی آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔ جولیا کبھی اس کی طرف دیکھنے لگی تھی اور کبھی سرسوکھے کی طرف۔۔!

“سرسوکھے تم ابھی تھک جاؤ گے”۔ دفعتا رانا نے کہا۔
“اسی طرح صبح ہوجائے گی”۔ سرسوکھے نے قہقہہ لگایا۔ تم مجھ پر فائر کیوں نہیں کرتے؟”
“میں ایک بلیک میلر ہوں سرسوکھے!” رانا نے کہا۔ “کیا تم سودا کرو گے؟”
“میں جانتا تھا!”۔۔ سرسوکھے نے بے تکان قہقہ لگایا۔ وہ اب بھی ان تینوں کو ڈاج دیتا پھر رہا تھا۔

جولیا دروازے کی طرف کھسک رہی تھی۔۔ رانا نے اسے للکارا۔
“خبردار اگر تم اپنی جگہ سے ہلیں تو تمہاری لاش یہیں پڑے پڑے سڑ جائے گی!” جولیا ٹھٹک گئی۔
“اپنے آدمیوں کو روکو”۔۔ سرسوکھے نے کہا۔
“اوہ۔۔ تم تینوں دفع ہوجاؤ”۔ رانا نے ہاتھ ہلا کر کہا اور تینوں نقاب پوش اسے چھوڑ کر ایک دروازے سے نکل گئے۔

“تم ادھر چلو۔۔!” سرسوکھے نے جولیا سے کہا۔۔ اور رانا نے ریوالور کی نال کو جنبش دے کر سرسوکھے کی تائید کی! جولیا ان کے قریب آگئی۔

“تم اسے کہاں لئے پھر رہے ہو سرسوکھے؟ جانتے ہو یہ کون ہے؟” رانا نے پوچھا۔
“میں سب کچھ جانتا ہوں تم معاملے کی بات کرو!”
“ساڑھے تین لاکھ”۔
“بہت ہے۔۔ میں نہیں دے سکتا۔۔!”
“تب پھر میں دوسروں سے بھی بزنس کرسکتا ہوں۔۔! مگر نہیں!
میں تم سے بات ہی کیوں کرو۔۔ معاملہ تو تمہارے چیف ہی سے طے ہو سکے گا۔۔!”
“میرا کوئی چیف نہیں ہے!” سرسوکھے غرایا! “میں مالک ہوں”۔
“تب پھر تم ہی معاملہ طے کرو”۔

“میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک بڑھ سکوں گا لیکن اس کے بعد گنجائش نہیں ہے!”
“اس سے بہتر تو یہی ہوگا کہ میں عمران سے ہار مان کر اپنا پیچھا چھڑاؤں!”
“تم ایسا نہیں کرسکتے!” سرسوکھے گرجا! “میں کتوں کے راتب میں اضافہ کرنے کی سکت رکھتا ہوں۔۔ ساڑھے تین لاکھ ہی سہی”۔

assault

assault

اچانک رانا نے اچھل کر اس کی توند پر ایک زوردار لات رسید کی۔۔!
اور وہ چیخ کر الٹ گیا اس کے گرنے سے کسی قسم کی آواز پیدا ہوئی تھی۔
جولیا اندازہ نہ کرسکی عجیب سی آواز تھی۔۔ نہ وہ کسی چٹان کے گرنے کی آواز تھی اور نہ۔۔؟ وہ اندازہ بھی کیسے کرسکتی تھی کیونکہ اس نے آج تک نہ تو گوشت کا پہاڑ دیکھا ہی تھا اور نہ اس کے گرنے کی آواز سنی تھی۔

“اب تم اٹھ نہ سکو گے سرسوکھے۔۔! رانا نے قہقہہ لگایا۔ “بس کسی ایسی بطخ کی طرح پڑے رہوجو چت لیٹا کر سینے پر کنکری رکھ دی گئی ہو! مجھے اسی کا انتظار تھا۔ مگر تم تو ایسے بھی ڈفر ہو! تم غالبا یہ سمجھتے تھے کہ رانا اتفاقا ہاتھ آگیا ہے اسی لئے اس پھر بھی غور نہ کرسکے کہ جو شخص کسی سے چھپتا پھر رہا ہو وہ بھلا کار کے اندر روشنی کیوں رکھنے لگا۔

کار کے اندر میں نے اس توقع پر روشنی کی تھی کہ شاید تم پھنس ہی جاؤ۔۔ وہی ہوا۔۔ یہاں کچھ دیر پہلے تمہارے آدمی تھے جنہیں میرے آدمیوں نے ٹھکانے لگا کر ان کی جگہ خود لے لی تھی۔۔ مجھے تمہارے سارے اڈوں کا علم تھا اس لئے اس وقت ہر اڈے پر میرے ہی آدمی موجود ہوں گے!

اتنی دردسری تو محض اس لئے مول لی تھی کہ تمہاری زبان سے اعتراف کراسکوں کہ اس کالی تنظیم کے سربراہ تم ہی ہو۔۔ تم ہی وہ وطن فروش ہو جس نے ملک کو تباہ کردینے کی سازش کی تھی۔۔ ہاہا۔۔ تم اٹھ نہیں سکتے۔۔ بس اسی طرح بے بسی سے ہاتھ پیر مارتے رہو!

میں یہ بھی جانتا تھا کہ تم لیٹ جانے پر خود سے نہیں اٹھ سکتے تین چار نوکر تمہیں کھینچ کھانچ کر بستر سے اٹھاتے ہیں اسی کام کے لئے تم نے تین چار پہلوان رکھ چھوڑے ہیں۔۔!”

“مجھے۔۔ اٹھاؤ۔۔ دس لاکھ!” سرسوکھے چیخا!
جولیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔!
“تم اس فکر میں تھے کہ مجھے اور عمران دونوں کو ٹھکانے لگا دو۔۔ اس لئے اسمگلنگ کی کہانی لے کر عمران کی بیوی کے پاس پہنچ گئے تھے۔۔!”
“اے۔ تم کیا بکواس کر رہے ہو!” جولیا بگڑ گئی۔۔!
“تم عمران کی بیوی نہیں ہو؟” رانا نے بڑی معصومیت سے پوچھا!
“نہیں۔۔!”

“اوہ۔۔ تو اس نے بکواس کی ہوگی۔۔ بہرحال تو پھر تم اس سے اتنی ہی قریب ہوسکتی ہو کہ سرسوکھے تمہارا سہارا لیتا”۔
“وہ صرف میرا دوست ہے”۔
“شوہر بھی دشمن تو نہیں ہوتا!”
“زبان۔۔ بند کرو۔۔! تم کون ہو؟ اور تمہارا ان معاملات سے کیا تعلق ہے؟”

“زبان بند کرلوں گا تو تم سنو گی! خیر۔۔ تم خود ہی اپنی زبان بند کرو اور مجھے سرسوکھے سے گفتگو کرنے دو! ہاں سوکھے، تم ابھی دس لاکھ کی بات کر رہے تھے! دس کروڑ اور دس ارب کی باتیں شروع کرو پھر شاید مجھے سوچنا پڑے کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے!”

“تم کیا چاہتے ہو؟” سرسوکھے نے بے بسی سے پڑے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔!
“تمہارے ہاتھوں کے لئے اسپیشل ہتھکڑیاں بنوائی ہیں! دیکھنا چاہتا ہوں کہ فٹ ہوں گی یا نہیں۔۔؟”
“تم بلیک میلر ہو؟۔۔”
“ہاں میں اپنے ملک و قوم کے لئے سب کچھ کرسکتا ہوں! بلیک میلنگ تو تفریحا بھی ہوجاتی ہے۔۔!”

“تم کون ہو۔۔؟” سرسوکھے نے خوف زدہ سی آواز میں پوچھا!
“جوزف۔۔!” رانا نے جواب دینے کی بجائے آواز دی!
دوسرے ہی لمحے جوزف کمرے میں تھا اور اس کے ہاتھوں میں بڑی بڑی اور وزنی ہتھکڑیاں تھیں۔۔!
“ہتھکڑی لگا دو!” لیکن خیال رکھنا کہ کہیں وہ تمہارے سہارے اٹھ نہ آئے! ورنہ پھر اس کا پیٹ ہی پھاڑنا پڑے گا! میں اس ہاتھی کو زندہ لے جانا چاہتا ہوں۔۔!”

جوزف اس کا مطلب سمجھ گیا تھا اس لئے وہ کوشش کر رہا تھا کہ قوت صرف کئے بغیر ہی اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دے۔ لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔ تب رانا نے صفدر کو آواز دی اور جولیا چونک کر اسے گھورنے لگی صفدر بھی اندر آیا۔۔!
“چلو بھئی۔۔ تم بھی مدد کرو جوزف کی” رانا نے کہا اور جولیا کھسک کر اس کے قریب آگئی! وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔

“فرمائیے محترمہ۔۔!”
“تم کون ہو؟” جولیا نے آہستہ سے پوچھا۔
“ہم۔۔ رانا تہور علی صندوقی ہیں!۔۔ ہمارے حضور ابا۔۔ یعنی کہ آنرایبل فادر۔۔”
“تم جھوٹے ہو۔۔!” سرسوکھے حلق پھاڑ کر چیخا!” تم ان لوگوں سے بھی کوئی فراڈ کرو گے۔۔ صفدر تم تو عمران کے ساتھی ہو! جولیا اس کے باتوں پر یقین نہ کرو! یہ تمہیں بھی ڈبوئے گا!”

“مگر کچھ دیر پہلے تو یہ تمہاری فرم کا ایک نالائق ملازم تھا”۔ جولیا نے زہریلے لہجے میں کہا!
“کچھ بھی ہو تم اس سے وفا کی امید نہ رکھنا یہ تمہیں اور صفدر کو یہاں سے زندہ واپس نہ جانے دے گا۔۔!”
“مجھے یقین ہے۔۔ تم بکواس نہ کرو!” صفدر نے اس کے منہ پر گھونسہ مارتے ہوئے کہا! وہ دونوں مل کر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال چکے تھے!

hathkadi

hathkadi

“پچھتاؤ گے۔۔ تم لوگ پچھتاؤ گے۔۔!” سرسوکھے کراہا!
“تم ڈفر ہو سرسوکھے!”۔۔ دفعتا رانا نے کہا۔ “عمران اس وقت بہت زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے جب اسے خود اپنی ہی تلاش ہو۔۔ کیا سمجھے!”
“میں نہیں سمجھا! تم کیا کہہ رہے ہو؟”
“عمران کو عمران کی تلاش تھی اس لئے تم چکر کھا گئے تھے! سرسوکھے اگر عمران کو عمران کی تلاش نہ ہوتی تو تم کبھی روشنی میں نہ آتے!”

“تم ۔۔ تم۔۔ عمران۔؟”
“ہاں! میں عمران۔۔!” عمران سینے پر ہاتھ رکھ کر خفیف سا خم ہوا اور پھر سیدھا کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ “میں جانتا تھا کہ تم لوگ کیپٹن واجد کی گرفتاری کے بعد سے رانا تہور علی کے پیچھے پڑ جاؤ گے! مجھے سرغنہ پر ہاتھ ڈالنا تھا جو اندھیرے میں تھا! لہذا میں نے کیپٹن واجد کے ان ساتھیوں میں جنہیں میں نے دانستہ نظر انداز کردیا تھا یہ بات پھیلانے کی کوشش کی کیپٹن واجد کے بعض اہم کاغذات رانا تہور علی نے عمران کے ہاتھ لگتے ہی نہیں دیئے اور عمران اب رانا تہور علی کی تلاش میں ہے اور رانا تہور علی کوشش کر رہا ہے کہ وہ عمران کو ختم ہی کردے۔

تم نے سوچا کہ کیوں نہ دونوں ہی کو ختم کردیا جائے! لہذا تم ڈھمپ اینڈ کمپنی جا پہنچے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ جولیا کا قرب حاصل کرسکو! ہاں مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کسی زمانے میں روشی نے بھی تمہاری فرم کی ملازمت کی تھی! لیکن یہ قطعی غلط ہے کہ تم نے مجھے اسی کے توسط سے پہچانا تھا۔

سیکرٹ سروس والوں پر تمہاری نظریں پہلے ہی سے تھیں اور تم یہ بھی جانتے تھے کہ میں ان کے لئے کام کرتا ہوں بہرحال تم اس لئے آئے تھے کہ ہم میں گھل مل کر تم بھی رانا تہور علی کی تلاش کرنے والی مہم میں شریک ہوسکو اور جب وہ مل جائے تو چپ چاپ اسے اور عمران دونوں کو میٹھی نیند سلا دو۔۔

اس لئے تم نے اپنے آفس کے پراسرار اسمگلروں کی کہانی تراشی تھی۔ تقریب کچھ تو پہرملاقات چاہیئے! تمہیں عمران کی تلاش تھی لیکن وہ ہمیشہ بحیثیت عمران تمہاری نظروں میں رہا ہے تم اسے دیکھتے تھے اور نظرانداز کردیتے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں تمہیں دھوکا دینے میں کیسے کامیاب ہوتا! تم یہ کیسے سمجھتے کہ عمران اور تہور علی میں چھڑ گئی ہے وہ دونوں ایک دوسرے کو رگڑ دینا چاہتے ہیں۔۔!”

سرسوکھے نے آنکھیں بند کرلیں تھیں! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ شروع سے اب تک کے واقعات کو ذہنی طور پر ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہو۔۔!

عمران نے کچھ دیر خاموش رہ کر قہقہہ لگایا۔ “ہاہا ۔ سوکھے رام! جب میرے کرایہ کے آدمیوں نے ندی کے کنارے مجھ پر اور صفدر پر حملہ کیا تھا تو تم یہی سمجھے تھے کے حملہ رانا تہور علی کی طرف سے ہوا تھا۔۔

وہ ڈرامہ میں نے اسی لئے اسٹیج کیا تھا کہ تم یہی سمجھو۔ موٹی عقل والے موٹے آدمی تم اتنا نہیں سوچ سکتے تھے کے کھلے میں ہم پر فائرنگ ہوئی تھی۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی صفدر بچ نکلا تھا۔۔! میں تو خیر دریا ہی میں کود گیا تھا!”

صفدر نے پلکیں جھپکائیں! اسے وہ واقعہ اب بھی یاد تھا لیکن اصلیت اسی وقت معلوم ہوئی تھی، اس کے فرشتے بھی اس موقع پر یہ نہ سوچ سکتے کہ جس کا تعاقب کرتے ہوئے وہ ندی تک پہنچے تھے عمران ہی کا آدمی تھا اور وہ فائرنگ بھی مصنوعی ہی تھی۔

ہوسکتا ہے کہ گولیوں والے کارتوس سرے سے استعمال ہی نہ کئے گئے ہوں لیکن بچ نکلنے کے بعد تو وہ اسے معجزہ ہی سمجھتا رہا تھا کیونکہ فائرنگ جھاڑیوں سے ہوئی تھی اور وہ کھلے میدان میں تھے اوٹ کے لئے کوئی جگہ نہیں مل سکتی تھی۔۔ ادھر جولیا کوعمران کی تحریر یاد آگئی جو سرکنڈوں کی جھاڑیوں کے درمیان ملی تھی۔۔

عمران نے پھر قہقہہ لگایا اور بولا! ” میں نے خود ہی تمہیں موقع دیا تھا۔ کہ تم میرے کچھ آدمیوں کو پکڑ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ مجھے تمہارے مختلف اڈوں کا علم ہوسکے اور تم دوسرے چکر میں تھے! تم انہیں پکڑواتے تھے اور پھر ایسے حالات پیدا کرتے تھے کہ وہ نکل جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھ تک یہ بات پہنچے کہ وہ لوگ سرسوکھے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں! اور مجھے نہ صرف سرسوکھے کی اسمگلنگ والی کہانی پر یقین آجائے بلکہ میں اس الجھن میں بھی پڑ جاؤں کہ آخر ان اسمگلروں کو رانا تہور علی سے کیا سروکار۔۔!

تمہیں یقین تھا کہ اس طرح میں تم پر اعتماد کرکے تمہیں رانا تہور علی والے معاملہ میں بھی شریک کرلوں گا! اس طرح تمہیں رانا تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔۔!”
“باس!” دفعتا جوزف ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “تم نے اس رات اندھیرے میں سبز رنگ کی بوٹ دیکھنے کی ہدایت دی! مجھے بتاؤ کہ میں اندھیرے میں سبز رنگ کیسے دیکھ سکتا تھا؟”

“بکواس بند کرو! یہ میں نے اسی لئے کیا تھا کہ تم یہی پوچھنے کے لئے مجھے تلاش کرتے ہوئے شراب خانے میں آؤ۔۔ اور حلق تک تاڑی ٹھونس لو!”
“میں قسم کہا سکتا ہوں کہ مجھے دس سال بعد تاڑی نصیب ہوئی تھی”۔
جوزف نے غالبا” تاڑی کا ذائقہ یاد کرکے اپنے ہونٹ چاٹے تھے!

“بکواس بند کرو!” عمران نے کہا اور پھر سرسوکھے کی طرف دیکھنے لگا جو زمین میں پڑا اس طرح ہانپ رہا تھا جیسے کچھ دیر پہلے کی اچھل کود سے پیدا ہونے کی تھکن اب محسوس ہوئی ہو۔ دفعتا اس نے کھنکار کر کہا۔
“میں بہت بڑا آدمی ہوں! تمہیں پچھتانا پڑے گا! اگر تم کسی کو میری کہانی سنانا چاہو گے تو وہ تم پر ہنسے گا۔ تمہیں پاگل سمجھے گا!”

“پاگل تو لوگ ویسے ہی سمجھتے ہیں سوکھے رام۔۔ مجھے بالکل دکھ نہ ہوگا۔ لیکن تم خود ہی عدالت کے لئے اپنے خلاف سارا ثبوت مہیا کرچکے ہو۔ یہاں ایک ٹیپ ریکارڈ بھی موجود ہے جس پر شروع سے اب تک ہماری گفتگو ریکارڈ ہوتی رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب بھی ہو رہی ہے۔۔!”

دفعتا سرسوکھے پر چنگھاڑنے کا دورہ سا پڑ گیا لیکن ٹیپ ریکارڈر ایک بھی صحیح وسالم گالی ریکارڈ نہ کرسکا ہو! سرسوکھے کی ذہنی حالت اتنی اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی کہ وہ مختلف گالیوں کو مربوط کرکے انہیں قابل فہم بنا سکتا۔۔!

دوسرے دن عمران جولیا کے فلیٹ میں نظر آیا! وہ اسے بتا رہا تھا کہ اس نے تنویر کو اسی لئے فون پر بور کیا تھا کہ وہ جولیا کو بور کرے۔ عمران کو یقین تھا کہ جولیا تنویر کی زبانی اس کی بکواس سن کر ضرور تاؤ میں آجائے گی اور نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ اسی وقت سرسوکھے کے ساتھ نکل کھڑی ہو۔۔!

“سرسوکھے نے تم سے تعاقب کرنے والے کے متعلق بحث کرکے یہی معلوم کرنا چاہا تھا کہ تم رانا کو پہچانتی ہو یا نہیں۔ تم نہیں پہچانتی تھیں! اس لئے اس نے صحیح اندازہ لگایا اور اپنے کام میں لگ گیا۔۔!”

“ایکس ٹو نے مجھے فون پر ہدایت دی ہے کہ میں رانا کے وجود کو راز ہی رکھوں”۔ جولیا نے کہا۔ “اس کا بیان ہے کہ ہم لوگوں میں سے صرف صفدر اور میں رانا کے وجود سے واقف ہوں! بقیہ لوگ نہیں جانتے! تو کیا تمہارا رانا والا رول ابھی برقرار رہے گا؟”
“فی الحال وہ مستقل ہے!”

“تب پھر یہ سمجھنا چاہیئے کہ اس پارٹی میں سب سے زیادہ اہمیت تمہیں ہی حاصل ہے”۔
“یا پھر میری بیوی کو حاصل ہوسکتی ہے!” عمران بڑی معصومیت سے کہا!
جولیا بڑا برا سا منہ بنا کر دوسری طرف دیکھنے لگی اور عمران اٹھتا ہوا بولا بہرحال مجھے اس غیر ملکی سازش کی جڑوں کی تلاش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی موٹی جڑ ہاتھ آئی

roots

roots

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش اسے کسی چڑیاگھر کی زینت بنایاجاسکتا!

اس کے پھرتیلے پن نے تو میرے بھی چھکے چھڑا دیئے تھے لیکن گر جانے کے بعد وہ کس طرح بے بس ہوگیا تھا، دنیا کا آٹھواں عجوبہ۔۔!”

اس کے بعد نہ جولیا نے اسے رسما ہی روکا اور نہ عمران ہی تفریح کے موڈ میں معلوم ہوتا تھا۔

ختم شد

تحریر: ابن صفی

جڑوں کی تلاش ( پہلی قسط)
جڑوں کی تلاش ( قسط 2)
جڑوں کی تلاش (آخری قسط )