fbpx
ماضی
نا رسائی
میرے دشمن کی موت
خواہش اور خواب
خود کلامی
کب تک چلتا رہے گا راہی
جس نے مرے دل کو درد دیا
جادو گھر
جب بھی گھر کی چھت پر جائیں
ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیا
گوہرِ مراد
غم کی بارش
بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے
باد بہار غم میں وہ آرام بھی نہ تھا
ایک خوش باش لڑکی
اپنے گھر کو واپس جائو
آئینہ بن کر کبھی ان کو بھی حیراں دیکھیے