زرداری ، شہباز اور بھارتی صحافی

Rohail Akbar

Rohail Akbar

صدر آصف علی زرداری کی طرف سے وزیرستان میں ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشات کی دوٹوک الفاظ میں نفی اور قومی مفاہمت کے خلاف کسی اقدام سے قطعی طور پر انکار نے پوری قوم کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو ختم کردیاہے ‘اگر سوات اور بلوچستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں ملٹر ی آپریشنز سے پہلے بھی 18 کروڑ پاکستانی عوام کی آواز پر کان دھرے جاتے تو ملک موجودہ صورتحال سے دوچار نہ ہوتا اور پرائی جنگ میں کودنے سے پاکستان کو ہونے والا 100 ارب ڈالر کا معاشی اور 42 ہزار سے زائد معصوم شہریوں کا جانی نقصان نہ اٹھانا پڑتا بالآخر حکومت کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو ہمارے ناراض لوگوں سے کیوں نہیں۔

ملک میں قیام امن کے لیے قومی مفاہمت اور ہم آہنگی ضروری ہے اگر صدر زرداری جرأت کا مظاہرہ کر کے امریکی جنگ سے لاتعلقی اور ملکی سلامتی اور قومی خود مختاری کے لیے قومی امنگوں کے مطابق فیصلے کرنے کا اعلان کر دیتے تو عید کی خوشیاں دوبالا ہوجاتیں اور امریکی مفادات پر ملکی مفادات کو قربان کرنے کا شرمناک سلسلہ بند ہو جاتا جبکہ خطے میں قیام امن کے لیے چین کے کردار اور پاکستانی مفادات کے تحفظ پر پوری قوم چین کی مشکور ہے ۔ چین نے ہمیشہ پاکستان سے سچی دوستی اور خیرخواہی کا ثبوت دیااور کسی بھی مشکل گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا لیکن چین جیسا مخلص دوست بھی حکمرانوں کی کرپشن ، لوٹ مار اور غلامانہ رویے کا شاکی ہے اور بار ہا اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرچکاہے اس کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی بجا طور پر ایک بار پھر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے التوا کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے گلہ کیاہے کہ امریکی دبائو کی وجہ سے پاکستانی حکومت اس عوام دوست منصوبے کی راہ میں دیوار بنی ہوئی ہے ابھی سردیوں کا آغاز نہیں ہوا۔

گیس پریشر کم ہو چکا ہے اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور بندش کے مژدے سنائے جارہے ہیں حکومت ملک و قوم کے مفاد میں اس منصوبے پر امریکی دبائو کو مسترد کر کے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کر دے اور آئندہ کسی قسم کی امریکی ڈکٹیشن کو قبول نہ کیا جائے جبکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے تجارت کے معاہدے کرنے کے بعد اب وہاں سے پٹرول خریدنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور ایران سے دوری اختیار کی جارہی ہے حکمرانوں کا یہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

اصغر خان کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد لیگی قیادت کی طرف سے گذشتہ روز پہلی بار پنجاب کے وزیر اعلی نے بہاولنگر کے جلسہ میں کھل کر بات کی انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو مسلم لیگ ن کی قیادت دل و جان سے قبول کرتی ہے تا ہم اس کی تحقیقات کے لیے نیک اور دیانت دار افراد پر مشتمل قومی کمیشن تشکیل دیا جائے اور مجوزہ کمیشن گذشتہ تمام انتخابات میں کی گئی دھاندلی اور لوٹ مار سے متعلق تمام معاملات کا جائزہ لے۔ 2009 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کرنے کے بعد مسٹر زرداری نے آئی بی کا 50کروڑ روپیہ اپنی حکومت بنانے کے لئے دیا، 2008 میں سابق آمر مشرف نے بھی کنگز پارٹی کو جتوانے کے لیے اپنے امیدواروں کو اربوں روپے فراہم کیے جبکہ سابق دور میں پنجاب بنک میں 80 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا۔ مجوزہ قومی کمیشن کا دائرہ کار وسیع ہونا چاہئیے اور اس کے پاس ان تمام معاملات کی چھان بین کا اختیار ہو اور مسلم لیگ (ن) اس کی بھر پور معاونت کرے گی۔

Pak India Flag

Pak India Flag

پاک انڈیا میڈیا پیس کانفرنس میں شرکت کیلئے آنیوالا بھارتی صحافیوں کا وفد پانچ روزہ دورہ کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت چلا گیا۔بھارتی صحافیوں نے اپنے دورہ پاکستان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے کامیاب دوروں سے نہ صرف دونوں ملکوں کے صحافی بلکہ عوام بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے جو نفرت کے خاتمے اور امن ، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کا باعث بنے گا۔

واہگہ بارڈر پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری،سیکرٹری ذوالفقار مہتو،ممبر گورننگ باڈی بابا مزمل گجر، رانا اکرام اور استقبالیہ کمیٹی کے ارکان شعیب عزیز، محسن اکرم ، بلال غوری ،قمرالزمان بھٹی ،ماجد حسین، محبوب احمد نے مہمانوں کو الوادع کیا ۔ بھارتی وفد کے سربراہ اور چندی گڑھ پریس کلب کے صدر سکھبیر سنگھ جو دورہ پاکستان کے دوسرے دن علیل ہوگئے تھے نے اپنے میزبان لاہور پریس کلب کے ممبران اور ان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے دورے کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور دونوں ملکوں کے مابین تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرناہے اور ہم اپنے اس دورے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

تحریر : روہیل اکبر
03466444144