پاکستانی قوم کو اَپریل فول بنانے کی کیا ضرورت ہے..؟

Pakistan

Pakistan

ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے نصب صدی سے زائدکا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ کمال صرف پاکستان قوم کو ہی حاصل ہے کہ اِس عرصے میں ہماری قوم اپنے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور قومی اداروں کے سربراہان کے حوالوں سے مسلسل بولے جانے والے جھوٹ ( جھوٹے وعدوں اور جھوٹے دعووں ) کی وجہ سے فُول بنتی آئی ہے اَب ایسی قوم جو اپنے قیا م سے لے کر اَب تک روز انہ ہی کسی نہ کسی حوالے سے فول بننے میں کمال کی مہارت رکھتی ہے، ایسی اِپنی قوم سے متعلق راقم الحرف کا خام خیال یہ ہے کہ ہماری قوم جو پچھلے 67 سالوں سے فُول بنتی آئی ہے کیا ابھی اِسے کسی اَپریل فُول کی کیا ضرورت ہے… ؟ جو صرف ایک دن کے لئے ہی فُول بنانے کے لئے مختص کیا گیا ہو، ارے ..!میرے بھائی ہماری پاکستانی قوم تو گزشتہ 67 سالوں میں جس طرح فُول بنی ہے یہ اِس کا ہی ظرفِ عظیم ہے اور یار..!یہ اِس کی ہی ہمت ہے کہ یہ پلے درجے کی فُول قوم ہوکر بھی ابھی تیار ہے کہ چند دِنوں بعد جو اپنے پرائے اور سب سے جھوٹ بول کر فُول بنانے کے لئے یکم اپریل المعروف اپریل فُول یا جھوٹ بولنے اور ہولناکی پھیلانے کا عالمی دن آرہاہے اِس میں بھی اپنے جھوٹے حکمرانوں، سیاستدانوں اور دیگر اشخاص کی جانب سے بولے جانے والے کسی جھوٹ پر پھر فُول بنے گی۔ اَب ایسے میں ہم کیا یہ سمجھ لیں کہ یکم اپریل ہو یا سال کے 365 دن روز فُول بننا مجھ سمیت میری قوم کا مقدر بن کررہ گیا ہے۔

بہرکیف ..!یہاں ہمیں یہ ایک بات اچھی طرح ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ بحیثیت مسلمان ہمارایہ ایمان ہے کہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت برستی ہے، مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹ بولنا عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے افسوس ہے کہ جیسے ہم دیدہ ودانستہ جھوٹبول کر اللہ کے عذاب کو چیلنج کر رہے ہیں، اور اَب کیا یہ کسی عذاب سے کم ہے …؟کہ اللہ نصب صدی سے ہم پر ایسے حاکم مسلط کررہا ہے جو کہ اپنی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کے باعث کسی بھی لحاظ سے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں، آج اگرقوم کو ایسے حکمرانوں سے جھٹکارہ چاہئے تو اِس پر یہ لازم آتا ہے کہ یہ مُلک میں اگلے برسوں میں ہونے والے انتخابات سے قبل دیدہ ودانستہ جھوٹ بولنے اور جھوٹے وعدے اور دعوے کرنے والے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور قومی اداروں کے جھوٹے سربراہان کے پیچھے دُم ہلا کر چلنے سے توبہ کرلے تو پھر قوم خُود یہ دیکھ لے گی کہ اِس پر اللہ ربِ کائنات اپنی اگلے انتخابات میں کیسی مدد کرتا ہے اور پھر قوم کوخُود نظر آجائے گاکہ اللہ اِس پر اِس کی مرضی کے مطابق اچھے نیک وصالح اور سچے وعدے اور سچے دعوے کرنے والے حکمران مسلط کردے گا مگر اِس کے لئے شرط صرف یہ ہے کہ قوم اپنا احتساب کرے اور یکم اپریل المعروف اپریل فُول توکیا سال کے 365 دن فخریہ اندازسے جھوٹ بولنا چھوڑدے اور سچ بولنا شروع کردے تو پھر اِسے ہر حال میں اللہ کی مدد سے وہ سب کچھ حاصل ہوجائے گایہ جس کے لئے نصب صدی سے منتظر ہے اور کیا یہی اچھا نہیں ہو گا کہ اِس کے نہ جھوٹ بولنے اللہ اِس پر حقیقی معنوں میں نیک اور متقی پرہیزگار حاکم مسلط کردے جو موجودہ تمام مسائل سے جھٹکارے کا باعث بنے۔

مندرجہ بالاساری باتوں کے علاوہ میں یہاں اپنے معاشرے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد قمرالزماں کے ساتھ بیس سال قبل یکم اپریل یعنی اپریل فُول پر پیش آئے اُس واقعہ کا تذکرہ کرنابھی ضروری سمجھتاہوں جس کے ایک جھوٹ نے اِس کی محبت کرنے والی بیوی کائنات جہاں اور اِس کی تین بیٹیوں اور اِس کے چند گھنٹوں کے نومولودبیٹے احمدزماں سے اِن کی شفیق ماں چھین لی تھی آج تک جس کا پچھتاوا قمر الزماںکو ہے اور اَب قمرالزماں کا یہ حال ہے کہ جب سے اِس کی زندگی میں یکم اپریل یا اپریل فُول کا دن آتاہے تو اِس کی نظروں میں وہ سارے مناظر گھوم جاتے ہیں جواِس کی زندگی میں بیس سال پہلے قیامت بن کر آئے تھے،بقول قمرالزماں واقعہ کچھ یوںہے کہ اِ س کے ماموںکی بڑی بیٹی جس کانام کائنات جہاں تھااِس کے ساتھ اِ س کی شادی ہوئی یہ اِس سے دوسال چھوٹی تھی مگر خوبصورت تھی یوں دونوں کے والدین کی مرضی سے شادی ہوگئی ، شادی کے پہلے سال قمرالزماں ایک بیٹی کا باپ بن گیا، مگر اِسے بیٹے کی شدد سے خواہش تھی دوسال بعد بیٹے کے چکر میں پھر بیٹی پیداہوگئی ، یوں بیٹے کی خواہش اور تڑپی اور پھر کوشش کی ایک اور بیٹی پیداہوگئی ،جب اُوپر تلے تین بیٹیاں ایک ساتھ پیدا ہو گئیں تواِس نے اپنی بیوی کائنات جہاں کو سخت لہجے میں وارننگ د ے دی کہ اگر اِس مرتبہ بیٹاپیدانہ ہواتووہ اِسے اسپتال ہی میں طلاق دے دے گا، یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ہمارے یہاں میڈیکل میں بالخصوص مدرشغم میں پتہ لگانے والی یہ ٹیکنالوجی کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ لڑکی ہے یا لڑکا یہ اتنی عام نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ایساکچھ تھاکہ الٹراساونڈ وغیرہ ہوتا تھا بس ایک عام ساہی قدیم پیدایشی طریقہ رائج تھا، بہرحال ..!

Qamar uz Zaman

Qamar uz Zaman

قصہ مختصر یہ کہ جس روزقمرالزماں کے چوتھے بچے کی پیدائشی اُس روز قمرالزماں صبح ہی سے اسپتال میں موجودتھااور اِس کا چوتھابچہ سیزر(یعنی کہ بڑے آپریشن سے ہواتھااِس کی بیوی کو ہوش نہیں آیاتھااُسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھاکہ آج اِس کے وجود سے جس جو بچے نے جنم لیا ہے وہ لڑکاہی کہ لڑکی….؟ مگرچوں کہ پیدائش ضروری تھی اِس لئے کائنات جہاں کو اِس عمل سے بھی ضرور گزرنا تھااور وہ گزر گئی تھی) آج کائنات جہاں نے بیٹاجنم دے کر اپنی کائنات مکمل کرلی تھی ابھی کائنات جہاں عالمِ بے ہوشی ہی میں تھی کہ دوسری طرف لیبرروم سے باہر کوری ڈورمیں قمرالزماں اور اِس کی چھوٹی تینوں بیٹیوں اور اِس کے تمام گھروالوں سمیت اِس کے سُسرالی بھی بہت خوش تھے اِسی دوران قمرالزماں کو ایک اچھوتاآئیڈیاآیااور اِس نے سوچاکہ کیوں نہ یہ اپنی بیوی کائنات جہاں سے کوئی ایسامذاق کرلے جو ساری زندگی کے لئے یادگاربن جائے اور آج توویسے بھی یکم اپریل ہے اور اپریل فُول ہے چلواچھا موقعہ ہے آج اِس خوشی کے موقعہ پر اپنی بیوی کائنات جہاںسے ہی مذاق کرکے اپریل فُول بنایاجائے اور اِس نے اپنی اِس اپریل فول والی پلاننگ میں سب کو شامل کیا اور سب کو بتادیاکہ کائنات جہاں کو جب ہوش آئے گاتووہ سب سے پہلے غصے میں اِس کے سامنے جائے گااور کہے گاکہ” کائنات اِس مرتبہ بھی تم نے چوتھی بیٹی پیدا کر دی ہے اور میں اپنے کہئے ہوئے پر قائم ہواور میں تمہیں آج اور ابھی اور اِسی وقت طلاق دیتاہوں ”کائنات جہاں کو جیسے ہی ہوش آیااور اِسے لیبر روم سے وارڈ میں شفٹ کیا گیا۔

قمرالزماں نے اپنی پلاننگ کے مطابق ویساہی کیا اور اِس نے اپنے سوچے ہوئے وہ سارے ہی جملے ہوبہو ” کائنات اِس مرتبہ بھی تم نے چوتھی بیٹی پیداکردی ہے اور میں اپنے کہئے ہوئے پر قائم ہواور میں تمہیں آج اور ابھی اور اِسی وقت طلاق دیتاہوں ” کائنات جہاں کے سامنے اپنی گرجدارآوازمیں اُنڈیل دیئے مگر قبل اِس کے کہ قمرالزماں اپنی صفائی میں مزیدکچھ اور کہتاکہ اتناسُنناہی تھاکہ کائنات جہاں کو یہ سب کچھ سچ لگااور وہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اُسے آناََفاناََ ہارٹ اٹیک ہوااور وہ پلک چھپکتے ہی اللہ کو پیاری ہوگئی ،چونکہ یہ ساری منصوبہ بندی خودقمرالزماں کی اپنی ہی کی ہوئی تھی آج تک اِس وجہ سے قمرالزماں خودکو قصوروارسمجھتاہے اور اَب جب بھی اِس کی زندگی میں یکم اپریل کادن آتاہے وہ اپنی بیوی سے جدائی کے غم میں تڑپ ساجاتاہے اور آج اِس کے پاس سوائے پچھتاوے اور کفِ افسوس کے کچھ بھی نہیں ہے۔

سومیری قوم کے اِنسانوں تم خواہ میرے حکمران ہو یا سیاستدان یا پھر کسی ادارے کے سربراہ ہویا آج کفِ افسوس ملتے قمرالزماںجیسے عام شہری تمہیں قوم یا اپنے کسی بھی پیارے کے ساتھ جھوٹ بول کر یا جھوٹے وعدے یا جھوٹے دعوے کرکے ایسامذاق نہیں کرناچاہئے کہ جس سے اِنسانوں کی دل آزاری ہواورسب کو ہاتھ سوائے پچھتاوے کے کچھ بھی نہ آئے۔

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com