پاکستان میں نئی صبح

Pakistan

Pakistan

ویسے تو تبدیلی ایک فطری چیز ہے جو قدرت کا اصول ہے۔جماعت میں تبدیلی، ادارہ میں تبدیلی، اقتدار میں تبدیلی ، موسم میں تبدیلی، انسانی مزاج اور گھریلوماحول میں تبدیلی، ملکی و معاشرتی حالات میں تبدیلی، غرض یہ کہ ہر شئے میں تبدیلی کا رونما ہونا فطری عمل ہے۔ پاکستان میں اقتدار کی جو تبدیلی ہو رہی ہے اور پی پی پی کو مسترد کرتے ہوئے (ن) لیگ کو زمام اقتدار سونپنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وہ قدرت کے اسی اصول کے مطابق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس تبدیلی سے پاکستان میں جس طرح حالات ناگفتہ بہ رہے ہیں ، ان سے (ن) لیگ کی حکومت یہاں کے عوام کو نجات دلانے اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو جو دھبہ لگا ہوا ہے اس کو پوری طرح دھونے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔تبدیلی قیادت سے یقینا فرق تو پڑتا ہے کیونکہ پرانی اور نئی جماعتوں کے اصلاحات میں خارجہ و داخلہ پالیسیوں اور اسی طرح دیگر پالیسیوں میں فرق نمایاں ہوتا ہے ۔

ہر ایک کام کی انجام دہی کے لئے ٹیم کا منتخب ہونا بھی کافی اثر ڈال سکتا ہے ۔ (ن) لیگ کو چونکہ پچھلے دو مرتبہ اقتدار میں رہنے سے کافی تجربہ رہا ہے اس لئے ظاہر ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنی اصلاحات کو مزید بہتری کی طرف گامزن کرنے کی تگ و دُو ضرور کرے گی۔ ویسے بھی عوام میں اپنی داغ بیل ڈالنے کے لئے انہیں اپنا سیاسی قد اونچا کرنا ہوگا ۔ آج ضرورت ہے کہ ظلم و بربریت سے عوام کو نجات دلایا جائے۔

امن پسندی کا رواج ڈالا جائے، مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ کو بتدریج ختم کیا جائے، بے روزگاری ایک ناسور کی طرح اس ملک میں پیوست ہے اس سے نوجوانوں کو نجات دلایا جائے تاکہ ہر نوجوان اپنے گھر کا کفیل بن سکے۔پاکستان بھر میں گیارہ مئی 2013کا دن خیر و آفیت کے ساتھ گزر چکا ہے۔ اور پاکستان میں ہوئے تاریخی انتخابات میں بالآخر دو بار وزیراعظم رہنے والے مسلم لیگ (ن) کی پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اور اب یہ بات تقریباً طے ہے کہ میاں نواز شریف تیسری بار اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عنان اقتدار سنبھال لیں گے۔

پاکستان میں جمہوری حکومت کا دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا یہ عمل پہلی بار ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اپنی سابقہ کامیابی کے ریکارڈ کو مزید بہتر بنایاہے۔جبکہ پیپلز پارٹی صرف سندھ میں ہی زیادہ کامیابی حاصل کر پائی ہے۔پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔اب جبکہ نتیجہ آ چکا ہے تو سب کو الیکشن کمیشن کی (خامیوں اور خوبیوں) کے ساتھ انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیئے۔

ملک میں جمہوری روایات برقرار رہ سکے۔پاکستان میں اب تک تو جمہوری حکومتوں نے اپنے مقررہ وقت کو عبور نہیں کیا تھا۔پچھلی حکومت چاہے جتنی خامیوں کا منبع ہو مگر اس نے اپنا ٹائم فریم عبور کیا اور اب دوسری حکومت کی باری ہے تو جمہور اور جمہوریت کا تقاضا ہے کہ کھلے دل کے ساتھ نتائج کو تسلیم کرکے جمہوری مراحل کو آگے بڑھنے دیا جائے۔

Elections Paksiata

Elections Paksiata

ہمارے یہاں جو انتخابات گیارہ مئی کو ہوئے ہیں وہ توقعات کے برخلاف کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ لیکن اس انتخابات میں جو رکاوٹیں اور تشدد کا عنصر پیش آیاہے وہ قابلِ افسوس ضرور ہے۔البتہ تخریب کار عناصر کی جانب سے انتخابات کو بے اثر کرنے کے لئے ہر ممکنہ کوششیں کی گئیں اور حملے کرتے ہوئے رائے دہندوں کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں لیکن ہمارے غیور عوام نے ان تمام صورتحال کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھاری تعداد میں اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں رائے دہی میں حصہ لے کر یہ ثابت کر دیا ہے ۔

عوام جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ انتخابات میں جس طرح سے نتیجہ موصول ہو رہا ہے اس سے یہ اشارے تو مل رہے ہیں کہ نواز گروپ کو حکومت کی تشکیل کے لئے کسی دوسری جماعت سے تائید حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔مگر دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے۔ اس لئے نئی حکومت کو چاہیئے کہ وہ ابھی سے تمام چھوٹی پارٹیوں کو حکومت کا حصہ بنا کر ساتھ ملا لیں تاکہ یہ جو روزانہ مختلف ایشوز پر ہنگامے۔

ہڑتالیں، احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے وہ دم توڑ جائے۔پی ایم ایل (ن) کے سربراہ نے اپنی پارٹی کی کامیاب قیادت کرتے ہوئے اسے انتخابات میں تو کامیابی دلو ا دی ہے لیکن اب انہیں ملک کی کامیاب قیادت کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوانا ہوگا۔ان کے سامنے انتخابات میں کامیابی کے بعد اب ملک کو درپیش کئی مسائل سے نمٹنے کا چیلنج ہے۔انہیں پاکستان کو اس خطرناک دلدل سے نکالنا ہوگا۔

جس میں پاکستان کئی برسوں سے پھنسا ہوا ہے۔انہیں فوری طور پر لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، مہنگائی، لا اینڈ آرڈرکی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا۔ عالمی سطح پر جو پاکستان کی بدنامیاں ہوئیں ہیں ان کے داغ دھبوں کو صاف کرنے کا کام ضرور کرنا ہوگا۔ انہیں ملک کی تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی معیشت کو بھی سدھارنا ہوگا۔

پاکستانی غیور عوام جن بنیادی سہولیات سے اب تک محروم ہیں اور انہیں جو طرح طرح کے مسائل درپیش ہیں ان کی یکسوئی اور سہولیات کی فراہمی کے لئے از سرِ نو اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ملک میں انتہا کو پہنچے ہوئے کرپشن اور معیشت کا سدھار بھی ان کے لئے آزمائش سے کم نہ ہوگا۔ویسے تو نواز شریف دو مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں ۔

Inflation

Inflation

(یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنا وقتِ مقررہ پورا نہیں کر سکے) بہرحال ان میں تجربہ کی کمی نہیں ہے انہیں اس تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی سلامتی، خوشحالی اور امن کی راہ پر قیادت کرنی چاہیئے۔صوبائی سطح پر بھی چھوٹی پارٹیوں کو اپنا ہم خیال بنانا ان کی اولین ذمہ داریوں میں شمار کیا جائے گاتاکہ ملک سے انارکی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔نئے وزیراعظم کو اندرون ملک بجلی کی قلت،مسلکی غارت گری، مہنگائی ۔

دہشت گردی کی لعنت جیسے بے شمار مسائل کا سامنا درپیش ہوگا۔افغانستان کے حالات اور خاص طور پر ڈرون حملے بھی ان کے لئے کسی دردِ سر سے کم نہ ہونگے۔ انتخابات سے پہلے کا سیاسی منظر نامہ بہت واضح اور صاف لگتا تھا کہ میدان میں جو بڑی پارٹیاں تھیں ان میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ ، عوامی نیشنل پارٹی ۔

دیگر چھوٹے بڑے گروپس وغیرہ ۔اس مقابلہ میں میں سابق برسرِ اقتدار پارٹی تو صرف سندھ میں ہی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سیٹوں میں بہتری لاکر اضافہ کیا ہے۔

جبکہ فنکشنل لیگ نے بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی۔ عوامی نیشنل پارٹی تو ایسا لگتا ہے کہ سیاست کے میدان سے ہی خارج ہو گئی ہے۔پی ٹی آئی بھی صوبہ سرحد کے علاوہ قومی اسمبلی کے لئے وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔ یعنی کہ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر مسلم لیگ (ن) ہی کامیاب ہوئی ہے۔ اب بڑی پارٹی کو کھلے دل و ذہن کے ساتھ تمام کامیاب ہونے والی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت کرنی چاہیئے ۔

Laborer

Laborer

اپنے منشور پر بھی عمل در آمد کرنی چاہیئے۔اگلے مہینے ہی بجٹ بھی پیش کرنا ہے جس میں لازمی طور پر انہیں اپنے منشور کے مطابق عام مزدور کی کم از کم تنخواہ سترہ ہزار روپئے کرنے ہونگے اور سرکاری ملازمین کو ریلیف بھی دینا پڑے گا ۔پھر پیٹرول کی قیمتوں پر بھی نظر ثانی کی ضرورت درپیش ہوگی۔مطلب یہ کہ اقتدار تو مل گیا ہے مگر وہ کسی کانٹوں کے سیج سے کم نہیں ہے۔ اختتامِ کلام بس اتنا کہ!
کہوں کیا صورتِ احوال ملکی
نہایت دُکھ بھری ہے یہ کہانی
مسلط ہو گئی ارضِ وطن پر
بدامنی، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری و گرانی
تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی