پانی، بجلی، گیس اور سستی خوراک دو

Pakistan

Pakistan

موجودہ حکمرانوں کی ساڑھے چار سالہ کارکردگی سے بیزار عوام جو اب اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں اورآج چیخ چیخ کر دوہائی دے رہے ہیں کہ پانی، بجلی، گیس اور سستی خوراک دو ،مگرہم کو زندہ رہنے دو حکمرانوں تم کیا ہو کیا حکمرانوں کو پتہ ہے زندگی کیا ہے اور اِس کے کیا معنی ہیں اِنہیں نہیں معلوم تو ہم بتاتے ہیں ۔ تو لوسنو زندگی جو (زِ،ن، د، گ، ی) پر مشتمل پانچ حروفوں کا مرکب ہے اورجو فارسی زبا ن کا لفظ ہے اِسم ہے اور مونث ہے جس کے لغوی معنی حیات اور جینے کے ہیں اور اگر اِس کی تشریخ حرفی معنوں میں کی جائے تو راقم الحرف کے نزدیک یہ کچھ اِس طرح سے ہے زندگی کے پہلے حرف ز سے مراد زن، زمین اور، زر کے ہیں ن سے نادانی د سے مراد ہے درندگی گ سے گندگی اور ی سے یہ ہے پیارے زندگی آج ہم اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں تو حقیقی معنوں میں زندگی مندرجہ بالا تشریخ کی شکل ہی میں ہمیں نظر آئے گی جب کہ اِس کے اور بھی اچھے معنی اور مفہوم ہیں مگر ہم اِسی پر اکتفا کرتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھائیں گے اِس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی ہر ذی شعور کے لئے خالقِ کائنات کی عطا کردہ ایک ایسی نعمت ہے جو صرف ایک بار ملتی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی مالا میں ایسے قیمتی موتی جمع کروجن کی چمک سے سارے جہاں میں روشنی پھیل جائے یعنی زندگی ایک بہت بڑاایسا کینوس ہے ،آپ اِس پر جتنے رنگ بکھیرنا چاہیں ، اپنی دانش اور محنت سے بکھیر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر ایک دن کو اپنی تاریخ کا سنہراورق بھی بنا سکتے ہیں۔

اگر آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ایسی بھی عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے زندگی کو سمجھا اور انہوں نے اپنی زندگی کو اپنی قوموں کے لئے وقف کر دیا تو آج یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے یعنی یہ کہ زندگی ربِ کائنات نے دی ہی صرف اِس مقصد کے لئے ہے کہ اِس سے اچھے اور تعمیر ی کام کئے جائیں اور اِن تمام خوبیوں کے باوجود بھی یہی وہ زندگی ہے جس کا اگر کوئی دشمن ہے تو وہ موت ہے جس سے یہ اول روز ہی سے خوفزدہ رہتی ہے جی ہاں موت جو زندگی کے تعاقب میں اِس کے ساتھ اس وقت سے ہی لگی رہتی ہے جب یہ کسی بھی زندہ شئے میں بھونک دی جاتی ہے تب ہی سے موت زندگی کا پیچھاکرنا شروع کر دیتی ہے اور بالآخر ایک وقت اور مقام پر پہنچ کر موت اور زندگی کا ایسا دنگل لگتاہے کہ اِس دنگل میںہر صورت میں فتح موت کا مقدر بنتی ہے اور زندگی کے حصے میں ناکامی آتی ہے اور بسا اوقات ایسابھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنے وقتِ مقررہ کے اختتام سے قبل زندگی موت کوایسے چکمے دے جاتی ہے کہ موت اِس کے قریب سے گزر جاتی ہے مگر کب تک ایسا ہوتا ہے یہ زندگی بھی خوب جاتنی ہے اور آخر کار جیت موت کے حصے ہی میں آتی ہے اور زندگی اِس کے ہاتھوں بے بس ہوکر اپنا دم توڑ دیتی ہے اور جب زندگی اور سانس کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے تو پھر یہیں سے موت کا جشن اِس کی فتح کی شکل میں شروع ہو جاتا ہے۔

مگر ہمارے ملک میں جس میں 19کروڑ 88لاکھ 944افراد بستے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کی چاشنی اِس کے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے چکھی تک نہیں ہے اور 64سالوں میں اِس غیور اور محب وطن پاکستانی عوام پر جتنے بھی حکمرانوں نے اپنا جائز و ناجائز تسلط آمریت یا جمہوریت کا نعرہ لگا کر قائم رکھا ہر کسی نے اِس ملک کے عوام کو موت کا ذائقہ تو چکھایا مگر زندگی کی مٹھاس اور اِس کی رنگینوں سے اِنہیں دیدہ و دانستہ محروم رکھا ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ درحقیقت آج بھی ہمارے غریب ملک کے عیا ش حکمرانوں نے قوم کو زندگی سے بیزارکرنے اور موت کو گلے لگانے کے ایسے منصوبے اور حکمتِ عملی مرتب کررکھی ہے کہ عوام اِن سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں جب موت اِنہیں اپنی وادی میں کھینچ لے جائے۔

آج میرے ملک سے خوشیاں ختم ہوچکی ہیں زندگی سے مایوس لوگ موت کو ترجیح دینے لگے ہیں ہر شخص ذہنی اور جسمانی الجھنوں اور پریشانیوں کے باعث خود کو پاگل سمجھنے لگاہے اور ایسے میں ہمارے حکمران ہیں کہ اِنہیں عوام کی اِس حالتِ زار پر ذرابھی ترس نہیں آرہاہے یہ اپنے پریشان حال عوام کو اِن کے مسائل سے چھٹکارہ دلانے کے بجائے ایسے بے مقصد اور بے سود فیصلے کر رہے ہیں کہ جن پر عملدرآمد کرنا خود اِن کے اپنے بھی بس میں نہیںہے۔قوم کو بجلی، گیس اور توانائی کے بحرانوں میں دھکیلنے والے حکمرانوں کو کیا پتہ ہے کہ اِن کے طرح طرح کے سیاسی حربوں اور چالبازیوں سے عوام کوکس اذیت کا سامناہے عوام کو زندگی سے مایوس کرنے والے ہمارے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ ملک میں بجلی کا بحران بازار رات8بجے بندکرنے ، وفاقی و صوبائی دفاتر میں دو چھٹیوں، پری پیڈ میٹرلگانے اور موسم گرمااور سرمامیںدفتری اوقات کارتبدیل کرنے سے بھی حل نہیں ہو گا جب تک ملک میں بجلی بحران کو کم اور ختم کرنے کے لئے قومی توانائی کانفرنس جیسی کسی بھی کانفرنس میں بجلی پیداکرنے کے نئے پلانٹ اور منصوبوں کی تعمیر کے لئے نئی منصوبہ بندی اور آئندہ کا دیرپالائحہ عمل مرتب نہیں کیا جاتا۔

ہم یہ سمجھتے ہیںکہ لاہور میں منعقد ہونے والی قومی توانائی کانفرنس میں جتنے بھی فیصلے کئے گئے ہیں یہ جزوقتی ہیں جس سے حکمرانوں کو تو تسکین ہو گی مگر ان افراد کے چولہے ضرور ٹھنڈے ہوجائیں گے جن کا کاروبار زندگی ہی رات گئے تک جاری رہتا ہے وزیراعظم نے تو اپنی سیاسی مصالحت پسندی سے لاہور کے ناراض وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے قومی توانائی کانفرنس میں جتنے بھی اعلانات کئے ہیں اِس سے قوم کو زندگی سے مایوس کرنے کے سوااور کوئی نتیجہ اخذنہیں کیاجاسکتاہے۔ آخرمیں ہم یہ کہہ کر اجازت چاہیں گے کہ حکمران اپنی حکومتی مدت پوری کرنے کے لئے بجلی ، گیس اور توانائی کے بحرانوں پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اپنی سیاسی چونچلے بازیاں بندکریں اور وہ کام کریں جو کرنے کے ہیں اور سنجیدگی سے اس کام پر توجہ دیں جو اِنہیں کرنے کے ہیں بجلی بحران دوچھٹیوںاور رات 8بجے بازار بندکرانے سے حل نہیں ہو گا۔

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم