مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین سوائے لڑائی جھگڑے اور جلتی پر تیل ڈالنے کے سوا کچھ نہیں کرتی،روحیل اکبر

تحریک تحفظ پاکستان نے پارلیمنٹ سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے خاتمہ کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل چوہدری خورشید زمان کی طرف سے چیف الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میں تحریر کیا گیا کہ موجودہ سسٹم کے تحت قومی اسمبلی کی 342نشستوں میں سے 272نشستوں پر براہ راست الیکشن کے ذریعے انتخاب کیا جاتا ہے اور بقیہ 7oنشستیں ریزرو سیٹیں ہیں۔ جن پر( خواتین و اقلیتی وغیرہ) کوٹہ میں عام مروجہ سسٹم سے ہٹ کر پُر کی جاتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لو گ قوم کے اصل منتخب کر دہ نمائندے نہیں ہو تے بلکہ ذاتی تعلقات کے بناء پر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں جس سے عوام کی بھرپور نمائندگی نہیں ہوتی جو کہ سراسر جمہوری نظام کے خلاف اور عوام کے مفاد میں نہ ہے۔

آپ چونکہ ایک محب وطن پاکستانی ہو نے کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر بھی فائز ہیں۔ لہذا جنا ب سے التماس ہے کہ برائے مہربانی اس معاملے میں حکومت سے مشاورت کر کے اگر ان نشستوں پر براہ راست انتخاب کروا کر پرُ کی جائیں تو یہ ہماری اور عوام کی خوش قسمتی اور خواہشات کے عین مطابق ہو گا اس موقعہ پر مرکزی جوائنٹ سیکریٹری اطلاعات روحیل اکبر نے کہا مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین سوائے لڑائی جھگڑے اور جلتی پر تیل ڈالنے کے سوا کچھ نہیں کرتی صرف اور صرف اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے اپنے اپنے لیڈروں کے حق میں نعرے بازی کرتی رہتی ہیں اور انکی تنخواہیں قوم پر بوجھ ہیں۔

اس لیے خواتین کی ان مخصوص سیٹوں کو فوری طور پر ختم کرکے ان سیٹوں پر خواتین کو الیکشن کے زریعے منتخب کرکے ایوان میں بھیجا جائے تاکہ ملک و قوم کا سرمایہ اور وقت بچ سکے۔

روحیل اکبر
مرکزی جوائنٹ سیکریٹری اطلاعات
تحریک تحفظ پاکستان
03466444144