جماعت اسلامی کی افغان پالیسی

Jamaat-e-Islami

Jamaat-e-Islami

تحریر : میر افسر امان

جماعت اسلامی ایک اسلامی نظریاتی دینی سیاسی جماعت ہے۔اس کی جو پالیسی امت مسلمہ کی ہے وہی افغانوں کے لیے بھی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان ایک انسانی جسم کی طرح ہیں۔ جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر مشکل آئی جماعت اسلامی ان کی مدد کے لیے اُسی وقت ان کی مدد کے لے اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ساری دنیا گواہ ہے کہ جب فلسطین پر اسرائیل ظلم کرتا ہے تو پاکستان میں جماعت اسلامی ان کی مدد کے لیے فنڈ قائم کرتی ہے۔فلسطین کے حق میں پاکستان میں کئی بار ملین مارچ پیش کر چکی ہے۔

فلسطین کے مرکزی لیڈر ان ملین مارچ میں ٹیلیفونک خطاب بھی کرتے رہے ہیںاسی طرح کشمیر کے مسئلہ پر جماعت اسلامی کی خدمات کو پورا پاکستان داد دیتا ہے۔ قاضی حسین سابق امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر پاکستان میں ١٩٩٢ء سے ہر سال یوم یکجہتی کشمیر عوام اور حکومت مناتی ہیں۔ مْقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی جماعت اسلامی کا تحریک آزادی میں بڑا رول رہا ہے۔ اس جرم جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھر اور پرپرٹیاںجلا دیں گئی۔ جماعت اسلامی کے فلاحی اور تعلیمی اداروں کو مودی حکومت نے ضبط کر لیا۔ اب تودہشت گرد ہٹلر صفت مودی جماعت اسلامی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ چیچینیا پر جب روس نے حملہ کیا اور آزاد ی کی تحریک کو کچلنا چاہا تو چیچینیا کے صدر پاکستان تشریف لائے تھے۔ جماعت اسلامی نے ان پورے پاکستان متحارف کرایا۔ فنڈ جمع کر کے دیے۔ اور عوام کے لیے پورے ملک میں ریلیاں نکالی۔

بوسنیا پر سربوں نے زندگی تنگ کر دی۔ شہری آبادی پر فوجی ٹینک چڑھا دیے۔بستیوں بمباری سے نیست و نابود کر دیں گئیں۔جماعت اسلامی نے بوسینیا کی سفیر ساجدہ سلاجک کو پاکستان میں شہروں شہر بوسنیا کی عوام پر سربوں کے مظالم سنانے کے لیے دورے کرائے۔ عین جنگ کے زمانے میں قاضی حسین احمد نے بھاری امداد لے کر خود بوسینیا پہنچے تھے۔

برما پر جب ہنسا کے پوجاریوں اور برما کی فوج نے گائوں کے گائوں جلا دیے۔ مساجد مدارس کو جلا دیا۔ لاکھوں برمی مسلمانوں کے ملک چھوڑنے پر مجبور کی اور وہ برما اور بنگلہ دیش کی سرحد پر بے یارمددگار بے آسراہ پہنچے تو جماعت اسلامی کے کارکن ان کے لیے امدادی سامان لے کر وہاں پہنچے۔ پاکستان میں جگہ جگہ برما ریلیف کیمپ لگا کر نقد امداد جمع کر کے ان تک پہنچائی۔اسی طرح عراق پر امریکی حملے کے خلاف پاکستان میں آواز اُٹھائی،لیبیا پر مغربی مظالم کے خلاف پاکستانی عوام کو آگاہ کیا۔غرض پوری مسلم دنیا کی جماعت اسلامی پشتی بان جماعت ہے۔

جب سویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو جماعت اسلامی نے افغانستان کے مسلمانوں کے حق میں اُٹھ کھڑی ہوئی۔ افغانی لاکھوںکی تعدد میں ہجرت کے پاکستان آئے۔جماعت افغانیوں کی مالی اور عملی مدد کی۔ افغان مہاجرین کی آباد کاری میں حصہ لیا۔ افغان زخمیوں کے لیے اپنے ہیڈ کواٹر منصورہ لاہور،کوئٹہ اور پشاور میں سرجیکل ہسپتال قائم کیا۔ مہاجر کیمپوں میں بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔پھر روس کو افغانیوں نے شکست دی۔دنیا کے نقشے سے سویت یونین مٹ کیا۔صرف روس باقی بچا۔روس کی شکست سے اس کی کئی ریاستی جن میں چھ اسلامی ریاستیں، اسلامی ریاستوں قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائیجان ، اور تاجکستان کی شکل میں آزاد ہوئیں ۔ دیوار برلن ٹوٹی۔ آدھا یورپ آزاد ہوا۔٣٠ اگست ٢٠٢١ء افغانستان کی تاریخ کا وہ یاد گار دن ہے جس دن دورِ جدید کے عالمی استعمار امریکا نے افغانستان سے اپنی فوج نکالی ۔ اس کا پٹھو حکمران اشرف غنی ملک چھوڑ گیا۔ امریکا کی تیار کی گئی فوج نے بھی طالبان کے سامنے ہتھیا ڈالے اور افغانیوں نے کابل بغیر خوب خرابے کے فتح کر لیا۔ اس سے قبل ١٩١٩ء میں برطانیہ عظمیٰ نے بھی افغانوں سے شکست کھائی تھی اور مشہور ہے کہ اس کی فوج کے ایک ڈاکٹر کو زندہ چھوڑا گیا تھا کہ اپنی فوج کا حال بیان کرے۔ اس کے بعد ١٩٨٩ء میں سویت یونین کو بھی شکست ہوئی اور وی اپنی فوجیں نکال لے گیا۔ اس کے پٹھو حکران نجیب اللہ تین سال تک افغانیوں کے ساتھ مزاحمت کرتا رہا۔ اس کے مظالم کی وجہ سے اس کی لاش کا افغانیوں نے کابل کے صدارتی محل کی دیوار پر لٹکایا تھا۔ اس طرح تاریخ انسانی میں” افغانستان سلطنتوں کا قبرستان” ثابت ہوا۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر ابراھیم کے مطابق٦٠ ء کی دھائی میں ظاہر شاہ کے دور حکومت میں روسیوں نے افغانوں کے اندر کیمونسٹ نظریات کی ترویج کا کام شروع کیا۔ کابل یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے اندر اس پر تشویش کی ایک لہر دوڑ گی۔ پروفیسر غلام محمد نیازی اور طالب علم رہنماعبدالرحیم نیازی نے کیمونسٹ نظریات کے مقابلے کا عزم کیا۔ اس کے مقابل اسلام کے نظریہ حکومت کی منظم جد وجہد شروع کی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی،استاد عبدل رب سیاف اور انجینئر گلبدین حکمت یار اس تحریک کے سرخیل رہے۔

جماعت اسلامی پاکستان افغانستان کی اس اسلامی نظریاتی جد وجہد کے ساتھ رابطے میں رہی۔ قاضی حسین احمد اس کام کے واسطہ بنے۔ انھوں اس دور میں افغانستان کے بے شمار دورے کیے۔جماعت اسلامی نے افغانستان کے بارے ایک تاریخی اور انقلابی کردار ادا کیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جس کے دست راست میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی تھے۔قاضی حسین احمد نے افغان امور میںامیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد اور بعد میں سکرٹیری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کی حیثیت سے ان کے معاون خاص کا کرادر ادا کیا۔مولانا غلام حقانی اور سید منظور حسین باچا مرحوم و مغفور اس انقلابی دور میں صوبہ سرحد کو امیر اور سکرٹیری رہے۔طویل افغان سر حد پر اپنے قائدین کی قیادت میں جماعت کے کارکنان افغان مہاجرین کے استقبال کے لیے ہر جگہ موجود رہے۔ لٹے پٹے افغانوں کے لیے اپنے وسائل کے مطابق سر چھپانے اور قیام وطعام کا انتظام کرنے میں لگ گئے۔ جلد ہی دنیا بھر سے جماعت اسلامی کی اپیل پرافغان مہاجرین کے لیے امدادی سامان کا سلسلہ شروع ہوا۔ان میں وہ قوم پرست حضرات بھی آئے جو کابل اور جلال آباد میں ولی خان اور غفار خان کی میزبانی کرتے تھے۔مگر ولی خان روسیوں کی دوستی میں افغان مہاجرین کے مخالف ہی رہے۔ بلکہ الزام لگاتے تھے کی جماعت اسلامی کے امیر میں طفیل محمد کو مہاجرین میں جانے کی اجازت ہے جبکہ وہ اس سے محروم ہیں۔ بھائی !آپ کو مہاجرین کی مدد سے کس نے روکا ہے۔

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد نے اسلام آباد میں ایک ادارہ انسٹیٹیوٹ آف فارن پالیسز قائم کیا ہوا ہے۔اس ادارے میں کئی ریسرچ اسپیشلسٹ کام کرتے ہیں۔ فارن پالیسیز پر سیمینارز منعقد کرائے جاتے ہیں۔ یہ ادارہ بین لاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ہے۔ اس کی پرنٹنگ پریس میں مایا ناز مصنفین کی کتابیں شائع ہوتیں ہے۔ ایک بڑی لائبیریری بھی ہے۔ کتابوں کی فروخت کا بڑا ادارہ ہے۔ سویت یونین کے افغانستان پر قبضہ سے بہت پہلے پروفیسر خورشید احمد نے اپنے کچھ حضرات کو اس امر کی تحقیق پر لگایا تھا،کہ کیا وجہ ہے مسلم دنیا کے کئی ملک آزاد ہو گئے ہیں، مگر ترکی سے سنکیاک تک کی مسلم ترکستان کی ریاستیں سرخ ریچھ سے اب تک کیوں آزاد نہیں ہوئیں۔ یہ لوگ ترکی گئے اور وہاں سے معلومات اکٹھی کیں۔

روس میں خفیہ طریقے سے داخل ہوئے اور وہاں سے بھی موداد اکٹھا کیا۔ آباد شاہ پوری مصنف نے اس حال احوال کو ” روس میں مسلمان قومیں” اور” ترکستان میں مسلم مزاحمت” کتابوں میں بیان کیا۔ اس کا مختصرنقشہ جو مصنف کھینچا ہے وہ یہ ہے کہ تقریباً٣٥٠ سال سے پہلے زارِ روس کی حکومت اور اس کے بعد اشتراکی روس کی حکومت نے ترک مسلمانوں سے علا قوں پر علاقے فتح کیے۔ ایک طرف سنکیاک تک اور دوسری طرف دریائے آمو تک کے علاقے فتح کر لیے۔ اب وہ چاتے ہیںکہ افغانستان اور پاکستان سے ہوتے ہوئے خلیچ کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کریں ۔ ان کتب میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ سویٹ یونین دریائے آمو کی سرحد پارکر کے افغانستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ سویت یونین کے بانی حکمران ایڈورڈ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ دنیا میں وہ قوم حکمرانی کرے گی جس کے قبضے میں خلیج کاعلاقہ ہو گا۔فطرت کے مقاصد کی ترجمانی کرنے والے افغانوں نے پہلے برطانیہ اور روس کو شکست دی اور ان امریکا اور اس کے ٤٨ صلیبیی اتحادیوں کو شکست سے دو چار کیا جس میں بلاشبہ جماعت اسلامی کی افغان پالیسی بھی دخل ہے۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان