دل میں لیے ہر بات رہ گئے
ابھی کل پرسوں
کشمیر کا نوحہ
آگہی کے عذاب سے ڈر کر
تبدیلی ے سیاست میں
پھر مجھے خاک میں ہی چاہے ملایا جائے
رحل دل پر اس کی یادوں کا صحیفہ رکھ دیا
وہ ایک شخص
حسن بازار کا تماشا ہے
بچھڑوں نے جب ملنا نہیں، پھر عید کیا، تہوار کیا؟
آنکھوں  کی  دہلیز  پہ  ٹھہرا  دریا دینے والی تھی
مسکن محبوب
کشمیر کا نوحہ
تھکن
اِس درجہ پُریقین تھے وہم و گمان میں
موسمِ گُل کی حقیقت کا پتا دیتی ہے
میں تیرے شہر کی بنیاد ہلا سکتا ہوں
کوئی پتھر بھی میرا پیار سمجھ سکتا ہے
رنج و اُلفت کی راجدھانی پر
سفر دشوار ہونا ہے
غزل
سائباں نہیں کوئی
دشمن یہ زمانہ
Page 1 of 36123Next ›Last »