غزہ کے مظلوم شہیدو تمہیں سلام

Palestine

Palestine

فلسطین جو انبیاء کی سرزمین ہے اس وقت یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے جس پر یہودی قابض ہیں۔ دنیا بھر کے یہودیوں نے مسلمانوں کی اس مقدص زمین پر کئی عشروں سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کے اصل فلسطینی باشندوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے ان کو کیمپوں میں رہنے پرمجبور کر دیا گیا کیمپوں پر بھی بمباری کر کے ان مظلوں فلسطینیوں کو مولی گاجر کی طرح ختم گیا ہے۔ فلسطینیوں کی زمینوں پر ناجائزیہودی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں جو سلسلہ روکنے کو نہیں دیتا اور یہ سلسلہ روکے گا بھی نہیں، کیونکہ کہ یہودیوں نے یہ مستقل پالیسی بنائی ہوئی ہے کہ فلسطین کی تمام آبادی کو فلسطین چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا جس پر عمل جاری ہے۔

فلسطین پر مکمل قبضہ کر کے اور یہودیوں کا مرکز بنا کر تمام عرب ممالک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہودی ہیکلِ سلمانی بھی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کو اسرائیل نے مخفی بھی نہیں رکھا ہوا۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی دیوار پر لکھا ہوا ہے اے اسرائیل تیری سرحدیں مدینہ تک ہیں ۔اسی پالیسی پر یہودی اسرائیل کے قیام سے کام کر رہے ہیں۔ اس میں ان کو امریکا اور برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ابھی کچھ مدت کی بات ہے عیسائی یہودیوں کی سازشوں کی وجہ سے ان کے جانی دشمن تھے اسی لیے یہودی قوم کو عیسائی ہٹلر نے ہولو کاسٹ کے ذریعے وہ سخت سزا دی تھی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی بلکہ یاد رکھی ہوئی ہے۔

اب عسائیوں نے اپنے پرانے جانی دشمن یہودیوں سے دولت کی لالچ اور مسلم دشمنی پر دوستی کر لی ہے ۔ عیسائی دنیا میں کوئی بھی ہولو کاسٹ کے خلاف بولے تو خلاف قانون ہے ان کی پارلیمنٹس نے قانون پاس کئے ہوئے ہیں اور کئی ہوں کو اس پر سزا بھی دی جا چکی ہے۔ یہودی قوم کو اللہ نے قرآن میں ذلیل و خوار کہا ہے۔اسرائیل کے زبردستی قیام سے پہلے یہ قوم صدیوں سے دنیا میں تتر بتر تھی۔یہ مسلمانوں کی ازلی دشمن قوم ہے۔ اس نے فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کر دی ہے ۔ ابھی تین یہودیوں کے اغوا کے جھوٹے قصے کو بنیاد بنا کرغزہ کے محصور فلسطینیوں پر جیٹ طیاروں، میزالوں اور ٹینکوں سے حملہ کر دیا ہے۔ بان کی مون سیکرٹری صاحب فرماتے ہیں کہ عالمی امن کو خطرہ ہے دونوں فریق بین الاقوامی قوانین کا احرام کریں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کے ١٦٠ سے زائد لوگ شہید ہو گئے ہیں اسرائیل کا ایک بندہ بھی ہلاک نہیں ہوا تو بان کی مون صاحب کہاں کی بات کرتے ہیں۔اسرائیل کو دہشت گرد قرار کیوںنہیں دیتے اور حماس کو مشورہ دے رہے ہیں۔سلامتی کونسل نے بھی قراداد پاس کی ہے اور فریقین کو صبر کی تلقین کی ہے واہ رے اقوام متحدہ تمہارے اسرائیل کی زیادتیوں کی قراردوں کے دفتر بھرے پڑے ہیں مگر تم اسرائیل کو دہشت گرد قرار نہیں دیتے ہو اور مسلمانوں جنگ جوئوںکی چھوٹی چھوٹی کاروائیوں پر پوری مسلم دنیا کو دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے۔ابھی تازہ کاروئیوں میں اسرائیل نے فلسطینیوںپر ٧ جولائی سے بمباری جاری ہے دو دن میں ٢٤ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔٤٠ ہزر ریزرو فوج کو تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ۔ اسرائیلی قابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔تیسرے دن بمباری سے شہادتیں ٤٤ ہو گئیں ان میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ نواز شریف نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ اردن نے حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔چوتھے روز تک ٨٨ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ وسطی میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر بمباری میں ٨ افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے حملوں میں تیزی کا حکم دیا ہے۔اسرائیل نے مسلمانوں کو غزہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

 Israel Attacks

Israel Attacks

شمالی اور جنوبی حصوں میں مقیم ١٠ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو فوری گھر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ چار روز میں شہادتوں کی تعداد١١٠ ہو گئی ہے ۔ غزہ پر ٩٠٠ سے زائد بم گرائے گئے ہیں۔ ترک وزیر اعظم نے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر پاکستان بھر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم پر شدید غم و غصہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کا اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کرنا شرمناک ہے۔ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں لیاقت بلوچ کا بیان۔ غزہ میں مساجد اور حماس کی قیادت نشانے پر ۔مزید ٢٩ فلسطینی شہید ہو گئے خان یونس میں ایک اور نصیرات میں ٢ مسجد پر حملے کیے گئے۔ جبایا میں خارون سمیت ٨ افراد اور التفاح میں ٣ اور بیت لابیہ میں ٣ نہتے فلسطینی شہید ہو ئے۔ نیتن یاہو نے فرمان جاری کیا ہے کہ غزہ پر پہلے سے زیادہ حملے کریں گے۔ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عرب وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس کل قاہرہ میں طلب کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس نے اپنے اجلاس فلسطین فائونڈیشن کے تحت منعقدہ اجلاس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی مظالم بند کرائے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ١٢ مسلم ممالک سے کہا گیا ہے وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلوقات منقطع کریں ۔ فلسطینی سفیر نے کہا کہ دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے ،مذمت نہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ عالمی برداری فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریںپاکستان سمیت تمام مسلم ممالک اسرائیل کی مصنوعات کا اپنے اپنے ملک میں بائیکاٹ کریں۔” زخمی زخمی قدس پکارا ۔اب تومسلم جاگ خدا را” سلوگن کے تحت اس کانفرنس میں مہمان خصوصی پاکستان میں مقیم فلسطینی سفیر ولید ابوعلی تھے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجا ظفرالحق،آل پاکستان مسلم لیگ کے چیف کوآرڈینیٹر احمد رضا قصوری، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ، پاکستا ن عوامی تحریک کے رہنما آغا مرتضیٰ پویا،ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر،جمعیت علماء پاکستان کے علامہ قاضی احمد نورانی، فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صابرک کلربلائی ، مجلس وحدت المسلیمین پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا اعجاز حسین بہشتی، اسلام آباد پریس کلب کے صدر شیر یار، سنی اتحاد کونسل پاکستان کے جواد کاظمی،پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر فقیر حسین بخاری،متحدہ علما کے پاکستان کے عبدالجلیل نقشبندی کے علاوہ دوسرے حضرات نے خطاب کیا۔

اُدھر کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت یکجہتی فلسطین ریلی منقعد کی گئی۔ نمائش چورنگی تا سی بریز اس ریلی میں کراچی کے عوام نے بھر پور شرکت کی اس میں ہزاروں کی تحت میں سخت گرمی کے باوجود کثیر تعداد میں کراچی کے لوگ شریک ہوئے اور فلسطین میں غزہ کے شہیدوں کے ساتھ یکجہتی منائی گئی اس میں بچے، بزرگ، عورتوں نے بھی شرکت کی۔

فلسطین فائونڈیشن کے صدراور سابق ممبر اسمبلی قومی مظفر عاشمی نے تقریر کی۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے خطاب میں اسرائیلی مظالم کی پرزور مذمت کی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کراچی کے عوام کی طرف سے فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکججہتی کے اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ آخر میں امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ جناب ڈاکڑ معراج ا لحق صدیقی کے اسرائیلی مظالم کی داستان بیان کرتے ہوئے اور پر جوش خطاب سنتے ہوئے ریلی کے شرکا کے آنسو جاری ہو گئے۔ آنسو سے بھری دعاء پر اس یکجہتی فلسطین ریلی کا اختتام ہوا۔

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان
کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان(سی سی پی)
mirafsaraman@gmail.com
www.mifafsaramanfacebookcom