بھارت: کسانوں کی ملک گیر ہڑتال سے عوامی زندگی متاثر

Neu Delhi Farmer Protest

Neu Delhi Farmer Protest

دہلی (اصل میڈیا ڈیسک) بھارت میں کسان تنظیموں نے ذرعی قوانین کے خلاف بطور احتجاج آج ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے جس سے مختلف ریاستوں میں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بھارت میں متنازعہ ذرعئی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کا یہ دوسرا ہفتہ ہے جبکہ آج 8 دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں، متعدد ٹریڈ یونینوں اور بینک ملازمین کی یونینوں سمیت متعدد تنظیموں نے اس کی حمایت کی ہے۔

ہڑتال کے سبب پولیس نے دارالحکومت دہلی کی طرف آنے والے بیشتر راستے بند کر دیے ہیں اور دہلی کے چاروں جانب سکیورٹی کا سخت پہرہ ہے۔ کسانوں نے قومی شاہراہ نمبر 24 بلاک کردی ہے۔ دہلی کے تقریباً تمام سرحدی پوائنٹ پر مختلف ریاستوں سے آنے والے کسان گزشتہ 13 روز سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان اس سے پہلے کی کئی دور کی بات چيت ناکام ہوچکی ہے۔ اس دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسان تنظیموں کو آج پھر شام سات بجے بات چیت کے لیے دعوت دی ہے۔ یہ اس سلسلے میں چھٹے دور کی بات چيت ہوگی۔

اس ملک گیر ہڑتال کا اثر غیر بی جے پی ریاستوں میں زیادہ ہے جبکہ ہڑتال کے دوران کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بھی احتجاجی مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں بینک دکانیں اور دیگر تعلیمی ادارے و کاروباری مراکز بند ہیں۔ ٹریفک بھی بہت کم ہے جبکہ نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس کی حمایت میں ممبئی اور لکھنؤ کی بڑی سبزی، پھل اور غلے کی منڈیاں بند رکھی گئی ہیں۔ بینک یونین نے ہڑتال کا ساتھ دینے کو کہا ہے ۔ امکان ہے کہ ہڑتال سے دلی میں دودھ، سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی بھی متاثر ہوگی۔ بعض ٹیکسی یونین نے بھی اس ہڑتال میں شامل ہیں اس لیے دلی اور قرب و جوار میں لوگوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہورہی ہے۔

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال کا کہنا ہے کہ انہیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور ایک طرح سے انہیں گھر میں ہی نظر بند کردیا گيا ہے۔ کیجری وال نے احتجاج کرنے والے کسانوں سے ملاقات کی تھی اور وہ ہڑتال میں شرکت کے لیے نکلنے والے تھے تاہم وہ گھر سے نہیں نکل پائے۔ ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ نظر بندی کی وجہ سے ہی انہوں نے دن کی تمام میٹنگیں منسوخ کر دی ہیں۔

دہلی کی پولیس نے ان کے اس دعوے کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ انہیں کہیں بھی جانے کی اجازت ہے اور انہیں حراست میں نہیں رکھا گیا ہے۔ گزشتہ روز ریاست اترپردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو کو بھی کسانوں کی ایک احتجاجی ریلی میں جانے سے روک دیا گيا تھا اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

اس دوران امریکا میں بھی متعدد قانون سازوں نے بھارتی کسانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے رکن ڈاؤ لاملفا نے ایک بیان میں کہا، “میں بھارت میں پنجابی کسانوں کے احتجاج کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہوں۔ “یہ گمراہ کن ، حکومتی ضوابط سے تحفظ کے لیے ہے۔

ایک اور ریپبلکن رکن کا کہنا تھا کہ کسانوں کو حکومتی پالیسی کے خلاف بلا خوف و ہراس پرامن احتجاج کا پورا حق ملنا چاہیے۔ اس سے قبل بھارتی حکومت نے کسانوں کے احتجاج پر بیرونی ممالک کے تبصروں کو غیر ضروری بتاتے ہوئے شدید نکتہ چینی کی تھی۔ اس کا کہنا ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور “غلط فہمی پر مبنی اس طرح کے تبصروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”

سب سے پہلے کینیڈا کے اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی کسانوں کی تحریک کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی جس کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی اس تحریک کی حمایت میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے 36 اراکین پارلیمان نے کسانوں کے مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک راب کو ایک مشترکہ خط لکھ کر اس معاملے کو بھارت کی نریندر مودی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

اتوار کے روز سینکڑوں افراد نے وسطی لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی حکومت دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہوئے کسانوں کی پریشانیوں کو سنے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے ایک افسر کے مطابق مظاہرین نے ‘بھارت مخالف‘ نعرے بھی لگائے۔

امریکی شہر سین فرانسسکو میں بھی غیر مقیم بھارتی شہریوں نے کسانوں کی حمایت میں ریلی نکالی تھی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے بھی کسانوں کی حمایت کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔