fbpx
وہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتا
یہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیں
ٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دے
تیرے جانے کے بعد یہ کیا ہوا
رونا بھی جو چاہیں تو وہ رونے نہیں دیتا
پھر نئے خواب بُنیں پھر نئی رنگت چاہیں
پیار کے دن اب بیت گئے ہیں
پیار کرنے والوں کا بس یہی فسانہ ہے
کوئی موسم بھی ہم کو راس نہیں
نئی رُت
خشک ڈالی سے گھنے پیڑ پہ ہجرت کرنا
کھلنے لگے ہیں پھول اور پتے ہرے ہوئے
جیسا جسے چاہا کبھی ویسا نہیں ہوتا
کلی دل کی اچانک کھل گئی ہے
ہم کو تنہا چھوڑ گیا وہ
ہوا کے رخ پر چراغ الفت کی لو بڑھا کر چلا گیا ہے
دیکھی ہیں جب سے ہم نے نزریں اتاریاں ہیں
ڈھل چکی شب چلو آرام کریں
وہ جو ہم کو بھلائے بیٹھے ہیں
ایسے ہوئے برباد تیرے شہر میں آ کر
اگلے سال
آپ کہتے ہیں بے وفا ہیں ہم