ضمنی انتخابات سے ملنے والے سبق

Pakistan Elections

Pakistan Elections

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے دس حلقوں میں گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات درحقیقت آئندہ عام انتخابات کیلئے، جن کا انعقاد آنے والے چند مہینوں میں متوقع ہے، ایک آزمائشی مشق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہفتے کے روز ہونے قومی اسمبلی کے چھ اور پنجاب اور سندھ اسمبلی کے دو، دو حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے مثبت اور منفی پہلووں کا درست تجزیہ کرکے عام انتخابات کے عمل کو بہتر بنانے اور حتی الامکان خامیوں سے پاک رکھنے کی موثر اور کامیاب کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں ماضی کے مقابلے میں کسی قدر بہتری کا مظاہرہ ہوا ہے۔ یہ یقینی طور پر ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلئے قوم کی بے مثال جدوجہد کا ثمر ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کو ابھی ترقی یافتہ جمہوری ملکوں کی سطح پر آنے اور مثالی کارکردگی کیلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ ان ضمنی انتخابات نے الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے اور کمزوریوں کو دور کرنے کا بہت اچھا موقع فراہم کردیا ہے جس سے لازما استفادہ کیا جانا چاھئے۔ قوم کی آرزو ہے کہ جس طرح آج ہماری اعلی عدلیہ کو دنیا میں ایک مثالی عدلیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ہماری سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کی کارکردگی اور بے لاگ انصاف اور جرت مندانہ فیصلوں اور اقدامات کا اعتراف کیا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری اور معیاری کارکردگی کا بھی عالمی سطح پر اعتراف کیا جائے۔ اور الیکشن کمیشن کے زیراہتمام ہونے والے انتخابات اتنے صاف شفاف ، منصفانہ اور غیرجانبدارنہ ہوں کہ ان پر کسی کی جانب سے بھی انگلی اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

 

گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات میں ملک کی دوبڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر اپنی مقبولیت ثابت کی ہے جبکہ اے این پی اور مسلم لیگ فنکشنل اور ایک آزاد امیدوار نے بھی ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔ یہ ضمنی انتخابات تحریک انصاف میں شامل ہوکر اپنی نشستوں سے مستعفی ہوجانے والے ارکان اسمبلی کی نشستوں پر ہوئے ہیں۔ اسلئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کی اصل آزمائش کیلئے ضروری تھا کہ تحریک انصاف بھی ان نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیتی۔ ضمنی انتخابات کی شکل میں تحریک انصاف کو اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کا ایک اچھا موقع ملا تھا۔ بہرصورت فی الوقت تو ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل کی کسوٹی پر ایک بار پھر اپنی مقبولیت ثابت کردکھائی ہے اور تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کا رائے دہندگان پر کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا ہے۔ لیکن یہ بات تشویش ناک ہے کہ بیشتر انتخابی حلقوں میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے۔ میانوالی اور مردان میں خواتین کو ووٹنگ سے روک دیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں خواتین رائے دہی کا آئینی حق استعمال کرنے سے محروم رہیں۔قصور اور وہاڑی میں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ ہوئی جس کے بعد سات افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔کئی مقامات پر جعلی ووٹ بھگتانے کی کوششیں ہوئیں جنہیں ناکام بنادینے کا دعوی کیا گیا ہے۔ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل معطل کرنا پڑا۔فائرنگ، تشدد اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔مرنے والا شخص اے این پی کا کارکن تھا جو مردان میں اپنی پارٹی کی جیت کی خوشی میں ہونے والی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے کی جانے والی یہ فائرنگ گھنٹوں جاری رہی اور صوبائی وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے آبائی علاقے میں ہونے والی اس کھلی قانون شکنی کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

 

برسرعام فائرنگ کرکے قانون کی دھجیاں اڑانے اور اس کے نتیجے میں ایک انسانی جان کے ضائع ہوجانے پر بھی کسی کے خلاف موقع پرکوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ قانون کی محافظ پولیس نے محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا جبکہ اے این پی کے ترجمان نے رات گئے اپنے ایک بیان میں اس واقعے پر قوم سے معافی مانگی اور یقین دلایا کہ فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اے این پی کی قیادت عدم تشدد کے فلسفے کی علمبردار ہے، اس لئے اس کی جانب سے ہلاکت خیز ہتھیاروں کی یہ نمائش اور ان کا سراسر غیرقانونی استعمال زیادہ قابل اعتراض ہے۔ ضمنی انتخابات کے دوران پیش آ نے والا سب سے زیادہ شرم ناک واقعہ ٹنڈو محمد خان کے ایک پولنگ اسٹیشن پر پیش آیا۔ یہاں سندھ اسمبلی کی نشست کیلئے پیپلز پارٹی کی امیدوار نے پولیس کی موجودگی میں انتخا بی عملے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور عملے کی خواتین پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردی۔اس تذلیل و توہین اور تشدد کے نتیجے میں انتخابی عملے کی خواتین ارکان زار و قطار روتی رہیں مگر قانون کے محافظوں نے حکمراں جماعت کی امیدوار کا ہاتھ روکنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انتخابی عملے کی ایک معزز خاتون پر پیپلز پارٹی کی امیدوار کے تھپڑوں کی بارش ٹی وی چینلوں کے کروڑوں ناظرین نے دیکھی اور ہر حساس اور غیرت مند شخص کی نگاہیں اس منظر کو دیکھ کر شرم اورندامت کے احساس سے جھک گئیں۔ کیا ہما رے ملک کی وڈیرہ شاہی پاکستان کے عوام کو اپنا نوکراور غلا م سمجھتی ہے؟ اللہ کی نگاہ میں اور اس ملک کے آئین کی رو سے تمام انسانوں اور تمام شہریوں کی عزت اور آبرو یکساں طور پر محترم ہے۔مذکورہ امیدوار نے بیک وقت کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے جس پر ان کے خلاف بھی اور جن اہلکاروں نے انہیں یہ کچھ کرنے کا موقع دیا ان کے خلاف بھی فوری کارروائی ضر وری ہے۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر کسی امیدوار کا داخلہ ویسے ہی انتخابی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے نہ یہ کہ اندر داخل ہو کر ا نتخا بی عملے کو ذلت آمیز تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔

 

سچ تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی اس امیدوار نے اپنی نااہلی انتخابی عمل کی تکمیل سے پہلے ہی ثابت کردی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق جو انتہائی کارروائی ممکن ہے، ہونی ہی چاہئے، عوام کے نام پر سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی کی قیادت کا بھی فرض ہے کہ انتخابی عمل کے دوران ہی اپنی نااہلی کا بھرپور مظاہرہ کرنے والی خاتون کو اسمبلی کی رکنیت کیلئے نااہل قرار دے اور انتخابی عملے کی جن خاتون اراکین کی انہوں نے توہین کی ہے ان سے معافی مانگنے کی ہدایت کی جائے ۔ مجمو عی طور ضمنی انتخابات کے دوران ہونے والی تمام بے قاعدگیوں کا ایک طرف الیکشن کمیشن کو پوری سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور ان کی روشنی میں آنے والے عام انتخابات کواس قسم کی خا میوں سے پاک رکھنے کی منصوبہ بندی کرنی چا ہئے، دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان کے کارکن بے قاعدگی اور قانون شکنی کا ارتکاب نہیں کرینگے اور ضمنی انتخابات میں جن کارکنوں نے ایسا کیا ہے، ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنی چا ہئے تاکہ آنے والے انتخابات عوام کی حقیقی رائے کا مظہر بن سکیں اور ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے ذریعے مسائل کے حل اور ترقی و خوش حالی کی جانب پیش قدمی ممکن ہوسکے۔