fbpx
شام کے درد سے جھولی بھر لی
شدتیں
تم نے دیکھا ہے مجھے
شام کے پار کوئی رہتا ہے
محبت کم نہیں ہو گی
محبت خوبصورت ہے
نہیں شامِ سفر ایسا نہیں ہے
میں پوچھتا ہوں کہ یہ کاروبار کس کا ہے
کر کے کوئی ایک ذرا سی بات سنہری
کبھی فاصلوں پہ کبھی قیام پہ زندگی
اتنا تو ہوتا نہیں کھنڈر شام کے بعد
ہمسفر کوئی بھی نہیں اب تو
ہوائیں لوٹ آئی ہیں
ہمارے دل کی قائل ہو گئی تھی
غم کے پاتال میں تمہیں چاہا
دل کسی بارِ بے وفا کی طرح
دل ابھی لوٹا نہیں
ڈر گئے درد، ستم سہم گئے
چاند کے ساتھ مری بات نہ تھی پہلی سی
ایک دن چاند سے بچھڑنا ہے
اپنی خاطر ہی بنے ہیں تالے
آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد
ابھی کچھ پل ہمارے ہاتھ میں ہیں
اب یہی آخری سہارا ہے