کیانی کی تشویش اور کرکٹ ٹیم کی جیت

 

General Ashfaq Kayani

General Ashfaq Kayani

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی اور سیکرٹری دفاع کے بالترتیب یہ بیانات کہ پاکستان کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس کی واضح شکل نہیں ہے امریکہ اور برطانیہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مخالف اور امریکی سی آئی اے پاکستان میں خفیہ آپریشنز کے لیے غیر ملکی ایجنٹوں کو استعمال کرتی ہے اور سی آئی اے کے ایجنٹ پورے ملک میں موجود ہیں امریکہ بھارت اور اسرائیل واضح صورت میں پاکستان کے دشمن ہیں جس کی حقیقت سب پر عیاں ہے اور پاکستان میں دہشتگردی ، لاقانونیت ، بدامنی پھیلانے کے نیٹ ورک کا روح رواں امریکہ ، اس کی خفیہ تنظیم سی آئی اے اور بدنام زمانہ بلیک واٹر کے ایجنٹوں کا ہاتھ ہے   اب ہمارے حکمرانوں ، سیکورٹی فورسز ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، پالیسی سازوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں  بلوچستان میں سی آئی اے اپنے مکروہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے قومی یکجہتی اور ملکی استحکام کو پارہ پارہ کرنے پر تلی ہے بلوچستان میں شورش زدہ حالات پیدا کرنے کے پیچھے بھی امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں اور اب قومی سلامتی کے ذمہ دار وں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے پاس تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود ”سی آئی اے”  ” بلیک واٹر” ” را ” اور” موساد ”کے ایجنٹوں کے خلاف کاروائی نہ ہونا تشویشناک ہے حکومت اب دہشتگردی کی نام نہاد جنگ کا حصہ دار میں امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کی صف سے باہر آ جائے اور امریکہ سے کہہ دے کہ ہم مزید آپ کے لیے ملک کو تباہ نہیں کر سکتے۔ جبکہ قوم کا اس بات پر پہلے دن سے ہی اتفاق ہے کہ امریکہ پاکستان کا کھلا دشمن ہے لیکن سیکولر ، لادین ، نام نہاد انسانی حقوق کی پروردہ تنظیمیں اور حکمران طبقہ امریکہ کی وکالت اور وفاداری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔

سیاسی باتوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے لیے ایک خوشی کی خبر یہ بھی ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم نے پہلے ونڈے میں بھارتی کرکٹ ٹیم کو 6 وکٹوں سے شکست دیتے ہوئے تین ایک روزہ  میچز پر مشتمل سیریز میں ایک صفر سے برتری حاصل کرلی پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز کا پہلا میچ اتوارکے روز چنائی میں کھیلا گیا جس میں پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

Pakistan India

Pakistan India

پاکستان کی جانب سے پہلے کھیلنے کی دعوت ملنے کے بعد بھارت نے مقررہ پچاس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 227 رنز بنائے اور پاکستان کو جیتنے کے لئے 228 رنز کا ہدف دیا۔ بھارت کے پہلے 5 کھلاڑی صرف 29 کے مجموعی سکور پر  پویلین لوٹ گئے جس کے بعد بھارتی کرکٹ دبائو میں آگئی۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کو پہلا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب  ٹیم کا سکور17 رنر تھا ۔ پہلے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی سہواگ تھے انہیں جنید خان نے بولڈ کیا۔

بھارتی کی دوسری وکٹ بھی 17 کے رنز پر گری۔ دوسرے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی گھمبیر تھے انہیں محمد عرفان نے بولڈ کیا ۔ 19 کے مجموعی  سکور بھارتی کرکٹ ٹیم کی تیسری وکٹ گری گئی ۔ تیسرے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی کوہلی تھے وہ بھی جنید خان کی تباہ کن بائولنگ کا سامنا نہ کرسکے اور بولڈ ہوگئے۔ 20 کے مجموعی  سکور پر یوراج سنگھ بھارت کے چوتھے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جنہیں  جنید خان  نے ہی بولڈ کیا ۔ 29  رنز پر آر جی شرما بھارت کے 5 ویں آئوٹ ہونے والے کھلاڑی تھے، وہ بھی جنید خان کی بال پر کیچ آئوٹ ہوئے۔

بھارت کے پہلے 5 کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی کھلاڑی  ڈبل ہنسے کا سکور نہ بناسکا۔ بھارت کے چھٹے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی سریش رائنا  تھے جنہوں نے 43 رنز کی اننگز کھیلی، انہیں محمد حفیظ نے بولڈ کیا ۔ 6 کھلاڑی آئوٹ ہونے کے بعد مہندر دھونی نے ٹیم کی پوزیشن مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے ایک سو پچیس گیندوں میں 113 رنز بنائے اور آئوٹ نہیں ہوئے۔ ان کا ساتھ روی چندرن ایشون نے دیا جنہوں نے 39 گیندوں اکتیس رنز بنائے۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 125 رنز بنائے۔ بھارت اننگز میں پاکستان بولرز جنید خان اور محمد عرفان نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ بھارتی بیٹسمین ان دونوں بولرز کو نہیں کھیل سکے اور بھارت کے پہلے چار کھلاڑی کلین بولڈ ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے ایک ، جنید خان نے 4 اور محمد حفیظ نے ایک بھارتی کھلاڑی کو آئوٹ کیا۔ پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز محمد حفیظ اور  ناصر حمشید نے کیا دو سو اٹھائیس رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلی گیند پر ہی اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے بھوونیشور کمار نے اننگز کی پہلی ہی گیند پر محمد حفیظ کو کلین بولڈ کر دیا۔

Pakistan India Cricket

Pakistan India Cricket

نئے آنے والے کھلاڑی اظہر علی تھے لیکن وہ  بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 21 کے مجموعی سکورپر 9 رنز بنا کر کمار کی بال  پر کیچ آئوٹ ہوگئے۔ اس کے بعد پاکستان کو ایک مضبوط  پارٹنر شپ کی ضرورت تھی جس  کی کمی کو  ناصر جمیشد اور یونس خان نے پورا کیا۔  دونوں کھلاڑیوں کی ذمہ درانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان بھارت کیخلاف228 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ پاکستان کے تیسرے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی  یونس خان تھے جنہوں نے 58  رنز بنائے اور وہ 133 کے مجموعی سکور پر دندا  کی بال پر کیچ آئوٹ ہوئے۔ یونس کے بعد  ناصر جمشید کا ساتھ دینے کے لئے نئے آنے والے کھلاڑی  ٹیم کے کپتان مصباح الحق  تھے لیکن  ایک مرتبہ پھر سے وہ کوئی متاثر کن کارکردگی نہ دیکھا سکے اور 16 رنز بناکر 174 کے مجموعی سکور پر شرما کی بال پر بولڈ ہوگئے۔ اس کے بعد ناصر جمیشد اور شعیب ملک نے پاکستانی کشتی آہستہ آہستہ آگے  بڑھائی 48.1 اوورز میں 228 رنز کا ہدف پورا کرلیا ۔ شعیب ملک  34 اور  ناصر جمیشد 101  رنز  بنا کر  ناٹ آئوٹ رہے۔

تحریر : روہیل اکبر
03466444144