بھارتی اداکار پاریش راول مسلمان پروفیسر کی حمایت میں میدان میں آ گئے

Pareshrawal

Pareshrawal

ممبئی (اصل میڈیا ڈیسک) معروف اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن اسمبلی پاریش راول انتہا پسند ہندوؤں کی تنقید اور بدمعاشی کی زد میں آنے والے مسلمان پروفیسر فیروز خان کی حمایت میں انتہا پسند ہندو طلبا پر برس پڑے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں پاریش راول نے سنسکرت میں پی ایچ ڈی کرنے والے پروفیسر فیروز خان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ زبان کا تعلق مذہب سے جوڑنا دیوانہ پن ہے، پروفیسر فیروز خان نے سنسکرت میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کرلی تو اس میں کیا برائی ہے؟ خدارا ہر معاملے میں مذہب کو نہ گھسیٹیں۔

اپنی ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ اگر سنسکرت کو ہندو مذہب سے جوڑا جائے گا تو اس طرح لیجنڈری گلوکار محمد رفیع بھجن نہیں گاسکتے تھے اور نہ ہی موسیقار نوشاد صاحب اسے کمپوز کرسکتے تھے۔ اپنے ایک بیان میں پاریش راول نے کہا کہ مسلمان پروفیسر کو سنسکرت پڑھانے کا مکمل حق ہے۔

واضح رہے کہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے میں سنسکرت زبان کے پروفیسر فیروز خان کو انتہا پسند ہندو طلبا کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ جو سنسکرت کو ہندو مذہب کی زبان سمجھتے ہوئے کسی غیر ہندو کو اس زبان کا استاد ماننے کو تیار نہیں جس پر ہندو طلبا نے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر دھرنا دے رکھا ہے اور پروفیسر فیروز خان کی معطلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔