کچھ نہیں بچتا

Tahir Razzaq

Tahir Razzaq

دونوں کے پاس تین تین محل تھے برغد کے محل میں 22 کے قریب گاڑیاں اور 52 ملازمین تھے اس کے ایک محل کا سالانہ خرچ 50 ملین ڈالر تھا جبکہ اس بہن رعنا کو ،سپیشل ،کہلوانے کا شوق تھا ۔اس کے لیئے جنیواکی ایک کمپنی سپیشل ،سرکہ، تیار کرتی تھی رعنا کا اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ تھا کہ وہ اس کے علاوہ یہ سرکہ کسی دوسرے گاہک کو فروخت نہیں کرے گی ۔اس کے جوتے اٹلی کی ایک کمپنی تیار کرتی تھی اور ہر جوتے پر سپیشل فار پرنسس رعنا تحریر کیا جاتا تھا اس کے ملبوسات اور پرفیومز پیرس سے آتے تھے ۔اس کیلئے صابن بھی لندن سے آتا تھا جو کہ صرف اسی کے لیئے تیار کیا جاتا تھا برغد اور رعنا دونوں شادی شدہ تھیں اور دونوں کے بچے بھی تھے یہ بچے بھی ظاہر ہے منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے تھے یہ دنیا کی سب سے قیمتی غذا کھاتے ریشم واطلس پر سوتے تھے ۔

ہر محل سنٹر لی ائر کنڈیشنڈ تھا گھوڈوں کے اصطبل اور محل کو دودھ فراہم کرنے والی گائیوں کے باڑے تک ائر کنڈیشنڈ تھے تاریخ شاہد ہے کہ یہ شہزادیاں اور ان کی اولادیں جہاں سے گزرتیں لوگ وہاں اپنی پلکیں بچھا دیتے تھے۔لیکن اچانک وقت نے کروٹ بدلی اور ان شہزادیوں کو محلوں سے اٹھا کر ایسے گھروں میں لا بٹھایا جہاں بجلی تھی نہ پانی اس گھر تک نہ کوئی پختہ گلی جاتی تھی ااور نہ کوئی سڑک یہاں کوئی ائر کنڈیشنڈ ہے اور نہ ہی کوئی ریفر یجریٹر ،یہاں شہزادیوں کی دیکھ بھال کیلئے کوئی ملازم ہے نہ ان کے بچوں کیلئے کوئی آیا یہاں دودھ دینے والی گائوں کے باڑے میں ائر کنڈیشنڈ تو کیا کوئی گائے ہی نہیں جو ان کو دودہ پلا سکے۔

اس گھرمیں ٹھنڈا پانی توکیا پانی کا نل ہی نہیں اور یہ شہزادیاں خود جا کر سرکاری نل سے پانی بھر کر لاتی ہیں۔جناب یہ اس صدام حسین کی اولاد ہے اس کے نواسیاں نواسے ہیں ،جس کی دہشت سے پورا امریکہ کانپتا تھا جس کے خو ف سے بش اور ٹونی نیند کی
گولیا ں کھا کر سوتے تھے ۔اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ عراقیوں کیلئے حکم کا درجہ رکھتا تھامگر وقت بہت ظالم ہے اس نے بڑے بڑے فرعونوں کو بھی نہیں بخشا اور جب تقدیر کی آندھی چلی تو بنی اسرئیل کے سارے بچے مروانے کے باوجود فرعون دریائے نیل میں ڈوب کر غرق ہو گیا اتنے محلوں اور بینک بلینس ہونے کے باوجود اس صدام حسین نے جس کا پورے عراق میں طوطی بولتا تھا اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام ایک چند فٹ کی کال کوٹھڑی میں گزارے صدام حسین اور اس طرح کے بہت سارے حکمرانوں کی زندگیاں ایک سبق ہیں ان کے لیئے جو اقتدار کو تا حیات اپنے گھر کی باندی سمجھتے ہوئے لوگوں پر حکومت کر رہے ہیں ،اپنے گھوڑوں کو ائر کنڈیشنڈ اسظبلوں میں رکھتے ہیں ،اور ان کو کروڑوں کے مربے کھلاتے ہیں جوکبھی10پرسنٹ اور کبھی 100 پرسنٹ بن کر اپنی رعایا کا لہو نچوڑ نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں ۔

جو قانون بیچ اورخرید رہے ہیں ،جو سو ،سو گاڑیوں کے کانوائے کے ساتھ سفر کرتے ہیں ،جن کے پوری دنیا میں کروڑوں کے اثاثے ہیں ،جن کے محل نما گھر ائر کنڈیشنڈ ہیں ،جو کینیا کی چائے میں ہالینڈ کا دودھ ملا کر پیتے ہیں ،وہ جو جاپان کی بنی ہوئی کاٹن پہنتے اور فرانسیسی خوشبوئیں لگاتے ہیں ،اٹلی کے تیار کردہ جوتے پہننے والے ،لیپ ٹاپ میں کروڑوںکا گھپلا کرنے والے ،ntclم سیکینڈل میں 40 کرووڑ کمانے والے ،ححج کے نام پر کئی کروڑ کا ٹیکہ لگانے والے ،لمبے کانوں اور چھوٹی دم والے جرمن کتے سے گفتگو کرنے والے ،جو عوام کو فاقوں پر مجبور کر کے ڈالروں سے اپنی جیببیں بھرنے ،والے ،بے روزگاروں کو خودکشیوں پر مجبور کرنے والے ،وہ جو اپنے شیروں کو روزانہ کروڑوں کی خوراک کھلاتے ہیں اور ان کی بادشاہت میں عوام دانے دانے کو ترسی ہے۔

وہ جو اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو دنیا کی بہترین مخلوق اور عوام کو اس دنیا کی بدترین مخلوق سمجھتے ہیں ،وہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو حکومت 24 سال تک عراق پر حکمرانی کرنے والے صدام حسین کے پاس نہیں رہی ،جس حکومت نے فرعون کے ساتھ وفا نہیں کی وہ زیا دہ دیر تک ان کا ساتھ بھی نہیں دے گی اور جب قدرت حساب بن
کر سامنے آکھڑی ہوتی ہے تواس وقت نہ محل بچتے ہیں نہ بینک بیلنس اور نہ اربوں کھربوں کی دو نمبر طریقے سے بنائی ہوئی پراپرٹی ہاتھ میں رہتی ہے کیوں کہ حیات بھی مختصر ہو ا کرتی ہے اور حکومت بھی ۔

تحریر : طاھر رزاق