fbpx
پہچان لیجیے
میری تصویر فضائوں میں اچھالا نہ کرے
یہ ہم جو سب میں تری خو تلاش کرتے ہیں
خود کلامی   اے جانِ حیات
یہ عجیب لذتِ درد تھی کہ جو آ کے دل میں سما گئی
ابھی وقت ہے
اب کے اس لمحہ  بے درد کے  بارے  لکھنا
رستی ہوئی سسکیاں!
دل میں لیے ہر بات رہ گئے
ابھی کل پرسوں
کشمیر کا نوحہ
آگہی کے عذاب سے ڈر کر
تبدیلی ے سیاست میں
پھر مجھے خاک میں ہی چاہے ملایا جائے
رحل دل پر اس کی یادوں کا صحیفہ رکھ دیا
وہ ایک شخص
حسن بازار کا تماشا ہے
بچھڑوں نے جب ملنا نہیں، پھر عید کیا، تہوار کیا؟
آنکھوں  کی  دہلیز  پہ  ٹھہرا  دریا دینے والی تھی
مسکن محبوب
کشمیر کا نوحہ
تھکن
اِس درجہ پُریقین تھے وہم و گمان میں
Page 1 of 37123Next ›Last »