بچیوں کا عالمی دن

Daughters Day

Daughters Day

تحریر: امتیاز علی شاکر
11 اکتوبر بچیوں کا عالمی دن، حیران کن بات ہے کہ آج ہم کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی اور کسی کی بہن کو اپنی بہن نہیں سمجھتے۔ باعزت بیٹیاں اپنے گھر کی چاردیواری میں قید ہیں۔ بچیاں گھر سے بعد میں نکلتی ہیں ناپاک نظریں اُن کا تعاقب پہلے شروع کر دیتی ہیں پھر بھی ہم بچیوں کا عالمی دن مناتے ہیں۔

بچیوں کی باوقار تعلیم و تربیت اور کامیاب زندگی بسر کرنے کیلئے باعزت روزگار کے زیادہ مواقع دور حاضر کی سخت ضرورت ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم بچیوں کی ترتیب صیحح انداز میں کررہے ہیں؟بیٹیاں گھروں کی رونق ہونے کے ساتھ ساتھ خاندان کی عزت بھی ہوتی ہیں۔ان کی معصومیت اور پاکیزگی والدین کا فخر وغرور ہوتی ہے۔لیکن جب بیٹیوں کی معصومیت کو زمانے کی ہوا لگ جائے اور پاکیزگی کودور جدید کی دیمک چاٹ جائے تو دلوں کوسکون بخشنے والی یہ ہی بیٹیاں زندگی کاروگ بن جاتی ہیں۔آج کل ہمارے معاشرے میں طلاق کا تناسب جس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس میں بیٹیوں سے زیادہ قصور والدین کا ہوتا ہے جو ایک مشرقی اور اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے بیٹیوں کی پرورش مغربی طرز پر کرتے ہیں۔جس سے لڑکیوں میں خود غرضی بے حسی اور بے باکی پیدا ہوتی ہے۔

والدین بیٹیوں کو کھلی آزادی اور زندگی کی آسائشیں دے کر ان میں خود نمائی اور اپنی ذات کا غرورتوپیدا کردیتے ہیں لیکن خوش اخلاقی’انکساری، اخلاقی اقدار، شعور، ایثار اور درگزر جیسی خوبیاں ان میں پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔دور جدید میں لڑکیوں کی شادی شدہ زندگی میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ گھریلو امور سے نا واقفی ہے۔مائیں بیٹیوں کو ان کی تعلیم کے دوران گھر کے کاموں سے دور رکھتی ہیں کہ ابھی صرف پڑھائی پرتوجہ دوجب وقت آئے گا کام بھی سیکھ جائو گی ۔حالانکہ ان کو جس کام سے روکنا چاہیے اس سے نہیں روکتیں ٹیلی ویژن پر بے ہودہ پروگرام دیکھتے ہوئے یا موبائل فون پرفضول باتیں کرنے میں چاہے پوری رات گزرجائے مائیں نہیں روکتیں ۔ہم اس قدر مغربی تہذیب میں لت پت ہوچکے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں کہ اسلام میں غیر محرم لڑکی اور لڑکے کی دوستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔آج کل ہماری بچیاں دن رات ٹیلی فون پرمرد دوستوں سے باتیں کرتی ہیں یہاں تک کئی کئی دن دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر بھی رہتی ہیں ۔کیا جی ہم اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرنے کے لیے جا رہی ہیں۔والدین روکنے کی بجائے خود شاپنگ کرنے بھیجتے ہیں۔افسوس کہ آج ہم اسلامی اقدار کو بھول کر رسوا ہوچکے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بیٹیوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سکھائیں تاکہ وہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔بیٹیوں کے لیے اچھی تعلیم وتربیت بہت اہم ہے تاکہ ان کو کوئی بھی اپنا غلام نہ سمجھے۔بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ قابل فخر ہوسکتی ہیں اگر ان کی اچھی تربیت کی جائے ۔ہمیں اپنی بیٹیوں کواچھی عادات سیکھانی چاہیے کوئی بھی کام بنا کیے اور تربیت کے بغیر نہیں آتا کھانا پکانا ایک مشکل کام ہے جو ہماری بیٹیاں ہی کرتی ہیں۔

Girls Education

Girls Education

یہ کام اتنا آسان نہیں کہ ایک دن میں سیکھ لیا جائے اس کے لیے تجربے ‘مشاہدے اور شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔آج ہمارے گھروں میں ڈھیروں قیمتی سامان موجود ہے لیکن فضول کیونکہ ہر چیز کو اس کی موزوں جگہ پر رکھنے اور گھر کو سجانے کی صلاحیت لڑکی اپنی ماں کے اطوار اور سلیقے سے سیکھتی ہے۔یاد رکھیں گھر سلیقے اور ذہانت سے چلائے جاتے ہیں۔ تعلیم کی بے جان ڈگریوں سے نہیں جس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد بھی سیرت دھندلی رہے اور روح پر سیاہی چھائی رہے تو ایسی تعلیم توبے ثمر ہی رہتی ہے۔آج کے دور سے پرانے زمانے کا وہ دور اچھا تھا جب لڑکیوں کو دنیاوی تعلیم توواجبی دلوائی جاتی تھی لیکن ان کی شخصیت اور کردارکی تربیت بھی کی جاتی تھی۔انہیں مشرقی اقدار اوروایات کی پاپندی کی تلقین بھی کی جاتی تھی۔مائیں بچیوں کو بچپن ہی سے گھر داری سیکھاتی تھیں دوسروں کی عزت واحترام کرنا اور رشتوں کو محبت واعتماد کی ڈورسے باندھنے کے گر بتائے جاتے تھے۔

اس وقت کی لڑکیا ںاپنے میکے کی عزت و آبرو برقرار رکھنے اور اپنے گھر کو آباد رکھنے کے لیے ہرطرح کی مشکلات کا سامنا بڑی خوشی سے کرتیں تھیں۔لیکن گھروں کو ٹوٹنے نہیں دیتی تھیں۔آج کے والدین اگر اپنی بیٹیوں کو ان کی شادی کے بعد ان کے گھروں میں خوش وخرم دیکھنا اور معاشرے میں طلاق جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل ہے کوکم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں بیٹیوں کی تربیت اس ڈھب سے کریں کہ ان کی شخصیت متوازن رہے۔انھیں اعلیٰ تعلیم ضرور دلوائیں کیونکہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے لیکن بے جا آزادی کوبے راہ روی ہرگزنہ بننے دیں۔بچیوں کو ہمیشہ یہ احساس دلائیں کہ ان کا اصل گھر ان کا سسرال ہے جہاں جاکر انھیں وہاں کے ماحول میں ڈھلنا ہوگا۔ان کے طور طریقوں اور رسم ورواج کو نبھانا ہوگا اپنی عادتوں اور روز شب کے معمولات کو ان کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا کہ اسی میں بیٹیوں کی معاشرتی اورازدواجی زندگی کی کامیابی ہے۔وقت پڑنے پر اپنے تعلیم و ہنر کے ذریعے اپنے ملک ،شہر اور خاص طور پر گھر، خاندان کیلئے جدوجہد کرنا بھی بچیوں کا فرض۔مختصر کہ بچیوں کی کسی بھی پہلو سے بچوں سے کم تر نہ سمجھا جائے، اُن کو گھر کی چادیواری میں قید کرنے کی بجائے معاشرے کا ماحول ایسا بنا دیا جانا چاہئے کہ بچیاں اپنے وطن، اپنے شہر کے گلی کوچوں کو اپنا گھر تصور کریں اور آزادانہ نکل و حرکت کر سکیں۔

Imtiaz Ali Shakir

Imtiaz Ali Shakir

تحریر: امتیاز علی شاکر :لاہور
Email:imtiazali470@gmail.com,
0315-4174470