کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری

kamaal

kamaal

کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری
کمال ترک ہے تسخیر خاکی و نوری

میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آیا
تمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری

نہ فقر کے لیے موزوں ، نہ سلطنت کے لیے
وہ قوم جس نے گنوایا متاع تیموری

سنے نہ ساقی مہ وش تو اور بھی اچھا
عیار گرمی صحبت ہے حرف معذوری

حکیم و عارف و صوفی ، تمام مست ظہور
کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری

وہ ملتفت ہوں تو کنج قفس بھی آزادی
نہ ہوں تو صحن چمن بھی مقام مجبوری

برا نہ مان ، ذرا آزما کے دیکھ اسے
فرنگ دل کی خرابی ، خرد کی معموری

علامہ محمد اقبال