عالمی رہنماؤں کی گلوبل وارمنگ کو روکنے کی کوشش

Protest

Protest

گلاسگو (اصل میڈیا ڈیسک) گلاسگو میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شریک ہونے والے رہنما اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیسے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو کم کیا جا سکے؟

اقوام متحدہ کی کلائمیٹ کانفرنس کا آغاز آج گلاسگو میں ہو گیا ہے۔ لیکن عالمی رہنما ابھی تک ایسی پالیسیاں مرتب کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو زمینی درجہ حرارت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کا کہنا ہے، ”اگر تمام حکومتیں خاص طور پر جی ٹوئنٹی ممالک موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہیں اٹھاتے تو ہم بہت بڑے انسانی بحران کی طرف چلے جائیں گے۔‘‘

حالیہ کچھ برسوں میں موسمیاتی آفتوں اور تحفظ ماحول کے کارکنوں کے احتجاج کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں کا موضوع عالمی سیاست میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ لیکن یہ بات سائنس قریب نصف صدی سے ثابت کر چکی ہے کہ روایتی ایندھن، جسے فوسل فیول بھی کہتے ہیں، کے استعمال سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے، جو زمینی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ دوسری جانب سیاست دان اس مسئلے کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔

اب قریب ڈھائی عشروں کے سالانہ مباحثوں کے بعد ہزاروں افراد گلاسگو شہر میں جمع ہیں۔ اس کانفرنس کو زمینی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کی آخری امید تصور کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سالانہ اجلاس عالمی رہنماؤں کے لیے کم سے کم فوسل فیول کے استعمال کے حوالے سے منصوبوں پر اتفاق کرنے کا ایک فورم ہے۔ اس کانفرنس میں شریک ممالک تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ گزشتہ اہداف کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ دو بنیادی مسائل پر بھی بحث کی جائے گی، ان میں سے ایک ضرر رساں گیسوں کا اخراج اور دوسرا ان کی کمی پر اٹھنے والے اخراجات ہیں۔

برطانیہ کی حکومت، جو اس اجلاس کی میزبانی کر رہی ہے، عالمی رہنماؤں پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنی کاربن آلودگی کو جلد اور تیزی سے کم کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ اس اجلاس میں ”کوئلے کے استعمال، ماحول دوست کاروں، امدادی رقوم کی تقسیم اور جنگلات کے تحفظ‘‘ جیسے موضوعات کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس ایجنڈے میں امدادی رقوم کی تقسیم کا مرحلہ ایک پیچیدہ کام ہے۔ امیر ممالک سن 2020ء تک غریب ممالک کو سالانہ ایک سو بلین ڈالر ادا کرنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پالیسی کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے بغیر کرہ ارض کو گرمی کی مزید مہلک لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔