fbpx
یکسوئی
جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں
میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی
تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
کبھی کبھی
محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے
تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی
ساحر لدھیانوی