fbpx
چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں
شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے
ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں
پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے
جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے
کیا خبر تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دیگا
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں