جعلی ڈگری کیس : ثمینہ خاورحیات، نادرمگسی ، میر بادشاہ خان کی اسناد طلب

Supreme Court

Supreme Court

اسلام آباد (جیوڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر لیاقت بھٹی کو ضمنی انتخابات لڑنے سے روکتے ہوئے کہاہے کہ اسناد کی تصدیق کرائے بغیر وہ کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرا سکتے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے ڈگریوں کی تصدیق میں ایچ ای سی کی معاونت کریں۔

عدالت نے ثمینہ خاور حیات اور غلام سرور خان کو نوٹس جاری کر دیئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ لیاقت حسین بھٹی تعلیمی اسناد کی تصدیق کرائیں، اگلے روز ہی سماعت کر لیں گے، ایچ ای سی دو ہفتوں میں لیاقت بھٹی کی تمام ڈگریوں کی تصدیق کر کے آگاہ کرے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ثمینہ خاور حیات کی 2008 اور 2013 کے انتخابات میں جمع کرائی گئیں ڈگریاں دی جائیں۔نواب زادہ نادر مگسی، سردار میر بادشاہ خان، شوکت عزیز بھٹی اور خواجہ اسلام سے انٹرمیڈیٹ کو بھی نوٹس جاری کر دیئے۔درخواست گزار احسن الدین شیخ نے موقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی غلام سرور خان کی بوگس ڈگری کی ایف آئی آر لاہور میں درج ہے۔

انہو ں نیبی اے کرنے کے لیے جو ڈپلومہ لیااس پر ولدیت کسی اور کی تھی، غلام سرور خان کے والد کا نام حیات خان ہے جبکہ اس ڈپلومہ پر محمد حمید خان درج ہے، عدالت نے غلام سرور خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایچ ای سی سے بھی تفصیلات طلب کر لیں۔عدالت نے بلال رحمان کی تعلیمی اسناد درست قرار دیتے ہوئے نوٹس خارج کر دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایچ ای سی زیب جعفر، مائزہ حمید اور افتخار گیلانی کی 10 روز میں تعلیمی اسناد کی تصدیق مکمل کرے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ دو سال ہو گئے ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیوں نہیں ہو سکا۔