fbpx
اس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریں
عشق کا تجربہ ضروری ہے
جب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیں
دل رنجیدہ کو اکثر یہی سمجھاتے ہیں
ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئی
تجھ سے بچھڑ کے تنہا نہ چلتے پر کیا کریں
ایسی تاریکی ہے کہ نام بجھے جاتے ہیں
دنیا میں ہنگامہ برپا لگتا ہے
بے اثر ٹھہری مسیحا کی دعا میرے بعد
نزر نامہ مہ و شانِ شوخ پیکر کیجیے
رند کو مے چاہیے واعظ کو ایماں چاہیے
ہم قافلہ خوشبوئے ایوانِ وفا ہیں
ٹھر گیا ہے کہیں دل ، سمٹ گئی ہے نظر
درد سے دل نے آشنائی کی
آزردگئی جاں کا ہنر سیکھ رہے ہیں
اس شہر تجارت میں ہر چیز میسر ہے
ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا
نام آوروں کے شہر میں گمنام گھومنا