بھارت: مسلمانوں کے لیے آئندہ اسمبلی انتخابات کی معنویت؟

India Elections

India Elections

بھارت (اصل میڈیا ڈیسک) اگلے ماہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج بھارتی جمہوریت اور سیاست کا مستقبل طے کر سکتے ہیں۔ ایسے میں بالخصوص اترپردیش کے انتخابات کو بھارتی مسلمانوں کی سیاسی فراست کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت میں انتخابی سیاست کا ماحول ایک بار پھر گرم ہو چکا ہے۔ فروری میں بھارت کی پانچ ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پورمیں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں پنجاب کو چھوڑ کر بقیہ چار ریاستوں میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے۔

سب کی نگاہیں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش (یو پی) پر لگی ہیں، جسے صرف بی جے پی کے لے ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور پورے ملک کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ اس کے نتائج بھارت اور اس کی سیکولر جمہوریت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

سن 2014 کے عام انتخابات میں نریندر مودی کے وزرات عظمیٰ پر فائز ہونے اور اس کے بعد سے ہی بھارت کی دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے بے وقعت کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ بالخصوص یوپی کے انتخابات مسلمانوں کی سیاسی سمجھ بوجھ اور فراست کا امتحان ہیں۔

‘سارا کیا دھرا سیکولر جماعتوں کا ہے’
مسلم دانشور اس سے متفق نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ بے معنی ہوگئے یا کردیے گئے ہیں۔ تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم سیاسی رہنماوں کو بے وقعت ضرور کر دیا گیا ہے۔ اس کے لیے وہ بی جے پی کے بجائے نام نہاد سیکولر جماعتوں کو اصل ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

سیاسی بیداری کے لیے سرگرم تنظیم مسلم پولیٹیکل کاونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی کا کہنا تھا، “اس میں تھوڑا فرق ہے۔ مسلمان لیڈر تو بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ ہندو ووٹ کے نقصان کے ڈر سے نام نہاد سیکولر جماعتیں مسلم رہنماوں کو اپنے قریب آنے نہیں دینا چاہتیں لیکن ہر سیاسی جماعت مسلمانوں کے ووٹ میں سے حصہ ضرور چاہتی ہے۔”

انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، “جہاں تک عام ووٹر کا تعلق ہے تو بی جے پی سمیت ہر سیاسی جماعت مسلمانوں کے ووٹ کو اہم مانتی ہے۔”

نئی دہلی میں واقع تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کا تاہم اس حوالے سے کہنا تھا کہ جو سیاسی جماعتیں ملک کی تاریخ ہی تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں وہ آخر مسلمانوں کو اہمیت کیونکر دینا چاہئیں گی۔

مسلمان آخر کیا کریں؟
آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو ‘ٹیکٹیکل’ یعنی حکمت عملی پر مبنی طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا،” مسلمانوں کو پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کس امیدوار میں جیتنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے اور وہ بھارتی دستور کی حفاظت اور ملک کی ترقی کے حوالے سے کتنا ایماندار ہے، پھر ایسے امیدوار کے حق میں ووٹ دینا چاہئے۔ اور جو امیدوار نامناسب ہو اس کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنا چاہئے۔ یہی مسلمانو ں کی ذہانت اور فراست کا امتحان ہے۔ اگر مسلمانوں نے ذہانت کا ثبوت دے دیا تو معاملہ پلٹ جائے گا۔”

مسلم امیدوار کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے؟
اترپردیش کی 403 اسمبلی حلقوں میں سے تقریبا ً140 حلقوں میں مسلم ووٹروں کی تعداد 20 تا 70 فیصد ہے، لیکن اس کے باوجود ان میں سے بیشتر پر سیکولر امیدواروں کے بجائے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر تسلیم رحمانی کہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری مسلم ووٹروں پر نہیں بلکہ نام نہاد سیکولر جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ “سب جانتے ہیں کہ کس سیٹ پر کس کمیونٹی کا کتنا ووٹ ہے، تو جہاں مسلم ووٹ 30 فیصد سے زیادہ ہے وہاں بھی تمام سیکولر جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کھڑا کردیتی ہیں۔ اس لیے ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں اور بی جے پی بڑی آسانی سے جیت جاتی ہے۔ ”

انہوں نے بتایا کہ یوپی میں پہلے مرحلے کے تحت 10 فروری کو جن 58 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جانے ہیں وہاں سیکولر جماعتوں نے 13 سیٹوں پر تین مسلم امیدوار جبکہ چھ سیٹوں پر دو مسلم امیدوار کھڑے کردیے ہیں۔” اس طرح سیکولر جماعتوں نے 58 میں سے 19 سیٹیں خراب کر دیں۔”

سن 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں بڑی سیکولر سیاسی جماعتوں نے 172مسلم امیدوار کھڑے کیے لیکن مسلم امیدواروں میں ہی مقابلہ کی وجہ سے صرف 24 کامیاب ہوسکے۔ جبکہ 84 سیٹوں پر مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر اور 64 سیٹوں پر تیسر ے نمبر پر رہا تھا۔ اس سے قبل 2012 کے اسمبلی انتخابات میں ریکارڈ 63 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟
مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر رحمانی کا مشورہ ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی ریاست گیر سطح پر حمایت نہ کی جائے بلکہ سیکولر جماعتوں کے امیدواروں کی ان کے جیتنے کی صلاحیت کی بنیاد پر حمایت کی جائے۔ اور این جی اوز اور پریشر گروپوں کو ایسے امیدواروں کے حق میں مہم چلانی چاہئے۔ صرف یوپی میں ہی ایسی 140سیٹوں پر اس طرح کی مہم چلائی جاسکتی ہے۔

آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم اس معاملے کے ایک دوسرے پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں، “مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی اچھے امیدوار کے حق میں جی جان لگا کر مہم چلانے کے بعد جب اسے کامیابی سے ہم کنار کردیتے ہیں تو اس کے بعد کمبل اوڑھ کر سوجاتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ جسے کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی ہے وہ ان کے مسائل کو حل کرنے خود آئے گا۔ یہ نفسیاتی پہلو مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچاتا ہے۔” انہو ں نے مشورہ دیا کہ اپنے منتخب نمائندوں سے تعلقات مسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

کیا مسلم قیادت کا فقدان ہے؟
عام خیال کے برخلاف مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ بات پوری طرح درست نہیں کہ بھارت میں مسلم قیادت کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیادت کا معاملہ دو طرفہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم قیادت کے معاملے کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں،” اگر کسی گھر میں آگ لگ گئی ہو اور لوگ ڈر کے مارے گھر سے نکل کر بھاگے چلے جارہے ہوں وہ پیچھے پلٹ کر یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جو آگ لگی تھی وہ اب بھی لگی ہوئی ہے یا بجھ گئی۔ یہی حال بھارتی مسلمانوں کا ہے۔ وہ صرف قیادت میں خرابی، قیادت کی ناسمجھی اور قیادت میں دوراندیشی کی کمی کا شور مچاتے رہتے ہیں لیکن ذرا ٹھہر کر یہ نہیں دیکھتے کہ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جو کچھ اچھی باتیں کر رہے ہیں۔”

تھنک ٹینک آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کا کہنا تھا “یہ فیصلہ مسلمانوں کو کرنا ہوگا کہ وہ کیسی قیادت چاہتے ہیں۔ ایسی قیادت جو عوام کے جذبات کی تسکین کی باتیں کرے یا جو مستقبل کے خطرات کو محسوس کرکے ان کا جواب فراہم کرے۔ ” ان کا مزید کہنا تھا، “بھارت میں مسلمانوں کو جذباتی بنانے کی نہیں بلکہ ان کے جذبے کو ابھارنے کی ضرورت ہے۔ جذباتیت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔”