الیکشن سے پہلے لانڈری سروس

Election

Election

تحریر: صادق مصطفوی

صفائی نصف ایمان ہے، یہ اسلامی تعلیمات میں سے ایک ہے ۔ ہر مسلمان اس پر صرف یقین ہی نہیں رکھتا بلکہ ہر ممکن اس پر عمل کی کوشش بھی کرتا ہے۔ غریب ہو یا امیر ہر کوئی جیسی محفل و تقریب ہو اس کے مطابق صفائی کااہتمام کرتا ہے ۔ مگر آج اس مصروف زندگی کے دور میں صرف ظاہری نمودو نمائش کو صفائی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔انسان باطنی طور پر جیسا بھی ہو مگر جو ظاہری طورجتنے پر کشش اور صاف ستھرے لباس میں ہو گا اس کو اتنا ہی صفائی پسند سمجھا جائے گا، اس کو صفائی نصف ایمان کی مثال کے طور پیش کیا جائے گا۔

سیاست کے میدان میں بھی صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں سب سے زیادہ عوام میں صفائی پر توجہ دینے والے ہمارے سیاستدان ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ یہ طبقہ صفائی کا خیال کیوں نہ رکھیں ان کا سیاست کا بزنس چلتا بھی توظاہری صفائی پر ہی ہے ۔ صفائی کو بطور مارکیٹنگ استعمال کیا جاتا ہے۔ عوام اپنے سیاستدانوں کے جائز و ناجائز آمدنی کے ذرائع کو جانتی بھی ہوتی ہے لیکن ان کی صفائی کے دھوکے میں ان کو پس پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ویسے ہمارے نااہل سیاستدان کو کوئی بھی کام جائز طریقوں سے کم ہی ہوتا ہے۔

ابھی تک NAB نے جس کی بھی فائل کھولی، اس میں ایک نیاہی پنڈورا بکس کھلا ہے۔
پاکستان میں جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں سیاسی امیدواروں کی چھلانگیں عوام کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اکثر امیدوار تو ایسے ہوتے ہیں جن کا ریکارڈ ہے کہ ہر لیکشن سے پہلے وہ پارٹی تبدیلی کرتے ہیں ۔ امیدواروں کی طرف سے الیکشن پہلے جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس بار کون سی پارٹی مقبول ہے، کس پر مہربانیاں نظر آ رہی ہیں۔ کس کے ٹکٹ سے جتنے کے چانس زیادہ ہیں ۔ اور ان سب سے بڑھ کر کس چھتری تلے جانے سے احتساب کے نظروں سے بچا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ سیاست ایک بزنس بن چکا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ اپنے بزنس کا تحفظ کیا جائے ۔ الیکشن سے پہلے جس پارٹی میں لانڈری سروس نظر آتی ہے۔

سیاسی پنچھی اُڑان بھرتے ہوئے اس لانڈری میں جا پہنچتے ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اس وقت 150سے 200کے قریب ایسے ہی امیدوار ہیں جو الیکشن سے پہلے پارٹی تبدیل کر کے سیاسی بزنس سے حاصل آمدن کو پاک کرنے کیلئے لانڈری سروس کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔ اور ان کی اچھل کود سے ہی جماعتوں کی پوزیشنیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

الیکشن لانڈری کی مالک ہر بار الگ جماعت ہوتی ہے ۔ جس کا مقصد اقتدار کے حصول کیلئے الیکٹیبلز کا سہارا لینا ہوتا ہے ۔ اور الیکٹیبلزاپنے حلقہ جات میں اپنے اثر و رسوخ کے باعث اپنی اہمیت کے باعث جماعتوں کی مجبوری بھی ہوتے ہیں اور پاکستانی نظام کی خرابی کا باعث دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ الیکٹیبلز بھی ہیں جو اقتدار میں آنے والی جماعتوں کو حمایت کی صورت میں اس ملک کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہم عوام بھی کتنے سادہ ہیں یا بے وقوف ہیں کہ الیکشن میں امیدوار کو نہیں بلکہ اپنی پسندیدہ جماعت کو دیکھتے ہیں ،خواہ اس جماعت میں اس بار حصہ لینے والے کے خلاف ہم نے سابقہ الیکشن میں مخالفت میں تقریریں کی ہوں۔امیدوار بے شک کرپٹ ، نااہل، جعلی ڈگری ہو ہمیں اس سے غرض نہیں ہوتی ہم نے تو اپنی جماعت کا ٹائٹل دیکھنا ہوتا ہے۔ ہماری سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو ہماری جماعت میں شامل ہو گیا ہے وہ اب کرپشن سے پاک ہو گیا ہے اور اب آئندہ کسی لوٹ مار کا حصہ نہیں ہو گا۔ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ووٹ کا استعمال ملک کے مفاد میں ہو رہا ہے یا ذاتی تعلقات کیلئے۔ ہمیں ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اپنی ذات سے زیادہ اپنے پیارے ملک پاکستان کی ترقی کا سوچنا ہو گا تو ہی روشن پاکستان کا خواب پورا ہو گا۔

Muhammad Sadiq

Muhammad Sadiq

تحریر: صادق مصطفوی