برسلز: حکومت پاکستان چھ سالہ برطانوی بچی ”عطیہ ویلکن سن” کو بازیاب کرائے ، رکن ای یو پارلیمنٹ سجاد کریم کا مطالبہ

Gemma Wilkinson

Gemma Wilkinson

برسلز : یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمنٹ میں فرینڈز آف پاکستان گروپ کے چیئرمین سجاد حیدر کریم نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں لاپتہ ہونے والی برطانوی لڑکی کو بازیاب کرائے۔ مانچسٹر کی رہنے والی چھ سالہ اس لڑکی کو جس کے والدین برطانیہ میں ہیں، تین سال قبل پاکستان لے جایا گیا تھا اور وہ اس وقت سے لاپتہ ہے۔

عطیہ ویلکن سن وانیشڈ نامی اس لڑکی نومبر2009ء کواپنے والد کے ساتھ لاہور گئی تھی لیکن پھر وہ واپس برطانیہ نہیں آئی۔ اس کے والد رضوان علی انجم جو برطانوی عدالت کو اپنی بیٹی کے بارے میں بتانے سے قاصر رہے، اس وقت جیل میں ہیں۔سجادکریم نے اس مسئلے کو پاکستانی وزیرخارجہ حناربانی کھر اور سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کے دورہ یورپی پارلیمنٹ کے موقع پر اٹھایا۔سجاد کریم جو برطانیہ کے شمال مغرب سے رکن یورپی پارلیمنٹ ہیں اور عطیہ کی والدہ جیماویلکن کے ساتھ اس کیس پر کام کر رہے ہیں، نے کہاکہ میں ایک ایسی ماں کے بارے میں بات کررہا ہوں جس کی بچی کو اس سے دورکرکے لاپتہ کر دیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی وزیرخارجہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گی اور عطیہ کی برطانیہ واپسی میں مدد فراہم کریں گی۔ سجادکریم نے بتایا کہ ان کی وزیرخارجہ کے ساتھ نجی بات چیت مثبت رہی ۔ کھلے سیشن کے دوران وزیرخارجہ حنا ربانی کھرنے اس بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مسئلے پرسنجیدگی سے غور کریں گے اور جوکچھ ہم سے ہوسکا، کریں گے۔

عطیہ کی ماں جیماویلکن سن اپنی بیٹی کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کی کئی بار اپیل کرچکی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ انھیں کوئی پتہ نہیں کہ ان کی بیٹی زندہ بھی ہے یا نہیں۔اس کیس کے بارے میں تفتیشی افسر فل اون نے اس بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہرکی ہے کہ اس سے عطیہ کے بارے میں پتہ چلانے میں مددملے گی اور اسکی ماں کی پریشانی بھی دورہوگی۔انھوں نے کہاکہ ہم اس کو تلاش کرنے میں کوشاں ہیں اور اس کے خاندان کو اس دردناک صورتحال میں تسلی دیتے رہیں گے۔عطیہ کا گذشتہ تین سالوں سے اپنی ماں اور باپ سے اور حتیٰ اپنے والد اور والدہ کے خاندانوں کے دیگر قریبی افراد سے کوئی رابطہ نہیں اور اسی لیے اس کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

رکن ای یو پارلیمنٹ سجاد کریم کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ھیگ کنونشن پر دستخط نہیں کئے جس کے رکن ممالک ایک دوسرے کے فیملی کورٹس کے احکامات کا احترام کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عطیہ کی ماں کو پاکستان میں ضروری قانونی مدد ملنااور اپنی بیٹی کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے۔ اسی لیے میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس بچی کاپتہ لگانے اور اس کی برطانیہ واپسی کے لیے اقدامات کرے۔ سجادکریم نے کہاکہ انھیں یقین ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت راست اقدام کرے گی اور آئندہ بھی یورپی باشندوں کے پاکستان میں اغوا کی روک تھام کے لیے ضروری کاروائی کرے گی۔