سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع

Diseases

Diseases

حالیہ سیلاب جہاں تباہی اور بربادی ایک نئی داستان رقم کر رہا ہے وہیں اس نے اٹھانوے زندگیاں نگل لیں ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اب وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث بیماریاں پھیلنا شروع ہوگئی ہیں۔

سیلاب زدہ علاقوں میں صاف پانی کی قلت کے سبب جہاں معدے کی بیماریاں اور دیگر عفونت پھیل رہی ہے۔ آنکھوں کی بیماری بھی ایک سے دوسرے شخص کو تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ اسپتالوں میں پیٹ کی بیماریوں کے بہت سے کیسز دیکھے جا رہے ہیں اور مزید کیسس سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

ٹنڈو محمد خان میں گیسٹرو کی وبا پھیلنے کے باعث متعدد بچے بیمار ہوگئے۔ متاثرہ بچوں کو نجی اسپتال میں بیڈز کم ہونے کے باعث فرش پر لٹا کر علاج کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں عملے اور گیسٹرو کی ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ پسرور میں سیلابی پانی کے باعث وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔ ڈسکہ میں سیلاب کی وجہ سے گیسٹرو کی وبا سے متاثرہ مزید چھبیس افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔