ہمارے مطالبے و سخاوت اور امریکا کی ہر غلطی کے بعد معافی

america

america

ہمارے مطابے اور سخاوت کے پیشِ نظر امریکا نے اپنی ہر غلطی کے بعد معافی مانگی اور پھر وہی غلطی پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور بھر پور انداز سے کرڈالی جس پر یہ اکثر ہم سے معافی مانگتارہاہے ریکارڈ موجود ہے کہ نیٹو فورسز نے اپنی ہٹ دھری کے باعث پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کو پانچ بار نشانہ بنایا اور ہر بار پاکستانی حکمران نیٹو کی حرام خوری پر اپنے احتجاجوں میں حملوں کو اپنی بے عزتی سے تعبیر کرتے رہے اورحملہ آوروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے سمیت امریکااور نیٹو سے سوائے معافی مانگنے کامطالبہ کر نے اور اِن کے خلاف طرح طرح کی لمبی چوڑی قراردادیں پیش کرنے سمیت خالی کاغذوںاور خبروں کی حدتک منہ توڑجواب دینے جیسے بیانات اور مطالبوں کے اور کچھ نہ کرسکے ہیں۔  اِس مرتبہ بھی ایساہی لگ رہاہے کہ جب مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکورٹی فورسز پر پاکستان کے دوست نما دشمن نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات تحصیل بائزئی کے علاقے سلالہ میں دوپاکستانی چیک پوسٹوں وال چلواور بولڈر کو نیٹوہیلی کاپٹراور جنگی طیاروں نے جدیدگنوں سے اندھادھندفائرنگ اور بمباری کرکے جس انداز سے اِنہیں نشانہ بنایا ہے اِس کی مثال نہیں دی جاسکتی اِن کی اِس بریریت سے دونوں چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ نیٹوافواج کی اِس اشتعال انگیز کارروائی سے متعدد پاکستانی فوجی شہید اور زخمی بھی ہوگئے جیساکہ اِن سطور کے رقم کرنے تک حکومت پاکستان نے حسبِ عادت اپنا شدیداحتجاج شروع کررکھاہے جس کاایک حوالہ یہ ہے ہمارے یہ پاکستانی حکمران جو امریکاکی دوستی کا دم بھرتے تھکتے نہیں ہیں اِنہوں نے اِس واقعے کی پرزورمذمت کی ہے اور ہماری دفاعی کمیٹی نے بھی اِس واقع کی شدیدمذمت کرتے ہوئے لب کشائی کچھ اِس طرح کی ہے کہ نیٹوکی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کی جانے والی اشتعال انگیزی کی وجہ سے پاکستان نے بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے جس میں 90ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے اپنی نوعیت کی اِس اہم ترین کانفرنس سے متعلق یہ بھی خیال کیاجارہاہے کہ اِس میں مختلف حساس معاملات کے ساتھ افغانستان پر قابض غیرملکی افواج کے انخلاوطالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی نئی راہیں کھلنے جیسے زاویوں پر بھی اظہارخیال کیاجائے گا۔ جبکہ اِس حوالے سے سیاسی ماہرین، تجزیہ و تبصرہ نگار وں کا پاکستان کے اِس احتجاجی فیصلے سے متعلق ایک خام خیال یہ ہے کہ اِس کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کے باعث امکان ہے کہ پاکستان کی غیر موجودگی کے باعث اِس کانفرنس میں امریکی لومڑی جیسی آنکھوں والی تیز وطررار لیڈی وزریرخارجہ ہینلری کلنٹن اور امریکی پٹھوافغان صدر حامد کرزئی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں بڑی مشکلات درپیش آئیں گیں یہ فیصلہ بھی پاکستان کے احتجاج میں شامل ہے دوسری طرف امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے بون کانفرنس میں شامل نہ ہونے کا اپنا حتمی فیصلہ کر لیا ہے تواِس سے ایک یہ بھی امکان ہے پاکستان کے اِس جذباتی فیصلے سے امریکاپر کوئی اثرنہیں پڑیگا اور امریکا آئندہ بھی ایساہی کرے گا جیساکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کرتاآرہاہے۔  اور اِسی کے ساتھ ہی اِس رونماہونے والے المناک واقع سے متعلق یہ بھی اطلاعات ہیں کہ نیٹو ہیلی کاپٹراور جنگی طیاروں کی دانستہ کارروائیوں کا نشانہ بننے والی اِن دونوں پاکستانی چوکیوں پر حملے کے وقت اہلکار سورہے تھے جن سے متعلق رپورٹ یہ ہے کہ اِن دونوں چوکیوں پر تعینات اہلکاروں کا تعلق آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا جو دن بھر اپنے فرائض انجام دینے کے بعد رات گئے کچھ لمحے کے لئے سو ہی تھے کہ نیٹو افواج جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اِن کی اتحادی اور یہ ان کے ساتھی ہیں یہی نیٹو افواج اپنے ہیلی کاپٹر اور جنگی طیاروں سے اِن پر اندھادھندفائرنگ اور بمباری کرکے اِنہیں شب خون مارے گی جس کا افواج پاکستان کو گمان تک نہ رہاہوگاکہ یہ بھی اِن کے ساتھ ایساکرسکتی ہے مگر اگلے ہی لمحے نیٹوہیلی کاپٹراور جنگی طیاروں نے اِن پر قیامت خیز حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دونوں چوکیوں پر تعینات24 اہلکارجن میں دوافسر بھی شامل تھے جام شہادت نوش اور 13کے قریب اہلکار شدیدزخمی ہوگئے جنہیں بعد میں فوجی ہیلی کاپٹروں کے زریعے سی ایم ایچ پشاور منتقل کیاگیاجبکہ آئی ایس پی آر نے بھی اِس نیٹوہیلی کاپٹر اور جنگی طیاروں کے حملے کے نتیجے میں 24اہلکار کی شہادت اور تیرہ کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے اِس کے بعدحکومتی سطح سے لے کر ملک کے طول  ارض میں تما م متحرک بڑی چھوٹی محب وطن سیاسی و مذہبی اور سماجی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی نیٹوافواج کی اِس بربریت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کردیاہے جو ہنوز جاری ہے۔
جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے اظہارکے طور پر یوم یکجہتی پاکستان بناکر یہ ثابت کردیاکہ کوئی بھی ملک دشمن طاقت پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی اس وقت تک جرات نہیں کرسکتی جب تک پاکستان کے عوام اپنی پاک فوج کے شابہ بشانہ کھڑی ہے متحدہ کے یوم یکجہتی پاکستان نے جہاں پاک فوج کے حوصلے بلند کردیئے ہیں تو وہیں ہماری قوم میں بھی یہ احساس ضرور پیداہوگیاہے کہ ہماری باصلاحیت پاک فوج کے ساتھ ساری پاکستانی قوم ہے دنیاکی کوئی بھی طاقت اِس کے وقار اور حوصلے کو مجروح اور پس نہیں کرسکتی جب تک عوام اِس کے ساتھ ہیں۔ اِدھرنیٹوہیلی کاپٹراور جنگی طیاروں کی اشتعال انگیز اِس کارروائی کے بعد حکومت پاکستان نے حسب روایات امریکہ اور نیٹو سے شدیداحتجاج جاری رکھاہواہے اور معمول کے مطابق پاکستان سے نیٹوکو ہونے والی سپلائی فوری طور پر بندکردی ہے اِس حوالے سے امریکااور نیٹو سے اپناپرزور احتجاج ریکارڈ کرانے کی غرض سے وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کی خصوصی ہدایت پر سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کو فوری طور پر طلب کرکے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر نیٹوہیلی کاپٹراور جنگی طیاروں کی دیدہ ودانستہ طور پر کی جانے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج کے جیالے اور بہادر سپاہیوں کی شہادت اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کی وجہ سے ملک میں پیداہونے والی صورت ِحال پر شدیداحتجاج کیااورکیمرون منٹرکوانتہائی نپے تلے لہجے میں آگاہ کیاکہ نیٹوایساف ایئرکرافٹس کی اشتعال انگیز کارروائی ہمارے لئے ناقابل قبول ہیں(یہاں ہم یہ کہناچاہئے گے کہ جناب سلمان بشیر صاحب اتناکہناہی کچھ ٹھیک نہیں ہے امریکا کو لگام دینے والے انداز سے کچھ لب کشائی کریںتاکہ یہ ہماراردِ عمل سمجھ جائے اور ساتھ ہی یہ بھی تو بتادیں کہ یہ حملے قبول نہیں تو پھر کیسے قبول ہوں گے ….؟؟اور اِ س کے ساتھ ہی ہم یہ بھی کہیں گے کہ جب امریکیوں سے امداد ، قرض اور بھیک کی شکل میں ہم اپنے کشکول میں ڈالرز لے رہے ہیں تو جناب اِن کی بلاوجہ اور اشتعال انگیز کارروائیاں بھی ہم ہی کو برداشت کرنی ہوں گئیںبہرحال)اوراِن کا کہناتھاکہ نیٹوکایہ حملہ پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے جبکہ اِس کے برعکس پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اپنی پیشانی سکوڑتے ہوئے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیرکو اِس بات کا ضرور یقین دلادیاکہ آپ کا یہ احتجاج اپنی حکومت اور نیٹوکے ذمہ داران تک پہنچادیں گے اور یوں حکومت پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر سلمان بشیر یہ احتجاج کرکے خاموش ہو گئے۔ جبکہ ادھر افغانستان میں ایساف کمانڈرجنرل ایلن نے مہمند ایجنسی میں پاکستانی چوکیوں پر ہیلی کاپٹراور جنگی ائیرکرافٹس کی اندھولناک کارروائی کو اپنی معمول کا حصہ قرار دیااور اِس واقع پر رسمی طور پر اظہارافسوس کرتے ہوئے اِس کی مکمل تحقیقات کی یقین دہائی کراتے ہوئے اِس واقعے میں (ہمارے لئے شہیداور )اپنے لئے مرنے اور زحمی ہونے والے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے اوپری دل سے تعزیت اور محض دکھاوئے کی ہمدردی کا اظہارکیاجبکہ اِس موقع پر ہمارے لئے افسوس کے ساتھ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ا یساف کے سربراہ نے ہماری سرحد میں اپنی افواج کی، کی جانے والی اپنی بدمعاشی اور غنڈہ گردی پر ایک لفظ بھی ندامت کے نہیں کہئے بلکہ اِس نے اپنی ہٹ دھرمی کے سہارے اپنے اِس عزم کو دھرایاکہ اِس واقعے کے بعدپیداشدہ صورتِ حال میں ایساف قیادت پاکستان کے ساتھ نہ صرف سیکورٹی تعلقات بہتربنانے کے لئے کام کرتی رہے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف اسی طرح جنگ میں آپریشنل رابطے کو بھی مزیدبہتر بنانے کا اپناارادہ رکھتی ہے گویاکہ یہ کہہ کر ایساف کے سربراہ نے اِس واقعے کو اپنی افواج کا بہترین کارنامہ ظاہر کرنے کی کوشش کی اور یہ جتانے کی سعی بھی کی کہ نیٹوافواج کی یہ کارروائی اِس کے منصوبے کا حصہ تھی اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے سرحدی علاقوں میں نیٹوہیلی کاپٹراور خونخوار جنگی طیاروں کی کارروائی سے متعلق ایساف کے ایک بریگیڈیئر جنرل کارسٹن جیکب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کچھ اِس طرح سے کیاکہ پاک افغان سرحد پرنیٹو ہیلی کاپٹر اور طیاروں کی مہارت سے کی جانے والی کارروائی سے اِس پیش رفت کے دوران جوکچھ ہواہم پاکستانی ہلاکتوں کے بارے میں آگاہ ہیں لیکن اِن کی تعداد اور واقعہ کی شدت کے بارے میں ہمارے پاس اپنے ذرائع سے کوئی ایسی انفارمیشنزاورمعلومات نہیں کہ ہم پاکستان سے معذرت کریں یا کسی قسم کی ندامت محسوس کریں تاہم جنرل کارسنن کے اِن جملوں کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل کارسنن جیکب کے اِن خیالات سے یہ تاثر ضرور پیداہوگیاہے کہ امریکا پاکستانی سرحدی علاقوں میں اپنی کھلی بدمعاشی جاری رکھے گا اور جب پاکستانی اِس کی مذمت کریں گے تو یہ ہمیں ڈالروں کی صورت میں امداد ، قرض یا بھیک دے کر ہمارامنہ بندکردے گا مگر اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا۔ ایسی امریکی ہٹ دھرمی کا ہماری سیاسی ومذہبی جماعتوںکے نزدیک ایک یہ ہی حل موجودہے اور وہ یہ کہ حکومت امریکی اتحاد سے الگ ہوجائے اوراِس سے اپنے ہر قسم کے رابطے منقطع کرکے اِس کی جانب سے آئندہ ہونے والی کسی بھی حرام خوری کا منہ توڑ جواب دے جو اِس کو سبق سکھانے کے لئے کافی ہو ورنہ تو امریکا اور نیٹو ہماری نرمی کی وجہ سے ہمارے سرحدی علاقوں میں یوں ہی اپنی کارروائی جاری رکھے گا اور ہم ہر مرتبہ اِس سے معافی کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ دوستی اور اتحادی کی آڑ میں گزشتہ کئی سالوں سے نیٹواور امریکا کی جانب سے ہماری سرحدوں پر بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی کے پیشِ نظر اب ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں، عوام اور عسکری قیادت سمیت سب کو یہ نقطہ ضرور سوچناچاہئے کہ کوئی ایساوقت ہم پر نہ آجائے جب نیٹویاامریکا آئندہ اپنی کسی بھی بھرپور کارروائی سے قبل ہی ہم سے معافی مانگ کر کوئی ایسی کارروائی کر بیٹھے جس کا ہم گمان بھی نہیں کرسکتے تو پھر کیا ہوگا….؟کیاجب بھی ہم اِس سے معافی کے مطالبے کے سوااور کچھ نہیں کر پائیں گے ….؟جبکہ یہ پہلے ہی ہم سے معافی مانگ چکاتھااور ہم نے اپنی نرم گوشی اور سخاوت جیسے دریادلی کے باعث پہلے ہی معاف کردیاہوگا۔ آخر یہ معافی اور تلافی کا سلسلہ کب تک چلتارہے گا….؟اور کب تک ہم نیٹواور امریکی دوستی اور منہ بولے اتحادی رشتے کی وجہ سے اپنے جیالے فوجی مرواتے اور زخمی کرواتے رہیں گے اور اپنی خود مختاری پر بغیر چوں چراں کئے اپنے دوست نمادشمن منہ بولے اتحادیوں کے ہاتھوں حملے کرواتے رہیں گے…..؟

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم