پنشن ادا نہ کی تو ریلوے افسران کی تنخواہ روک دینگے۔ چیف جسٹس

iftikhar muhammad chuhdary

iftikhar muhammad chuhdary

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ریلوے انجنوں کی مرمت کیلئے معاہدوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریلوے ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو اعلی افسران کی تنخواہیں بند کرنے کا حکم دیں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پینشن کی عدم ادائیگی ملازمین کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفاد کے لئے ریلوے کا نظام تباہ کر دیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی کے دورمیں پنشنرز کی طویل قطاریں لگوانا تعجب کا باعث ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے کی قیمتی اراضی فروخت کی جا رہی ہے، چیف جسٹس نے چیئرمین ریلوے کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے اعلی افسران فضائی سفر کرتے ہیں انہیں ریلوے سے کیا غرض ہے، ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن ادا نہ کی گئیں تو اعلی افسران کی تنخواہیں روکنے کا حکم دیں گے۔ سیکرٹری ریلوے بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ تین روز میں تنخواہیں اور پنشن ادا کر دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے پانچ سو چالیس انجن خراب پڑے ہیں جبکہ ایک سو پانچ ٹرینیں بند پڑی ہیں۔ عدالت نے انجنوں کی مرمت کیلئے معاہدے کا ریکارڈ آج ہی پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔