لال مسجد کے قاتل اور ہمارے اداروں کی کارکردگی !!!

Pervaiz Musharraf

Pervaiz Musharraf

لال مسجد ہمارے اداروں کیلئے ٹیسٹ کیس تھا۔ جو جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں چلائی جانے والی وکلاء تحریک سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے لائونج کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف کے اشارے پر آپریشن شروع کرنے کے لئے ایک رینجر اہلکار پر ایک ادارے سے خود ہی گولی چلوا کر لال مسجد پر حملہ کرنے کا بہانہ تراش لیا تھا۔3جولائی 2007جنرل پرویز مشرف کے جیالوں نے لال مسجد آپریش شروع کیا اور 10 جو لا ئی کو پرویز مشرف کے ہتھیار بند جیالے جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہوگئے ۔جو جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ساڑھے تین ہزار بے گناہ بچیوں کی فاسفورس بموں سے جلائی گئی کی لاشوں پر فتح مندی کے جھنڈے گاڑتے دیکھے گئے۔

ان کی اس فتح مندی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چہرے پر تاریخ کے لئے ایک کالک رقم کردی ہے۔ جس کو مستقبل کا قاری دیکھے گا اور شرم سے پانی پانی ہوگا۔جامعہ حفصہ اور لال مسجدمیںڈنڈے اٹھائی ہوئی بچیوں پر فتح مندی پر مشرف نے بڑے فخر کا اظہا ر کیا تھا۔جولائی 2007کے ان دل ہلا دینے والے وقعات کا پاکستان کے لوگوںنے بذات خود میڈیا پر مشاہدہ کیا تھا۔جس نے پوری قوم کو ذ ہنی ، جذباتی اور نفسیاتی اذیت اور صدمات سے دو چار کر دیا تھا۔

ہمارے حکمران تو خیر ٹہرے چڑی کے غلام مگر انسان اور انسانیت کا دم بھرنے والی امریکہ کی زر خرید این جی اوز کو بھی ان کے بارے میں سانپ سونگھ گیا ہے ….واہ رے زمانے کیا تیرے معیار ہیں….اُن ساڑھے تین ہزار طالبات کا کسی کو دکھ نہیں ہوا!!! اس لئے کہ وہ قرآنی علوم کی طالبات تھیں جس سے تمام عیسائت ،یہودیت اور پاکستان کی اینٹی اسلام اور سیکولر قوتیںخائف ہیں۔ ان کی نظر میں ملالہ ہی ایک ایسی طالبہ تھی جو علم کے حصول کے لئے زندہ بچ گئی ہے،اور دخترِ پاکستان بنائی جانے والی ہے۔باقی جن طلبہ و طالبات کو ڈرون حملوںکے ذریعے مارا جائے یا امریکہ کے حواری انہیں شہید کردیں اُن کی زندگیوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے اور نہ وہ طالبعلم ہیںاور نہ ہی وہ پاکستان کی بیٹیاں ہیں۔جب ملالہ جیسی امریکی ایجنٹ کی اولاد دخترِ پاکستان ہے تو وہ شہید ہونے والی بچیاں اور عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹیاں کہلانے کی زیادہ مستحق ہیں، جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی اور یہود و نصارا کی ایجنٹوں اور ان کو پروان چڑھوانے والوں پر سو سو بار لعنت بھیجیں گی۔

جن لوگوں نے سات راتیں اور آٹھ دن اس منحوس آپریشن کا مشاہدہ کیا اُن میں خاکسار بھی شامل تھا۔ایک بڑے اخبار کی رپورٹ کے مطابق “علاقے کے لوگ،میڈیا اینکرس،علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداداور سیاست دانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس مسلح کاروائی کے نتیجے میں بے تحاشہ بچیاں شہید ہوئیں”اس آپریشن سے پہلے ملک میں کہیں بھی خودکش حملوں کا تصور ہی نہ تھا۔ جب کسی کے پیاروں کی بے گناہی کے عیوض جان لی جائے گی تو وہ اس کے انتقام میں کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ لال مسجد کے ا لمناک واقعے کے بعد ملک بھر میں خود کش حملوں کا ایک ہیبت ناک سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔شروع سالوں میں خود کش حملوں کو لال مسجد کے خون آشام واقعے کا رد عمل ہی قرار دیاجارہا تھا۔پھر امریکہ کے حواریوں نے اسے تحریکِ طالبان سے منسلک کر کے واویلا شروع کردیا اور اب امریکی ایجنٹ اس سے پورا فائدہ امریکہ کو پہچا رہے ہیں۔

جنوری 2007ء میں جب مشرف کا چھوٹا آقا ٹونی بلیئر اسلام آباد میں آیا تو فراعون صفت جنرل پرویز مشرف نے پانچوں اوقات اسلا م آباد کی فضائوں میں اﷲُاکبر کی صدائوں کی گونج کو ختم کر نے کی غرض سے اسلام آباد کی تمام مساجد میں اذانوں پر بھی پابندی لگا دی تھی۔تنازعہ اُس وقت بڑھا جب مشرف نے اسلام آباد کی لبے سڑک سو سال پرانی مسجد امیر حمزہ سمیت سات مساجد کو اپنے آقائوںکے اشاروں پر شہید کرا دیا ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ” اوراس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اﷲ کی مسجد وں میں اﷲ کے نام کے ذکر کئے جانے کو منع کرے اور انکی ویرانی میں سرگرداں ہو۔ ان کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوے۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے” (سورہ بقرہ آیت نمبر١١٤،پارہ اوّل ) آج پرویز مشرف سے زیادہ کوئی شخص دنیا میں رسوا ہورہا ہے؟؟؟اور اس کا آخرت بھی انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بدتر ہوگا۔تو لال مسجد کی بچیوں نے حکومت کے مساجد پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ،اور مزید مساجد کی شہادت کو روکنے کے ردِ عمل کے طور پر لال مسجد کے سا تھ قائم چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا۔اس سے قبل انہوں نے آنٹی شمیم جو ایک پراسٹچِیوٹ تھی ۔

Pakistan Police

Pakistan Police

جس کے ساتھ ہمارے بہت سے پردہ نشینوں کے نام وابستہ تھے ۔ان میں بعض جنرلز اور سیاستدانوں کے بھی کئی نام شامل تھے۔لال مسجد کی بچیوں نے پہلے اس بد بودار گڑھے کو پولیس کی مدد سے پاٹنے کی کوشش کی ۔جو بڑے سیاسی اور سماجی ناموں کی آڑ میں بچ نکلنے میں با آسانی کامیاب ہوگئی۔اس میں ہمارے پولس کے ادارے نے اپنی مہارت دکھا کر سب کو حیران کر دیا، اور اس اسلام کے نام پر بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہمارے ادارے کرپشن کے گند میں لتھڑے ہویدکھائی د یئے۔ہمارے اداروں کی اشیرواد سے ایک جانب مساج کے نام پر غیر ملکی خوتین فحاشی پھیلا رہی ہیں۔تو دوسری جانب ایک خاص طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتیںملک کو عذاب کی طرف دھکیل رہی ہیں۔جو ان کے راستوں کی رکاوٹ بنے گا اُن کا حشر لال مسجد کی بچیوں جیسا بھیانک کر دیا جائے گا۔ان لوگوں کو نہ تو اللہ کے قانون کے پرواہ ہے اور نا ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی قانون سے کوئی فکر لاحق ہے۔

لال مسجد کی ان حافظائوں اور قاریائوںطالبات کا مطالبہ یہ تھا کہ مساجد کو گرانے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور ملک سے فحاشی کا خاتمہ کیا جائے ۔مگر ایک متکبر اور اسلام سے برگشتہ خاندان کا چشم وچراغ جو قادیانیت کا علمبرداتھا،اس فاسق و فاجرجنرل نے ،جو اس وقت پاکستان کے اقتدار پر جبر کے ذریعے قابض تھاجس نے منتخب وزیر اعظم کو کال کوٹھڑی میں ڈال کراقتدارپر قبضہ جمالیا تھا۔اُس بزدل کمانڈو نے ان ساڑھے تین ہزار بچیوں کو جو قرآنی علوم کے حصول میں مصروف تھیں،جو علم کے حصول مصروف تھیں،جو اللہ اور اس کے رسول کے دستے کی سپاہی بننے جارہی تھیں۔ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے جدید ترین ہتھیاروںاور فاسفورس بموں کے ذریعے اپنے اقتدار کو برقرار رکھوانے اور اپنے آقائوں کو خوش کرنے کی غرض سے ان بے یارو مدد گار نہتی طالبات کواسلام آباد میں کرفیو لگا کر اور میڈیا کو کورج سے روک کر بھسم کر دیا۔اگر میڈیا اس سب کی کورج کر لیتا تو جھوٹے کا منہ کالا ہوجاتا۔

سات روز و شب اس جنرل کے ترتیب دیئے گئے ڈرامے کو یہ گناہگار آنکھیں بیدار رہ کر دیکھتی رہیں۔کوئی اس ظالم کا ہاتھ روکنے والا تھا نہ اس بد بخت کو سمجھانے والا نہ تھا،اس شیطان صفت کو کسی کی کوئی بات اپیل ہی نہیں کررہی تھی۔اُس وقت ان بد معاشوں کی روح نہیں تڑپی جب ساڑھے تین ہزار علم کی دیویوں کو ہتھیاروں کے گھمنڈ میںہمارے ہی اداروں کے سور مائوں نے جلا کر راکھ کر دیا ،جس پر مغرب سے اور اس کی پالتو این جی اوز کی زبانوں سے تاسف کا ایک لفظ بھی نہ نکلا تھا!!!آج ایک مغرب زدہ باپ کی بیٹی ملالہ یوصف زئی جسکا ہیرو بھی حبشی اوبامہ ہے۔ جو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ جو سیکولراور ہے اوراسلام سے بر گشتہ ہے، ہمارے ادارے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر جو پاکستان کے مفادات کے ایران کے ساتھ معاہدے کو تج کے ا ُس پر واری واری جا رہے ہیںاور عافیہ صدیقی اور لال مسجد و جامعہ حفصہ کی شہداء بچیوںکی قربانیوں کا مذاق اُڑارہے ہیں اور جو ان کو پاکستان کی بیٹیاںمننے کے منکر ہیں!!! کہ یہ کفر کے خلاف نعرہِ حق بلند کرنے والیاں ہیں اور ہمارے حکمرانوں کا کردار شیم شیم شیم!!!

ISPR

ISPR

آئی ایس پی آر نے آپریشن کے خاتمے پرکھل کر یہ جھوٹ بولا کہ اس آپریشن میں کسی خاتون کی لاش نہیں ملی جبکہ غازی عبدالرشید کی معمر والدہ سمیت جامعہ حفصہ کی ہزاروں طالبات کے عینی شاہدین آج بھی زندہ ہیں۔جب لال مسجد آپریشن کے دوران بچیاں شہید ہورہی تھیں توان کی ساتھی طالبات نے انہیں مدرسہ حفصہ کے صحن میں قبریںکھود کھود کر اجتماعی طورپر دفن کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور ہمارے ادارے جھوٹ پر جھوٹ بکنے سے آج بھی شرمندہ نہیں ہیں۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ…4. دسمبر 2012،کو اسلام آباد پولس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے متعلق سُپریم کورٹ کے رپورٹ طلب کئے جانے پر اپنی بھر پور صلاحیتوں کا اظہار اس طرح کیا۔

اپنی طرف سے عدالتِ عظمیٰ میں جو رپورٹ جمع کرائی اُس کا خلاصہ اس طرح ہے کہ” مجموعی طور پر اس آپریشن میں 103افراد جاں بحق ہوے 9بچے ،11سکورٹی اہلکار،6،راہ گیر اور88شدت پسند مارے گئے “؟؟؟ ایک مصدقہ خبر کے مطابق اگر کوئی اسلحہ بند دہشت گرد مارے گئے تھے تو اُنہیں ایک خفیہ ادارے کی سر پرستی حاصل تھی۔خبر کے مطابق پولس نے مسجد میں ایک اسلحہ لیجا نے والی گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا اور ایک مفتی صاحب کو گرفتار کیا مقدمہ درج ہونے کے باوجود چند گھنٹوں بعد اسے چھوڑ دیا گیا جس کی تصدیق اُس وقت کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے میڈایا پرمشرف کے ایک انٹرویو کے دوران کی تھی۔

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
shabbir4khurshid@gmail.com