27 دسمبر 2012 بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر خصوصی ایڈیشن کے لئے

Benazir Bhutto Martyr

Benazir Bhutto Martyr

افلاطون کہتاہے کہ دنیا عاقل کی موت پر اور جاہل کی زندگی پر ہمیشہ آنسو بہاتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آج کا یہ دن اور یہ تاریخ قوم کبھی نہیں بھلا سکتی اس لئے کہ پانچ سال قبل27 دسمبر2007کوآج ہی کے دن ملک دشمن عناصر نے عالم اسلام کی بطل جلیل اور پہلی مسلمان وزیر اعظم کا دوبار اعزاز عظیم حاصل کرنے والی نہ صرف دختر مشرق بلکہ مغرب کی بھی اس مقبول اور ہر دلعزیز خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کوشہید کر دیا جو حقیقی معنوںمیں جمہوریت کی علمبردار تھیں گو کہ وہ آج ہم میں نہیں مگر ان کی یوں اچانک شہادت کا کسی کو آج تک یقین نہیں آرہاہے کہ ظالموںنے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے شہید کر دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو ملک کے چاروں صوبوں کی زنجیریعنی کہ وہ وفاق کی کلی علامت تھیں اور ان کی اس طرح ہونے والی شہادت سے جہاں پاکستان کو نقصان پہنچا ہے تو وہیں ملت اسلامیہ اورعالمی دنیا کو بھی ایک مدبراور انتہائی عظیم خاتون کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔
اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹوکے قتل کے ساتھ ہی وفاق پاکستان کے درخشاں باب کا بھی خاتمہ ہوگیاہے اور یہ وہ خلا ہے کہ جو کم ازکم برصغیرمیں تو اب کبھی بھی فل نہ ہو سکے گا انہوں نے اپنی جان اپنے عظیم باپ شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے اصولوں پر چلتے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور اس کی بالادستی،غریبوں،محتاجوں اورناداروںکے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے دی ان کی مقبولیت کا اندازہ کسی پیمانے سے نہیں لگایا جاسکتاوہ اپنے وقاراور جرأت وہمت کی وجہ سے ہر اس شخص کے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی جوجرأت اور وقارکا امین ہے اور آج بھی دنیامیں ایسے لوگوں کی تعدادبے شمار ہے کہ جو اپنی قوم اور وطن کی حفاظت کے لئے وقار اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے اس راہ میں کوشاں ہیں اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس جذبے کے تحت اپنی جانوں کا نزرانہ بھی پیش کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق (دومرتبہ) وزیراعظم کااعزاز حاصل کرنے والی خاتون محترمہ بینظیر بھٹو21جون1952کو پیدا ہوئیں آپ کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پہلے جیتگز نرسری اسکول اور بعدازاں آپ کو کانونٹ اسکول کراچی میں داخل کرایا یہاں آپ صرف دو سال ہی تعلیم حاصل کرسکیں۔

اس کے بعد آپ راولپنڈی منتقل ہوگئیں یہاں آپ کا پریز ینٹیشن اسکول میں داخلہ ہوا بعد ازاں آپ کا مری میں کانونٹ اسکول میں داخلہ کرایاگیا آپ نے 15سال کی عمر میں اولیول کا امتحان نمایاں پوزیشن سے پاس کیا اور پھر اے لیول مکمل کرنے کے بعد آپ کراچی آگئیں یہاں آپ کا داخلہ کراچی گرامر اسکول میں کرا دیاگیا اس طرح آپ پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے خاطر امریکا چلی گئیں آپ 5 سال(1969سے1973) تک ریڈیکلف کالج اور ہارورڈیونیورسٹی میں زیر تعلیم رہیں اس ہی دوران آپ نے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور یہاں سے مزید تعلیم کی غرض سے برطانیہ چلی گئیں جہاں آپ نے 5سال(1973سے1977) تک اپنے قیام کے دوران لیڈی مرگریٹ ہال آکسفورڈمیں فلسفہ ، سیاست اور معاشیات کے مضامین میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے انہیں پڑھا ا وراس کے علاوہ آپ نے آکسفورڈ سے بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی کے مضامین میں بھی اپنی خاصی دلچسپی کی وجہ سے ان کے کورس بھی کئے آپ کو 1976میں آکسفورڈ یونین کا صدر بھی بننے کا اعزاز حاحل ہے۔

(یہ بھی ریکارڈپر موجود ہے کہ آپ وہ پہلی ایشیائی خاتون ہیں جنہیںڈبیٹگ سوسائٹی کا سربراہ بننے کا موقع ملا)آپ کی شادی 18دسمبر1987کوآج ملک کے موجودہ صدرمملکت آصف علی زرداری سے کراچی میں انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ انجام پائی جن سے آپ کے تین بچے بلاول بھٹو زرداری ،بختاور اورآصفہ ہوئے اس حقیقت سے نہ صرف اہل پاکستان ہی اچھی طرح سے واقف ہیںبلکہ ساری دنیا بھی یہ خوب جانتی ہے کہ بھٹوخاندان لگ بھگ تین سے زائددہائیوں سے مسلسل جن مسائل و مصائب اور غموںسے دوچارہوا ہے کوئی اور اگر ہوتا تو وہ کب کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیتااور گوشہ نشینی اور گمنامی کی زندگی بسرکرتا مگر سلام ہے اس عظیم خاندان کے سپوتوں کو کہ جنہوںنے اس ملک میں اصولوں کی سیاست اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کے خاطر آمریت کے دیوتاؤں کو ڈھیر کرنے کے لئے ہر دور میں اپنے خون کا ایک ایک قطرہ تک کو پانی کی طرح بہا دیا گو کہ اس خاندان کو اس سرزمین پاک سے انتی خوشیاںنہیں نصیب ہوئیں کہ جتنے غم ان کے دامن میں آئے ہیں اس خاندان کا صرف انتا ہی تو قصور ہے کہ اس نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی آواز کوآمروں کے منافقانہ قول وفعل کے سامنے بلندکیا اور ان غیر جمہوری قوتوں کے خلاف پرچم حق کو کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا ذوالفقارعلی بھٹو کو بھی اس دور کے ایک آمر جنرل ضیاء الحق نے صرف جمہوریت کی ہی پاداش میں پھانسی دی اور اس کے بعد اس ہی آمر جنرل کے ہی دور حکومت (1980)میں فرانس میں ذوالفقارعلی بھٹو کے بیٹے اور محترمہ بینظیر بھٹوکے بھائی شاہ نواز بھٹو کو بھی زہردے کر ہلاک کردیا گیا۔

Zulfiqar Ali Bhutto

Zulfiqar Ali Bhutto

ان کے بعد اس محب وطن خاندان کو ایک اور بڑے صدمے سے20ستمبر1996کو دوچار ہونا پڑا کہ جب بھٹوشہیدکے ایک اور بیٹے اور بینظیر بھٹو کے دوسرے بھائی مرتضی بھٹو کو بھی ہلاک کر دیا گیا محترمہ بینظیر بھٹو کا سفر سیاست کا آغاز بھی بڑے ہی دکھ ودر کے ساتھ ہوا گو کہ انہوں نے سیاست کے تمام اسرارورموز اپنے والد شہید محترم ذوالفقارعلی بھٹو سے تو سیکھ رکھے تھے اور ان پر عمل کرنے کا وقت تب شروع ہواکہ جب انہوں اپنے پورے مصمم ارادے کے بعد اس میدان سیاست میں قدم رکھنے کا سوچا کہ اس سے ان کے عظیم والد ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو تسکیں ہوگی اور جو کام وہ ادھورا چھوڑگئے تھے وہ یہ پورا کریں گئیں یوں آمر جنرل ضیاء الحق کی المناک ہلاکت کے بعد ملک میں ہو نے والے 1988کے انتخابات میں محترمہ بینظیر بھٹو کی ولوالہ انگیز قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر نئے جذبے اور نئی روح کے ساتھ بیدرار ہوئی اور ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا اور بھاری مینڈیٹ سے کامیاب ہو ئی اس طرح 1988میں محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف ملک پہلی بلکہ امت مسلمہ کی بھی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں ۔

(اس وقت آپ کی عمر 35سال تھی)اسی طرح اکتوبر1993کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پھر کامیاب ہوئی تو محترمہ بینظیر بھٹو کو ملک کا دوبارہ وزیراعظم منتخب کرلیا گیا1998کو نواز شریف کے دوراقتدار میں آپ کو جلاوطنی اختیا ر کرنی پڑی اس دوران آپ نے وہاں سے ہی پارٹی کے امورانجام دئیے12اکتوبر1999کو جب جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف کی حکومت پر شب خون مارکرملک میں قائم لولی لنگڑی جمہوری حکومت کے ہاتھوں سے بیساکھی گھسیٹ لی تو اس آمر جنرل نے جیسی کرنی ویسی بھرنی کے تحت نوازشریف کو بھی بڑی ہی بیدردی سے ان کے اہل خانہ سیمت راتوں رات جہاز میں بھر کر جلاوطن کردیا کیوں کہ نوازشریف نے محترمہ کو اسی طرح جلاوطن کیا تھا اور وہ اب خودبھی جلاوطن ہوگئے تھے۔

بہرحال!اس سے بھی کچھ نہ ہو ا محترمہ ملک سے باہر اور ان کے شوہر آصف علی زرداری مسلسل اس دوران بھی پابندسلاسل ہی رہے پہلے تو صرف محترمہ بینظیر بھٹو ہی ملک سے باہر تھیں اور اب تو نوازشریف بھی ملک ہی سے نہیں بلکہ سیاست سے بھی آوٹ ہو چکے تھے اس عرصے میں مشرف پر عالمی دباؤبرھا تو اس آمر جنرل نے محترمہ بینظیر بھٹوکی جانب مصالحت کا خاموشی سے ہاتھ بڑھایا اس کے پیچھے کیا راز پوشیدہ تھا اس کا پردہ تواس وقت اٹھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اپنی طویل جلاوطنی کے بعد 18اکتوبر2007کو جب کراچی واپس آئیں تو ان کے تاریخی استقبالیہ جلوس میں بم دھماکہ ہوا اس قاتلانہ حملے میں محترمہ بینظیر بھٹو خوش قسمتی سے محفوظ رہیںہاںالبتہ اس ہولناک واقع میں 150سے زائدافرادشہیداور500کے لگ بھگ شدید و معمولی زخمی ہوئے آپ محترمہ بینظیربھٹوکو ان تمام خطرات کا پہلے سے ہی علم تھا مگر وہ ایک نڈر اور بہادر خاتون تھیں اس کے باوجود بھی آپ نے ذرابھی خوف محسوس نہ کیا اور اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھا اور آپ بلاخوف وخطرملک کے کونے کونے اور چپے چپے میں اپنے انتخابی جلسے اور جلوسوںکی قیادت کرتی رہیں۔

مگرگزشتہ برس 27دسمبر2007بروزجمعرات کو جب اس عوام دوست لیڈر کی عمر 54سال تھی توایسے ہی ایک انتخابی جلسے کے دوران راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میںمحترمہ بینظیر بھٹو پر دوسرااور آخری قاتلانہ حملہ اس وقت ہواکہ جب آپ ولوالہ اور فکر انگیز خطاب کے بعد جانے کے لئے اپنی گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہورہیںتھیںکہ اس دوران راولپنڈی کے اس تاریخی باغ نے ایک بارپھر دنیا کی اس عظیم خاتون کے خون سے اپنی زمین کورنگ لیااس سے قبل ا س باغ میںملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شہید کئے گئے تھے اس باربھی ملک کی پہلی اور دیناکی انتہائی قابل اور مدبرخاتون کوکسی ماہر اور بہترین نشانہ باز نے ان پر فائرنگ کر کے انہیںشہیدکردیا محترمہ شام 6بجکر 16منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جاملیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں اپنے چاہنے والوں کوافسردہ کرگئیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے قاتل نے خود کو بھی دھماکے سے اڑالیا اور اس کے بعدتو پورالیاقت باغ کا علاقہ قیامت صغری کا منظر پیش کرنے لگا اور انسانی اعضاء جائے وقوعہ سے 250فٹ دور تک ملے ہر طرف نعشیں بکھری پڑیں تھیں چیخ وپکار کا ایک عالم تھااس واقع میں بھی متعدت افرادشہید اور کئی شدید زخمی بھی ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو حقیقت میں ایک عملیت پسند خاتون تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے جوکہا اور جس کا م کوکرنے کا وعدہ کیا اس کو عملی طور پر بھی کر کے دیکھایا۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہیدکی اس اچانک ہوئے والی شہادت کے بعد ملک بھر میں جو کچھ بھی ہوا(یعنی جو انارگی پھیلی وہ ایک فطری اور جژباتی امرتھا)اگر اس وقت عوام کو روکاجاتاتو حالات ممکن تھے کہ اس سے کہیں مختلف اور پیچیدہ ہوجاتے بہرحال!اس وقت وہ کچھ نہیں ہوناتھاجو ہواتھااورجس نے بھی قومی اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اس نے اپنی اس عظیم رہنماء کی روح کو ضرور مزید ٹھیس پہنچائی ہوگی کہ ان سمیت ان کے خاندان کے ہر فرد نے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے خاطر اپنی جانوں کانزرانہ پیش کیا اور اس ملک اور اس کی عوام کی آبیاری اپنے مقدس خون سے کی ملکی ا ور نجی املاک کو انہوں نے کبھی بھی نقصان پہنچانے کادرس نہیںدیا صرف یہ نہیں بلکہ کوئی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت کا سربراہ ملکی اور نجی سرکاری اور غیرسرکار ی املاک کو نقصان پہنچانے اور جلانے کو کبھی نہیں کہتا وہ تو ادھر ادھر کے چند شرپسند عناصر ایسے موقعوں کا فائدہ اٹھا جاتے ہیں اور وہ انتا کچھ کر جاتے ہیں کہ قوموں کو اس کا خمیازہ سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔

PPP

PPP

اگرچہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیداہونے والی صورتحال کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی نئی قیادت کے لئے بہت سے نام سامنے آرہے تھے مگرمحترمہ بینظیر بھٹوشہید کی تجہیزوتکفین کے مراحل سمیت رسم قل کے بعدان کی واضح وصیت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے (تین گھنٹے بند کمرہ اجلاس کے بعد)اتوار30دسمبر2007کو پارٹی کی نئی قیادت کے حوالے سے جو فیصلہ کیا اس سے محترمہ بینظیر بھٹوکی جدائی کے بعد غم سے نڈھال اور سوگوار کارکنوں میں امید افزا حوصلہ پیدا ہواکیو ں کہ سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل نے شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو کے 20سالہ صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری جو21 دسمبر1988میں کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ ہوبہو اپنی ماں کی تصویر ہیں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا نیا چیئر مین بنا دیا گیا اوراس موقع پر متفقہ طور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پارٹی کے نئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کیوں کہ ابھی زیرتعلیم ہیں اس لئے ان کی تعلیم مکمل ہونے تک پارٹی کی قیادت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے شوہر اور بلاول بھٹوزرداری کے والدمحترم آصف علی زرداری کو شریک چیئر مین کی حیثیت سے پارٹی کی یہ اہم ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔

پارٹی کے نئے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری ان دنوںآکسفورڈ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے طالب علم ہیں اور ان سطور کو چھپنے والے دن تک یعنی 27 دسمبر2012تک وہ25سال اور8دن کے ہوچکے ہوں گے اس میں کوئی شک نہیںکہ 18 فروری کے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی بھرپورعوامی مینڈیٹ حاصل کرکے ایک مثالی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اِن سطور کے رقم کرنے تک یہ کئی نشیب وفراز سے گزرکربرسرِ اقتدار ہے اور چندماہ بعد ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی کامیابی کے لئے ایک بار پھر سرگرمِ عمل دکھائی دیتی ہے اِس سلسلے میں شہیدرانی اور اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی تصویر بلاو ل بھٹوزرداری آج یعنی 27دسمبر2012سے اپنی ماں اورشہیدچیئرپرسن بینظیربھٹو کی برسی کے موقع پرلارکانہ میں جلسہ عام میں عام انتخابات کے لئے اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی عوامی رابطہ مہم کا اعلان کریں گے اور حکومت کے دررخشاں5سالہ دور میں اپنی جماعت کی کارکردگی کی رپورٹ تزک و احتشام سے پیش کریں گے ۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا خام خیال یہ ہے کہ اِس رابطہ مہم سے قومی اُمیدکی جاسکتی ہے کہ 2013میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے امکانات ایک مرتبہ پھر روشن ہوجائیں گے اوراِس میں کوئی شک نہیں کہ 2008کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے پیچھے سب سے اہم اور نمایاں عنصر جو غالب رہا وہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کا تھااور آج پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک کو ایک سیکولر ازم کی نئی سوچ اور نئے جمہوری راستوں پر گامژن کر دیا ہے اس کا سارا سہرا صدرمملکت آصف علی زرداری کے سر توضرورجاتا ہے جنہوںنے اپنی مدبرانہ سوچ،فہم وفراست اور افہام و تفہیم سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعت کو اعتماد میں لیکر ملک اور قوم کے بہتر مفاداور استحکام کے لئے کچھ ایسے فیصلے توضرور کئے ہیں کہ قوم کا حکومت پر تھوڑابہت اعتماد بحال ہوگیاہے اور اَب 2013کے انتخابات میں یہی تھوڑے بہت اقدامات اور صدر زرداری کی شخصیت ہی جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کی ضامن ثابت ہوسکے گی تووہیں کسی حدتک ملک اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے بھی کچھ اچھاکرگزرنے کی سوچ کی حامل ہوپائے گی ۔

مگر اِن تمام باتوںکے باوجود بھی آج افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑ رہا ہے کہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اپنوں اور اغیار کے ہاتھوں کھلونابنتی محسوس ہورہی ہے اور اِسے خوداپنے وجود کولھڑکھڑانے سے بھی بچانا مشکل ہوگیاہے اور ایسا لگتاہے کہ پی پی پی کے کچھ اپنے فرسودہ اقدامات ایسے بھی ہیں جن میں ملک میںبڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری،کرپشن ، اقربأپروری سمیت بجلی گیس کی شکل میں بڑھتے ہوئے توانائی بحرانوں پر قابونہ پانا اورملک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ایماپر امرأکو بچاکر ملک کے غریب اور تنخوااہ دار محنت کش طبقے پر آر جی ایس ٹی کا زبردستی نفاذ کرنا بھی شامل ہے اِس سے پی پی پی کی نیک نامی پر ایک دھبہ لگ رہاہے اوراِسی طرح ملک میں مہنگائی اور کرپشن کی روک تھام کی ناکامی کے باعث موجودہ حکومت کوآئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنامشکل ہی نظر آرہی ہے جبکہ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی جب کہ بھارت نے سانحۂ ممبئی 26 نومبر کے بعد سے پورے خطے میں جنگ کا جو ماحول پیداکر ریاتھا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور صدرمملکت آصف علی زرداری نے بھارت کے جنگی عزائم کو خاک میں ملانے کا پوری طرح سے عزم کیا اور بھارتی سازش کو خاک میں ملادیا اور اِسی طرح 25 اور 26 نومبر2011 کی شب نیٹو افواج نے پاکستانی سرحدی علاقوں میں قائم پاک افواج کی دو چوکیوں پر اپنے جنگی طیاروں سے شب خون مارا۔

اِسکے بعد موجودہ حکومت نے پاک امریکا تعلقات کے حوالوں سے جتنے بھی سخت اقدامات کئے ہیں وہ بھی قابلِ تعریف ہیں اور میموگیٹ اسکینڈل جو اِن دنوںملک کی اعلیٰ عدلیہ میں اِس کے فیصلے آنے تک حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں وہ بھی اِس جمہوری عمل کا ہی طرہ امیتاز ہے کہ اِس حکومت نے اپنے اقتدار میں آ تے ہی بہت سے ایسے مسائل افہام وتفہیم سے جو گھمبیر نوعیت کے رہے ا ور اَب بھی اُمیدکی جاتی ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت اپنے اقتدار کے آئندہ چندایک ماہ میں ایسے بھی اقدامات ضرور کرے گی جس سے عوام کا اِس پر اعتماد بحال ہوگا۔

مگر اِس کے ساتھ ہی پاکستانی قوم آج بھی پانچ سال گزرجانے کے باوجود محترمہ شہید بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث عناصر کو سزا دلوانے کی شدت سے منتظر ہے جو کہ اب تک منظرِعام پر نہیں آسکے ہیں اور آج بھی نہ صرف اہل پاکستان بلکہ جہاں کہیں بھی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے چاہنے والے موجود ہیں اِن کے دلوں پر محترمہ بینظیر بھٹوشہیدرانی راج کرتی رہیں گیں اوروہ ہمیشہ زندہ رہیں گیں اِس موقع پر ہماری رب کائنات اللہ رب العزت سے تو بس یہی ایک دعاہے کہ اللہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قبر پرتاقیامت اپنی رحمتیں برساتا رہے اور صدرِ پاکستان سمیت پی پی پی کی قیادت کو توفیق دے کے وہ محترمہ شہیدکے قاتلوںکو تمام سیاسی اور ذاتی مصالحتوں سے بالاتر ہوکربے نقاب کریں اور اِنہیں اپنے موجودہ اقتدار کی مدت کے خاتمے سے قبل کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اپنااپنا اہم کردار اداکریں ۔(آمین)

تحریر : محمداعظم عظیم اعظیم