fbpx
خواب اور حقیقت
گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل
یہ زمینی بھی زمانی بھی
تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے
اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے
ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں
بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت
نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو
ہم آفتاب سے،  ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
نزرِ میر
امّی