ایک اور سانحہ

Peshawar incident

Peshawar incident

تحریر : ایم سرور صدیقی

16 دسمبر کا دن دو اعتبار سے سیاہ ترین دن ثابت ہوا اس تاریخ کو قومٍ ایک سقوط ِ ڈھاکہ کا صدمہ برداشت کرنا پڑا اب دہشت گردوں نے پشاور میں اسی تاریخ کو قیامت بپاکرکے رکھ دی یقینا دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بناکر یزیدیت کی پیروی کی ہے یہ بات شیطان کے پیروکار بھی جانتے ہیں کہ دہشت گردی سے پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے پوری قوم متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اپریشن ضرب عضب کامیاب ہو کر رہے گا دیکھا جائے تو ایک عرصہ سے دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے قوم کو عجب دوراہے پر لاکھڑا کردیا پاکستان میں پہلے بھی بم دھماکے اور ردہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں ان میں شدت نائن الیون کے بعد آئی ہے ہر سال سانحہ ٔپشاور جیسے سانحے قوم کو رلاکر چلے جاتے ہیں حکومت پاکستان اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں

پچاس ہزار سے زائد افراد شہید لاکھ سے زائد معذور اور اپاہچ ہو چکے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھاکر تھک چکے ہیں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ بیشتراسلام دشمن قوتوں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کوآج تک دل سے تسلیم نہیں کیا وہ پاکستان کو نقصان پہچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں جب سے پاکستان ایٹمی قوت بناہے ان کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اس لئے غالب خیال یہ ہے کہ پاکستان کے حالات خراب کرنے میں اسلام دشمن طاقتوںکا کلیدی رول ہے اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ بھی عین ممکن ہے کہ کچھ طالبان کو درپردہ ان کی حمایت حاصل ہو۔۔

Terrorism

Terrorism

فوجی اور سیاسی قیادت نے” ضرب ِ عضب” کے نام پر دہشت گردوںکے خلاف بے رحم اپریشن جاری ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دہشت گردی کا دی اینڈ ہونے والا ہے سانحہ ٔ پشاور اسی کا رد ِ عمل ہے۔دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن ہیں ایسے لوگوںکو کسی قیمت پرمعاف نہیں کیا جا سکتا پاک فوج جیٹ طیاروں سے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنارہی ہے ۔یہ اپریشن اس لئے بھی ضروری تھا حکومت اورعسکری قیادت نے بڑے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن آگ اور خون کا کھیلنہیں رک سکا۔۔۔اسلام میانہ روی کا حکم دیتاہے لیکن اسلام کے نام پر اپنے کلمہ گو بھائیوں کے گلے کاٹنا، اسلام کے نام پر دہشت،خوف وہراس ، دین کے نام پر بم دھماکے، خودکش حملے،اسلام کے نام پر مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں اور سکولوں کو نشانہ بنانا، ٹرینوں پر حملے اور بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے دل سے آہوں کی صورت میں یہ دعا نکلتی کہ خداکرے مملکت خدا داد میں مستقل امن اور سکون کا دور دورہ ہو۔ اسلام کے نام دوسروں کے گلے کاٹنا انتہائی قابل ِ مذمت فعل ہے اسلام نے تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیا ہے ۔ سلامتی کے مذہب نے جانوروں سے بھی صلہ رحمی کا درس دیاہے انتہا پسند اپنے رویہ پر نظرثانی کریں پاکستان میں امن کا قیام ہی ہم سب کے بہترین مفاد میں ہے۔جن علاقوں میں طالبان کا اثرورسوخ زیادہ ہے ان میں عام آدمی کی حالت انتہائی قابل ِ رحم ہے وہاں نہ کوئی انڈسٹری ہے نہ صنعت۔۔۔ایک سیاحت وہاں کا واحد ذریعہ ٔ روزگار تھا

جو دہشت گردی کی نذر ہو گیا۔ شمالی علاقہ جات کے شہری ان حالات کی وجہ سے زندگی سے عاجزآئے ہوئے ہیں اس لئے حکومت ان علاقوں کی ترقی کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔’یہ بھی کہا جارہاہے کہ پاکستان میں طالبان کی آڑ میں غیر ملکی طاقتیں دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کا مقصد اور خواہش ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے داخلی اور خارجی مسائل میں الجھارہے تاکہ بر ِصغیر میں امریکہ اور بھارت کی مناپلی قائم رہے کمزور اور سیاسی و معاشی لحاظ سے عدم استحکام سے دوچار پاکستان ہر لحاظ سے عالمی طاقتوںکے فائدے میں ہے ۔۔۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ طالبان پاکستانی حکومت کو دہشت زدہ کرکے اپنی شرائط پر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں ‘اپریشن ضرب ِ عضب” شروع کرنے پر پاکستانی قوم کی تمام تر ہمدردیاں اور دعائیں اپنی بہادر افواج کے ساتھ ہیں اللہ کرے پاکستان سے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے اور ایک پائیدار امن کا قیام ہمارا مقدر بن جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گرداسلام ، پاکستان،جمہوریت اور ترقی کے دشمن ہیں ان سے ملک دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے اور ‘اپریشن ضرب ِ عضب کو ہر صورت اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو سختی سے کچل دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا فرض بنتاہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے تائب ہونے والوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کو پر امن زندگی گذارنے کیلئے مراعات دی جائیں۔ ۔سانحہ ٔ پشاور پر پوری قوم خون کے آنسو رو رہی ہے یہ واقعہ انسانیت کا قتل، ظلم اور بربریت ہے سفاک دہشت گرد اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے معصوم بچوں کا قتل ِ عام کرنے والوںکو سرعام پھانسی دی جائے ایسے سانحات سے پاکستان کی بقاء اور سا لمیت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں

حکومت جب تک دہشت گردوںکا نیٹ ورک توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتی ایسے واقعات نہیں روکے جا سکتے مائوںکی گود اجاڑنے والے وحشی، جنگلی اور درندے ہیں ان کو ختم کئے بغیر ملک میں امن نہیں ہو سکتا سانحہ ٔ پشاور ایک قومی المیہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان مسلسل قربانیاںدے رہا ہے پشاور میں سکول پرحملے سے پوری قوم غمزدہ ہے یہ درندگی کی بدترین مثال ہے اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین و بچوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت کرتاہے دہشت گردوںکے خلاف جاری اپریشن منطقی انجام تک پہنچانا اشد ضروری ہے پاکستان کو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنجزکا سامناہے اب وقت آگیاہے کہ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکا جائے پشاور میں معصوم بچوںکو نشانہ بنانے کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے حکومت پاک وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا عزم رکھتی ہے۔دہشت گردی سے پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے پوری قوم متاثرین کے غم میں برابرکے شریک ہیں اپریشن ضرب عضب کامیاب ہوکررہے گا۔

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

تحریر : ایم سرور صدیقی