ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ

Riaz Malik

Riaz Malik

الیکشن کے قریب آنے کیساتھ ساتھ ضلع چکوال میں کئی بار سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے چند روز قبل تو مقابلہ تحریک انصاف مسلم لیگ ن کا ہو رہا تھا اور تھریک انصاف کے روح رواں سردار غلام عباس مقابلے کی پوزیشن میں تھے کہ اچانک انہئیں کیا سوجی کہ جیتی ہوئی بازی الٹ گئی انہوں نے اپنے سابقہ سیاسی حریفوں کو گلے لگانے کی سوچ لی ان ھالات میں تو کوئی اناڑی سیاست دان بھی ایسا نہ کرتا جو ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے ہاتھوں ہو گیا۔

میرے خیال میں کچھ مشیر ان کے جوڑو ں میں بیٹھ گئے جنہوں نے جب موصوف کو مشورہ دیا کہ ان کا ضلع چکوال میں ایک بڑا ووٹ بنک ہے سردار صاحب پھولے نہ سمائے اور جب انہیں یہ بتایا گیا کہ اوپر سے مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک یہ دیکھ کر تو سردار جی ؟ پھر کیا انہوں نے بغیر سوچے سمجھے مسلم لیگ ن میں چھلانگ لگانے کی کوشش کر ڈالی یوں تو سردار جی چھلانگیں مارنے کے ماہر ہو چکے تھے مگر ان کی یہ چھلانگ ان کے لئے خطر ناک ثابت ہو گئی اور ان کا سیاسی کیریئر دائو پر لگ گیا اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق ہر صورت میں مسلم لیگ ن کے مضبوط قلعے کو تسخیر کرنے کے لئے ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم نے چکوال کو فوکس کر رکھا ہے۔

ان میں اب سردار جی کے لئے تو کوئی جگہ نظر نہیں آرہی البتہ انہوں نے اپنے جانثار ساتھیوں کو تحریک میں ہی بیٹھا رکھا ہے کہ کہیں ہم تو ڈوبے ہیں صنم والی بات نہ بن جائے پیپلز پارٹی نے حلقہ NA60کو محاذ بنا رکھا ہے اس حلقہ کے لئے پانچ جنوری کو دورہ چکوال کے موقع پر بڑے پیکج کا اعلان کر کے اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے قلعہ پر حملہ کریں گے جبکہ ڈپٹی وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی NA61پر مہربانیوں کی بارش کر رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ دونوں بھای مل کر کچھ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ،،،؟اس وقت حلقہNA60 کی پوزیشن جو تھوڑی واضع ہوئی ہے اس میں راجہ منور احمد کی صاحبزادی ماہا ترین راجہ تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں انہوں نے اس حلقہ میں طوفانی دورے شروع کئے ہیں یہ حلقہ پی پی 21اور پی پی 20کو ملا کر بنایا گیا ہے یہاں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ گردانا جاتا ہے اس حلقہ میں پیپلز پارٹی نے راجہ ثناالحق کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے راجہ ثناال؛حق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے رشتہ دار بھی ہیں اور وزیر اعظم چکوال کا دورہ بھی انہی کی عما پر کر رہے ہیں اس حلقہ میں جماعت اسلامی کے ملک محمود اعوان بھی میدان میں اتریں گے۔

جماعت اسلامی اور دینی جماعتوں کا بھی اس حلقہ میں ایک مخصوص ووٹ بنک ہے اور ان جماعتوں نے ہمیشہ الیکشن میں اہم کردار ادا کیا ہے مسلم لیگ ن نے بظاہر تو کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا مسلم لیگ ن کے پاس امیدواروں کی بڑی لائن ہے اور ہر کوئی اپنا ہوم ورک کرتے نظر آرہا ہے تاہم جنرل مجید ملک کا خدو خال بتا رہا ہے کہ اس مرتبہ امیدوار وہی ہوں گے مسلم لیگ ن کی قیادت ببھی خاموش بیٹھی ہے مگر اندر اندر میں اپنے امیدواروں کو گرین سگنل دے رکھے ہیں کیونکہ کئی امیدوار جو گرما گرمی میں تھے خاموش ہو رہے ہیں۔

ان کے ارادے نہ تو مسلم لیگ ن کو چھوڑنے کے ہیں اور نہ ہی مخالف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے اس طرح مسلم لیگ ن کا مقابلہ صرف پیپلز پارٹی سے ہی ہو گا کون میدان مارے گا ابھی کچھ کہا نہئیں جا سکتا مسلم لیگ ن کا قلعہ بھی تاحال تو مضبوط ہی نظر آرہا ہے حلقہ پی پی 21میں تحریک انصاف مکمل طور پر ڈاویں ڈول نظر آرہی ہے سردار غلام عباس کے جانے کے بعد اب اس حلقہ میں امیدوار تو ہوں گے مگر وہ جیسے ہمیں لیتا کوئی نہیں اور تمیں دیتا کوئی نہیں پیران کرولی اور ملک اختر شہباز بھی اس وقت تک تحریک انصاف سے چمٹے نظر آئیں گے جب تک سردار جی کسی پارٹی میں جگہ نہیں بنا لیتے اگر سردار جی نے کوئی پارٹی اپنا لی یا سردار جی کو کسی پارٹی نے گھسنے دیا تو سمجھو کہ ؟ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کا مضبوط امیدوار موجود ہے موجودہ ایم پی ائے ملک تنویر اسلم کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ ن کو امیدوار تبدیل کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی وہ اس وقت ناقابل تسخیر پوزیشن پر کھڑے ہیں اور پیپلز پارٹی بھی ان کے مقابلے میں بے بس نظر آرہی ہے جماعت اسلامی کی جانب سے ملک محمود کو ہی امیدوار بنایا گیا ہے۔

یہاں میں ایک بات واضع کتا چلوں جماعت اسلامی کی خاموشی بتا رہی ہے کہ ان کا مسلم لیگ ن سے اندرون خانہ اتحاد ہو چکا ہے جس کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہی ہو گا حلقپ پی پی 20 بھی مسلم لیگ ن کا قلعہ مانا جاتا ہے جہاں چوہدری لیاقت علی خان بھی ناقابل تسخیر ہیں یہاں بھی علی ناصر کو تحریک انصاف کا امیدوار سمجھا جا رہا ہے مقابلہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدوار شاہجہاں سرفراز راجہ کے درمیان ہی ہو گا حلقہ NA61جس کو مسلم لیگ ن کا قلعہ نہیں سمجھا گیا تاہم مسلم لیگ ن نے ہی یہاں سے کامیابی حاصل کی ہیاس حلقہ میں پی پی 22اورپی پی 23شامل ہیں یہاں چوہدری پرویز الٰہی مسلم لیگ ق کے امیدوار ہیں مسلم لیگ ن نے ابھی تک اپنا امیدوار منظر عام پر نہیں لایا تحریک انصاف اس حلقہ میں کبھی بھی مضبوط نظر نہیں آئے۔

PML N

PML N

جماعت اسلامی نے بھی اپنا امیدوار منظر عام پر لا رکھا ہے چوہدری برادران نے اس حلقہ میں پیر نثار قاسم کو مسلم لیگ ن سے توڑ کر برٹری دیکھا دی ہے پیر نثار قاسم جو مسلم لیگ ن کے مشکل وقتوں کے ساتھی تھے مسلم لیگ ن کے قائدین کی جانب سے مسلسل نظر انداز کئے جانے پر دلبرداشتہ تھے سابق ادوار کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جتنی بھی چمک دیکھائیں گے میاں نواز شریف کا دورہ چکوال ان سب کو ملیا میٹ کر دے گا کیانکہ مثل مشہور ہے کہ سو سنیار کی اور ایک لوہار کی۔

تحریر : ریاض احمد ملک