گجرات میں معصوم بچے کے ساتھ ظلم

Tabassum Iqbal

Tabassum Iqbal

میں عزیز بھٹی شہیدہ سپتال گجرات میں موجود تھا اور میرے سامنے غریب محنت کش غلام مصطفی کا بیٹا تبسم مظلومیت کی تصویر بنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔اس کے دونوںبازوتن سے جدا ہو چکے تھے اور چھوٹی سی عمر میں ہی یہ معصوم بچہ اپنے جسم کے اس اثاثے سے محروم ہو چکا تھاجس کے بغیرکسی بھی انسان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ بازو اور ہاتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے عظیم نعمتیں ہیں جن کے بغیر انسان زندگی کے ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔

وہ تھانہ صدر گجرات کے نواحی گاؤں چک بھوالا کا معصوم سابچہ تھا۔ جس کے محنت کش والدنصر اقبال کی گاؤں کے زمیندار غلام مصطفیٰ کے ساتھ بجلی کا میٹر ڈیرے پر لگوانے کے دوران 5 ہزار روپے کے تنازع پر تلخ کلامی ہوئی جس کی رنجش پر غلام مصطفیٰ نے ڈیرے پر نہانے آئے نصر اقبال کے 10 سالہ بیٹے تبسم کو بوتلوں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا اور اُس پر گرم پانی انڈیل دیا جس پر تبسم کھیتوں میں چھپ گیا، تاہم سفاک درندے نے اُسے پکڑ کر رسیوں اور کپڑے سے اُس کے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیئے اور پیٹر انجن کی مدد سے اُس کے دونوں بازو تن سے جدا کر دئیے۔

اس کے بعدخود ہی اُسے ہسپتال منتقل کر دیا جہاں وہ اپنے طور پر معاملہ چھپانے کی کوشش کرتا رہا اورہسپتال میں علاج معالجہ کے لئے اپنا خون بھی دیا۔ صورتحال کا علم ہونے پر نصر اقبال نے پولیس کو درخواست دی تاکہ ایف آئی آر درج کر کے قانونی کاروائی کی جا سکے مگر ایس ایچ او تین روز تک ٹال مٹول کرتا رہا جس پر نصر اقبال نے میڈیا کے ذریعے اپنی بات حکومتی ایوانوں تک پہنچائی، جب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو وقوعہ کا علم ہوا تو پولیس کو فوری کاروائی کا حکم دیا ، تب سویا ہوا قانون حرکت میں آیااور پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔

ملزم غلام مصطفی کا کہنا ہے کہ تبسم میرا رشتے میں بھتیجا لگتا ہے ۔ہم معمول کے مطابق کھیل رہے تھے کہ سہواً ایسا ہو گیا جس پر ندامت ہے۔ ادھر دونوں بازؤں سے محروم ہونے والے بچے کا کہنا ہے کہ وہ نہانے کیلئے ٹیوب ویل پر گیا تھا کہ ظالم نے اُسے اپنا شکار بنادیا جبکہ اُس کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے بچے کو نجانے کس بات کی سزا دی گئی۔

میں تقریباً ایک گھنٹہ تک بچے کے پاس بیٹھا رہا اور اُس سے باتیں کرتا رہا اور اس دوران کئی بارمیری آنکھیں نم ناک ہوئیں۔اس بچے کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار گردش کر رہا تھا کہ کاش میں کسی طرح اسکے بازو واپس دلا سکتا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ دنیا میں جہاں سے بھی ممکن ہوا اس بچے کے لیے جدید ترین مصنوعی بازوؤں کا انتظام تو ہو سکتا ہے اور جس ملک میں ضروری ہوا اسے علاج کے لیے تو بھیجا جا سکتا ہے لیکن اس کہ وہ بازوجواللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عنائت ہوئے تھے وہ کوئی بھی انسان اب واپس نہیں دلا سکتا۔ مجھے یہ سوال بھی باربارتنگ کررہاتھاکہ کم سن بچے کو عمر بھر کے لیے اپاہج بنانے والے سفاک شخص کو ایسا کرتے ہوئے اپنی اولاد کا خیال کیوں نہیں آیا۔ ایسے مجرم دھرتی کا ناسور ہیں اور انہیں جو بھی سزا دی جائے کم ہے بچے کے ساتھ انتہائی ظلم ہوا ہے اور اُس کو عمر بھر کے لیے معذور کردیا گیا ہے اب وہ پڑھائی لکھائی بھی نہیں کر سکتا جبکہ وہ پانچویں کلاس کا طالب علم اور پڑھنے لکھنے کا شوقین تھا ۔لیکن اب وہ کوئی بھی لفظ سن کر یاد تو کر سکتا ہے مگراپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوںسے ذہن میں ابھرنے والے مختلف الفاظ کو کاغذ پر اتارنے سے قاصرہ ے۔دس سالہ تبسم کو کیا پتہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہونے والا ہے ، وہ معصوم تو زمیندارکے ڈیرے پر نہانے کے لئے آیا تھا مگر سفاک زمیندار نے اس کے باپ سے رنجش کا بدلہ اس سے لیا اور اس کے دونوں بازو تن سے جدا کر دیئے۔ معصوم بچے کو عمر بھر کے لئے معذور کرنے والا سنگدل اور انسانیت کا دشمن شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں اور اسے کڑی سے کڑی سز ا ملنی چاہیے۔

Shahbaz Sharif

Shahbaz Sharif

وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ضلعی انتظامیہ اور عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ بچے تبسم شہزاد کو علاج معالجہ کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ اوراعلان کیا کہ بچے کے علاج، بحالی اور تعلیم کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ وزیراعلی نے بچے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک بھی دیاا سکے علاوہ وزیراعلیٰ نے فوٹوسیشن بھی کروایااورمیڈیاکے نمائندوں سے گفتگو بھی کی۔ہمارے ملک میں ایک بڑا ستم یہ ہے کہ ایسے دلخراش واقعات پر بھی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں اچھا نظم و ضبط ہے ، ادارے کسی سے ڈکٹیشن لیے بغیر اپنے قواعدو ضوابط کے مطابق کام کرتے ہیں اور ان کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں ہوتی، سرکاری اہلکار اور افسر خود کو وزیراعلیٰ، وزراء اور ان کے سیاسی حواریوں کا غلام سمجھنے کی بجائے ریاست کا ملازم اور آئین کا تابعدار سمجھتے ہیں۔

وہاں کسی غیر معمولی واقعہ پر وزیراعظم، وزیراعلیٰ، صدر یا گورنر کو ظلم کا نشانہ بننے والوں کے گھروں میں جاکر فوٹو سیشن کرانے کی حاجت نہیں ہوتی۔ اس ملک میں آئے روز دل دہلا دینے والی وارداتیں ہوتی ہیں اور اہم شخصیات کی آنسو بہاتے ہوئے تصاویر صفحہ اول کی زینت بنتی رہتی ہیں لیکن اس بے فائدہ مشق سے ہمارے معاشرے اور اداروں کی کارکردگی میں رتی بھر بہتری نہیں آسکی اور یہ بات لکھ کر رکھ لیں کہ ایسی باتوں سے کوئی مثبت تبدیلی آبھی نہیں سکتی۔جس انتظامی مشینری نے معاشرے کو عدل و انصاف دینا تھا اسے سیاستدانوں نے خود اپنے ہاتھوں کرپٹ کیا ہے تاکہ ان کی ہر طرح کی جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل ہو سکے تو پھر ایسے حالات میں قومی رہنما ظلم کا شکار ہونے والوں کے گھروں میں بیٹھ کر آنسو بہانے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ بہتر منتظم وہ ہوتا ہے جس کو کہیں چل کر جانا نہ پڑے۔ اس کی ملک میں موجودگی ہی انتظامی مشینری کو سیدھے راستے پر رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے اگر پاکستانی عوام ظلم کے خلاف میدان عمل میں نہیں نکل سکتی، اگرعوامی جدوجہد سماجی انصاف، انسانی حقوق اور سب کے ساتھ مساوی سلوک جیسے نکات پر مرکوز نہیں ہوسکتی، اگر علماء دین ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے جبر کے مراکز کے ساتھ معاملات درست رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے تو پھر شرمندگی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

جب تک لوگ ظلم کا ہاتھ روکنے کی بجائے ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرنے پر اکتفا کرتے رہیں گے اس وقت تک ملک کا نصیب بالادست، طاقتور طبقات کے ہاتھوں یرغمال بنا رہے گا۔ ایسے میں کسی کے بازو کاٹ دینے پر بھی کوئی آسمان نہیں گرے گا جو بھی پیسہ پھینکے گا جس کے پاس وسائل ہوں گے، جس کے سیاسی سائیں تگڑے ہوں گے اسے کسی بات کا ڈر نہیں ہو گااور وہ تبسم جیسے معصوم بچوں کو ظلم و بربریت کا شکار بناتا رہے گا۔

Malik Jamshaid Azam

Malik Jamshaid Azam

تحریر: ملک جمشید اعظم