fbpx

حوثیوں سے دہشت گرد کا لیبل ہٹا لیں، امریکا سے اقوام متحدہ کی اپیل

Houthis

Houthis

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے سربراہ امریکا سے درخواست کرنے والے ہیں کہ یمن کے حوثی گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا وہ اپنا ارادہ تبدیل کر دے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چند دنوں قبل یمن کے حوثی باغیوں کو غیر ملکی دہشت گرد گروپ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ اس سے جنگ زدہ ملک میں ان کی امدادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے سربراہ مارک لوکاک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی بریفنگ کے دوران امریکا سے اپیل کریں گے کہ وہ یمن کے حوثی گروپ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اپنا ارادہ بدل دے کیوں کہ امریکا کے اس فیصلے کی وجہ سے ‘ملک ایسی بھیانک قحط سالی سے دوچار ہوجائے گا جو گزشتہ تقریباً چالیس برسوں میں دنیا میں کہیں نظر نہیں آئی ہے۔‘

مارک لوکاک نے کہا کہ امریکا کی جانب سے امدادی ایجنسیوں کو لائسنس جاری کرنے اور بعض مراعات دینے کے باوجود یمن میں قحط سالی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ پیر کو کہا تھا کہ وہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک کو ”غیر ملکی دہشت گر د تنظیم” قرار دینے والے ہیں۔

دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد حوثی تحریک کی مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مقابلے کے لیے اضافی ذرائع فراہم ہو جائیں گے۔

سفارت کاروں اور امدادی گروپوں نے اس طرح کے کسی بھی اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے امن مذاکرات خطرے میں پڑے جائیں گے اور یمنی شہریوں کو امداد کی ترسیل میں رخنہ پڑے گا۔ اقوام متحدہ یمن کی موجودہ صورت حال کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دے چکا ہے۔

حوثی رہنماوں نے مائیک پومپیو کے اعلان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایسے کسی بھی فیصلے کی پرواہ نہیں ہے۔

یمن کے حوثی رہنما محمد علی الحوثی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یمن کے عوام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایسی کسی بھی اقدام کی پرواہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ یمنی لوگوں کے قتل اور انہیں بھوکا مارنے میں شراکت دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہاتھا، ”ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اور اس کا برتاؤ دہشت گردی ہے، ہم ٹرمپ انتظامیہ یا کسی بھی انتظامیہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دینے پر اسے جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔”

ایران نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حوثیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اقدام امریکا کی ناکامی کا ثبوت ہے۔”یہ اقدامات اس لیے اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ مغربی ایشیاء میں امریکا کے لیے صورتحال بہت خراب ہے۔”

یمن میں حوثی تحریک کا آغاز سن 1980 کی دہائی میں ہوا تھا۔ یہ زیدیہ مکتب فکر کے احیاء کے لیے شمالی یمن میں قبائلیوں کا ایک وسیع تر اتحاد تھا۔

زیدیہ اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے۔ یہ فرقہ اپنی نسبت زید بن علی بن حسین بن علی کی طرف کرتا ہے اور امام زین العابدین کے بعد امام محمد باقر کی بجائے ان کے بھائی زید بن زین العابدین کی امامت کا قائل ہے۔ اس کا قیام سلفیت کی توسیع کے خلاف عمل میں آیا تھا۔

مقتول صدر علی عبداللہ صالح کی شمالی یمن کے تئیں مبینہ جانبدارانہ اقتصادی پالیسیوں سے بھی اس تحریک کو تقویت ملی۔

حوثیوں نے سن 2000 کے اوائل میں ملیشیا قائم کی۔ کئی دور کی جنگوں اور عرب بہاریہ کے بعد ایران نواز اس تحریک نے سن 2014 میں یمن کے شمالی دارالحکومت صنعا کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

اس کے بعد سے ہی سعودی قیادت میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کے درمیان ہلاکت خیز جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔