جمہوری مدوجزر، گرفتاریوں، رہائیوں، مؤثر عدالتی فیصلوں کا سال

 Mohammad bin Salman - Imran Khan

Mohammad bin Salman – Imran Khan

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستان کے لیے ختم ہونے والا عیسوی سال دو ہزار انیس سیاسی بحرانوں، معاشی مجبوریوں، میڈیا پر قدغنوں، اہم عدالتی فیصلوں اور خارجہ محاذ پر درپیش بڑے چیلنجز کا سال رہا۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اس سال فروری میں اسلام آباد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اس سال فروری میں اسلام آباد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کرتے ہوئے

رواں سال کا آغاز بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر خونریز حملے کے بعد جنم لینے والی پاک بھارت کشیدگی کےساتھ ہوا۔ بھارت کی طرف سے اس کے جواب میں چھبیس جنوری کو پاکستان کے شہر بالاکوٹ میں ‘سرجیکل حملوں‘ کا دعویٰ کیا گیا مگر اگلے ہی روز پاکستان نے بھارت کا ایک جنگی طیارہ مار گرانے کے ساتھ ساتھ اس طیارے کے پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتارکر لیا۔ ابھینندن کو کم و بیش ایک ہفتے بعد جذبہ خیرسگالی کے تحت واپس بھارت کےحوالے کر دیا گیا تھا۔

اس سال سابق ملکی صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہبازشریف، مسلم لیگ ن کی غیر اعلانیہ سربراہ مریم نواز، سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، ملکی اپوزیشن کے سابق سربراہ خورشید شاہ اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سمیت اہم سیاسی شخصیات کو نیب کی طرف سے گرفتاریوں کا سامنا رہا۔ اس لیے سال 2019ء کو اگر ‘نیب کا سال‘ بھی کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔

اسی سال نیب کو ایک ادارے کے طور پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ سب سے پہلے ایک احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ ایک مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ کے سامنے یہ اعتراف کرتے دکھائی دئے کہ انہوں نے نواز شریف کے خلاف سال 2018ء میں اپنا عدالتی فیصلہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دباؤ پر سنایا تھا۔ اسی ختم ہوتے ہوئے سال میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں وہ طیبہ نامی ایک خاتون سے اپنے دفتر میں غیر شائستہ گفتگو کرتے دکھائی دیے۔ یہ ویڈیوطیبہ نامی خاتون ہی منظر عام پر لائی تھیں۔

نواز شریف کے لیے رواں سال صحت کے اعتبار سے بہت برا رہا مگر سیاسی اعتبار سے ان کی پوزیشن زیادہ مستحکم ہوئی۔ انہیں اکتوبر کے آخری ہفتے میں خرابی صحت کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی اور نومبر کے تیسرے ہفتے میں وہ علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔

آصف علی زرداری رواں سال جون میں گرفتار ہوئے۔ ان پر نیب کی طرف سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں فائدہ حاصل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہیں پانچ ماہ بعد دسمبر کے دوسرے ہفتے میں رہا کر دیا گیا۔

رواں سال مئی میں قبائلی علاقہ جات سے منتخب ہونے والے دو اراکین قومی اسمبلی، علی وزیر اور محسن داوڑ کوخڑ قمر کے علاقے میں ایک احتجاج پر ہونے والی مبینہ فائرنگ کے بعد سکیورٹی اداروں نے اپنی حراست میں لے لیا۔ دونوں پر دہشت گردی کے سنگین الزامات میں مقدمات قائم ہوئے۔ جولائی میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کو منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

محسن داوڑ، علی وزیر اور رانا ثنااللہ اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرنے والے سیاستدانوں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تینوں منتخب اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے کسی بھی اجلاس میں شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کیے۔ بعد میں ان تینوں رہنماؤں کو بالترتیب پشاور اور لاہور ہائی کورٹ سے ضمانتوں پر رہائی نصیب ہوئی۔

اس سال پاکستان میں معاشی مجبوریاں بھی عروج پر رہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کم و بیش چھ مرتبہ اضافہ اور گیارہ مرتبہ کمی کی گئی۔ مجموعی طور پر پٹرول کی قیمت میں تیس روپے تک اضافہ ہوا۔ قیمتوں میں اس اضافے نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا، جس کی وجہ سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو گئی۔ اس دوران ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو بھی کسی حد تک کنڑول کر لیا گیا تاہم ملک کی مجموعی معیشت کا انحصار زیادہ تر بیرون ممالک سے حاصل ہونے والی مالی امداد پر ہی رہا۔

جولائی کے مہینے میں اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد پر مل کر آگے بڑھنے کا اعادہ کیا مگر یکم اگست کو ہونے والی خفیہ رائے دہی میں سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ چیئرمین سینیٹ اس بحران سے باآسانی نکل گئے تاہم اپوزیشن آپس میں ایک دوسرے پر شک کے بخار میں مبتلا ہو گئی۔

پاکستان میں رواں سال میڈیا پر جاری قدغنوں کے حوالے سے بھی ایک اور برا سال ثابت ہوا۔ بانی پاکستان قائد اعظم کی طرف سے لانچ کیے گئے انگریزی روزنامے ڈان پر پابندیاں عروج پر رہیں۔ اس اخبار کی مختلف خبروں پر نامعلوم افراد کی طرف سے احتجاج کرائے جاتے رہے تاہم اس اخبار نے ناموافق حالات کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔

پاکستان کے بہت سے ٹی وی چینلز بھی غیر اعلانیہ پابندیوں کا شکار رہے۔ ٹی وی چینلز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، رانا ثنااللہ، ایم این اے علی وزیر اور ایم این اے محسن داوڑ اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی جیسے موضوعات پر گفتگو غیر اعلانیہ طور پر ممنوع رہی۔ اسی دوران پاکستان کے دو معروف انگریزی جریدوں ہیرالڈ اور نیوزلائن کو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔

رواں سال پاکستان کے لیے اہم عدالتی فیصلوں کے حوالے سے بھی قابل ذکر رہا۔ نومبر کے تیسرے ہفتے میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیر اعظم کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اگست کے مہینے میں ان کی مدت ملازمت میں دی گئی تین سال کی توسیع کو منسوخ کر دیا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کو نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہونا تھا۔ بعد ازاں ملکی سپریم کورٹ نے اپنے ایک تفصیلی فیصلے میں آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع تو دے دی مگر ساتھ ہی حکومت کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ اس دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کرے کیونکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا ملک میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اکیس دسمبرکو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور ان کی جگہ جسٹس گلزار احمد نئے چیف جسٹس بنے، جس کے بعد وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے نئی قانون سازی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی۔

سترہ دسمبر کو اسلام آباد میں غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے جسٹس وقارسیٹھ کی سربراہی میں سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو ماضی میں آئین معطل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔ خصوصی عدالت کے اس فیصلے پر فوج نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا اور اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔

مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے باعث اسلام آباد کے شہریوں کے لیے گزرگاہیں محدود کر دی گئی ہیں۔ کشمیر ہائی وے پر اتوار بازار سے متصل روڈ کو بلاک کرنے کے لیے کنٹینر لگائے گئے ہیں۔

سال 2019ء خارجہ محاذ پر بھی تلاطم خیزیوں کا سال رہا۔ فروری میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا، جسے سرکاری سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔ برطانوی شاہی جوڑے پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ نے بھی اسی سال پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان ایک بار پھر اسی سال امریکا کے زیادہ قریب آیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور کشمیر سمیت تمام امور پرکھل کر بات چیت کی۔ امریکا کی طرف سے پاکستان کے لیے فوجی امداد و تربیت کے پروگرام بحال کر دیے گئے جبکہ پاکستان نے امریکا کی افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں معاونت کی۔

دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان نے ملائیشیا کے شہر کوآلالمپور میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنا مجوزہ دورہ اچانک منسوخ کر دیا۔ اس پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلے کو سعودی حکمرانوں کی طرف سے ہدایت کا نام دیا۔ اس منسوخی پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

پاکستان میں سال 2019ء میں جمہوریت مجموعی طور پر کمزور رہی اور غیر جمہوری قوتیں زور پکڑتی گئیں۔ نئے سال 2020ء کے بارے میں پاکستانی عوام کی بہت بڑی اکثریت کی خواہش ہے کہ یہ سال ملک میں جمہوریت، پارلیمان اور جمہوری اداروں کے استحکام کا سال ثابت ہو۔