fbpx
چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں
سمندر پار ہوتی جا رہی ہے
محلہ سائیں سائیں کر رہا ہے
وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھا
یہ زندگی کسی گونگے کا خواب ہے بیٹا
جب میں دُنیا کے لیے بیچ کے گھر آیا تھا
سب ہُنر اپنی بُرائی میں دکھائی دینگے
اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں
رشتوں کی دھوپ چھائوں سے آزاد ہو گئے
زندگی بھر دور رہنے کی سزائیں رہ گئیں
کہاں وہ خواب محل تاج داریوں والے
گھر سے یہ سوچ کہ نکلا ہوں کہ مر جانا ہے